عشق کے قیدی ----دیباچہ---- ظفرجی
عقیدہء ختمِ نبوّت کو اسلام میں بنیادی اہمیت حاصل ہے- چودہ سو سال سے مسلمان بالاتفاق سیّدنا محمد ﷺ کو اللہ کا آخری نبی اور رسول مانتے آئے ہیں- ختمِ نبوّت کے متعلق قران کی تصریح اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا جھوٹے مدعیانِ نبوّت سے جنگ کرنا اس امر کا شاھد ہے کہ اس عقیدے سے انکار ، انحراف یا اس کی من چاہی تاویل دراصل اسلام کے بنیادی عقائد سے روگردانی ہے-
مرزا غلام احمد قادیانی نے تاریخ میں پہلی مرتبہ "خاتم النبییّن" کی یہ نرالی تفسیر دریافت کی کہ نبی ﷺ (معاذاللہ) سلسلہء انبیاء کی مہرِ تصدیقی ہیں ، اور حضور ﷺ کے بعد اب جو بھی نبی آئے گا وہ آپ ﷺ کی مہر سے تصدیق شدہ ہوگا- اس طرح نبوّت کا ایک خود ساختہ دروازہ کھول کر نہ صرف اس نے نبوّت کا دعوی کر دیا بلکہ ہر اس شخص کو بھی کافر قرار دے دیا جو اس کی خود ساختہ نبوّت کا منکر تھا- چنانچہ قادیانی جماعت مرزا کو من و عن نبی تسلیم کرتے ہوئے ھندوستان بھر میں اپنے باطل افکار کی نشرو اشاعت میں مصروف ہو گئ-
اہل فرنگ کی اس فتنہ گری کے خلاف علمائے حق کی پرامن مزاحمت "تحریکِ ختمِ نبوّت" کہلاتی ہے-
یہ تحریک اب تک تین نازک ادوار سے گزر چکی ہے- پہلا دور 19 ویں صدّی کی آخری دہائ سے لیکر 20 ویں صدّی کے اوائل تک تھا جب فقہی مناظروں ، مباہلوں دلائل اور منطق سے اس فتنے کا پیچھا کیا گیا- 1907ء میں لاہور کی احمدیہ بلڈنگ میں مرزا کی لاچار موت کے بعد یہی قیاس تھا کہ اس فتنے کی دھول اب بیٹھ جائے گی لیکن انگریز نے یہ گتھّی بہت سوچ کے الجھائ تھی- چنانچہ دورِ غلامی میں یہ فتنہ اندر ہی اندر پروان چڑھتا رہا-
عالمی جنگوں کے بعد علمائے برصغیر خلافت کے بکھرے تارپور سمیٹنے میں مصروف ہوئے تو مرزائ جدّت پسندی کی چادر اوڑھ کر انگریز کا کاسہ لیس بن گیا- مسلمانوں کے کوٹے پر سرکاری ملازمتوں کا حصول اور اعلی انتظامی عہدوں پر قبضے کے بعد وہ ایک الگ مذھبی ریاست یا صوبے کے خواب دیکھنے لگے - تقسیمِ ھند کے وقت اس کی نظر لا الہ الا اللہ کے نام پر قائم ہونے والی اس ریاست پر تھی چنانچہ وہ اپنا "متبرک قادیان" چھوڑ کر یہاں آگیا- مہاجرین کی آبادکاری اور دیگر مسائل میں الجھی ہوئ نومولود ریاست کو مرزائیت کی ریشہ دوانیوں کا نہ تو شعور تھا اور نہ ہی کوئ دلچسپی-
قائداعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد مسند اقتدار پر مذھب بیزار مغرب پسند اشرافیہ مسند نشین ہوئ تو ریاستی مشینری پر قادیانیّت غالب آ چکی تھی- چنانچہ فوج میں الفرقان بریگیڈ کا قیام ، وزارتِ خارجہ میں سرظفراللہ کی پھرتیاں ، چک ڈگیاں عرف ربوہ میں دارالخلیفہ کا قیام ، مسلح رضاکاروں کی پریڈ ، اسلحے کے انبار ، پاکستان کو مسیحِ موعود کی سرزمین بنانے کے دعوے ، تبلیغ کےلئے سرکاری مشینری کا وسیع استعمال ، سادہ لوح عوام کو ملازمت ، گھر اور شادی کا لالچ دیکر مرتد بنانے کی مہم ، بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کے ارادے اور مرکزی کابینہ کے وزراء کو ربوے کی سیر کروا کے روشن پاکستان کے خواب دکھانے سے اس طائفے کے عزائم کھل کر سامنے آنے لگے-
ان حالات میں تحریکِ ختمِ نبوّت کا دوسرا اور سب سے کڑا مرحلہ شروع ہوا-1951ء سے لیکر 1953ء تک جاری رہنے والی اس تحریک کی قیادت جمیعتِ علمائے پاکستان نے کی- اور یہ جنگ مجلس احرارالاسلام ، جمیعتِ علمائے اسلام ، جماعتِ اسلامی ، جمیعت اہلحدیث ، پیر صاحب آف سیال شریف ، پیر صاحب آف گولڑہ شریف ، انجمنِ تحفظِ حقوقِ شیعہ ، اور دیگر اسلامی جماعتوں نے مل جل کر لڑی- قریہ بہ قریہ ، شہر بہ شہر چلنے والی اس تحریک کو ریاستی جبر نے اگرچہ خاک وخون میں تڑپا کر اکابرین کو پسِ زنداں دھکیل دیا- لیکن قادیانیت کے بُت پر جو ضربِ براھیمی اس تحریک نے لگائ ، اسی کے نتیجے میں یہ کافر ٹھیک بیس بس بعد مونہہ کے بل آن گرا-
"عشق کے قیدی" اسی خونی تحریک کے پس منظر میں لکھا گیا ایک کلاسیکل ناول ہے- تاریخ ، جو ابھی زیادہ پرانی نہیں ہوئ اسے ناول کا روپ دینے کےلئے منظر نگاری اور مکالمہ جات کا سہارا لیا گیا ہے- 53 اقساط پر مشتمل یہ ناول تحریکِ ختمِ نبوت 1953ء کا مکمل احاطہ تو نہیں کر سکتا ، البتہ قاری کو اس دورِ ابتلا میں لے جانے کی سعی ضرور کرتا ہے جب "ختم نبوّت" کے الفاظ زبان سے نکالنا پھانسی کے پھندے پر جھولنے کے مترادف تھا- ہماری بدقسمتی ہے کہ ایک عام مسلمان آج بھی مرزائیت کو محض مسلک کا اختلاف سمجھ اس فتنے کی حشر سامانیوں سے ناواقف ہے- ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ عام مسلمانوں کو اس فتنے کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے-
"عشق کے قیدی" میرا پہلا " 3DD" تمثیلی ناول ہے- اس سے پہلے "معشوقہء پنجاب" اور "ڈیڑھ صدّی" میں "مصنف" اور "کردار" ساتھ ساتھ چلتے تھے- مصنف ظاہری منظرنامہ ( Exterior Scene ) پیش کرتا تھا اور کردار حقائق نامہ ( Factsheet) سے آگاہ کرتا تھا- اس ناول میں پہلی بار (Third Party Preview) کا تجربہ بھی کیا گیا ہے تاکہ اس دور کے حکومتی مؤقف کی درست منظر کشی بھی کی جا سکے اور ذاتی آراء کو کم سے کم بیان کر کے اصل حقائق کے خدوخال تراشے جا سکیں- اس کے علاوہ مختلف کرداروں کو ان کی اصل زبان اور لہجے میں سامنے لانے کی کوشش کی گئ ہے- اس مقصد کےلئے نہ صرف ایک ایک کردار کو تفصیل سے پڑھا گیا ہے بلکہ جہاں تک ہو سکا ان کرداروں کی نایاب آڈیوز حاصل کر کے ان کی تقاریر کے مکالموں کو انہی کے رنگ میں لکھنے کی کوشش کی گئ ہے-
میں جناب رعایت اللہ فاروقی اور بھائ محمد فیصل شہزاد کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے قدم قدم پر میرا حوصلہ بڑھایا- تکنیکی تعاون کے لئے جناب Qadir Ghori اور Safdar Cheema کا شکر گزار ہوں ، جنہوں نے مختلف لینگویج کے مکالمہ جات کی تیاری میں دستگیری فرمائ- کراچی کے مشہور آرٹسٹ Haider Jee ، جنہوں نے سیریل کا لے آؤٹ ڈیزائن تیار کیا اور ممتاز نعت خوان جناب محمد عرفان السعید صاحب ، جنہوں نے ہماری فرمائش پر 19500ء کے عشرے کی مشہور نعتیں ریکارڈ کروا کے بھیجیں جو ہم وقتاً فوقتاً پیش کرتے رہیں گے-


No comments:
Post a Comment