QISSA HATIM-TAI EP#16


قصّہ حاتم طائ ----16--- ظفرجی

ھم دونوں سائیکل پر بیٹھ کر مولوی کی تلاش میں نکلے-

صادق ڈرائیونگ سیٹ پر تھا اور میں ٹانگیں لٹکائے پیچھے ہچکولے کھا رہا تھا- "جامن والے کھوہ" پر اچانک سیکل کی چین اتر گئ- اگلا پہیہ گندی نالی میں جا پھنسا- ھم دونوں ایک دوسرے کے اوپر گرے اور سائیکل ہمارے اوپر- اڈّے پر بیٹھے لوگ قہقہہ لگا کر ہنسے-

صادق کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھا اور مجھے صلواتیں سنانے لگا:

" منحوس طلاقی !! تیری وجہ سے میری وی مٹّی پلیت ہو رہی ہے "

میں خاموش رہا- آخر کہ بھی کیا سکتا تھا- وہ سیکل اسٹینڈ پر کھڑی کر کے کافی دور جا کھڑا ہوا گویا مجھے جانتا ہی نہ ہو-

میں کچھ دیر گندے چین سے ہاتھ کالے کرتا رہا پھر اسے آواز دی:
"آ جا استاد !!! چڑھ گیا ای چین ... "

قسمت آج رسواء کرنے پر تُلی تھی- "کھِڈّی والا" کے قریب تھے کہ صادق ہوا میں پیڈل چلانے لگا اور سیکل سُستی و کمزوری کا شکار ہوتی چلی گئ-

" اب کیا ہوا اُستاد !!" میں نے ایک بار پھر چھال مارتے ہوئے پوچھا-

" تیری ماں دا کھسم ہویا ... " وہ پھٹ پڑا- "بندہ کسے کُتّے نوں سیکل تے بٹھا لے پر طلاقی نوں دفعہ دور کرے .. !! "

"ہوا کیا ہے ؟؟" میں نے اس کے الفاظ کا نشتر سینے پر برابر جھیلتے ہوئے پوچھا-

"کُتّے فیل ہو گئے نیں ....... تیری پھُپھی دے !! "

میں اسے وہیں کھڑا کر کے سیکل کو ایک جھاڑی کی اوٹ میں لے گیا- کچھ دیر بعد ازار بند اور سیکل سنبھالتا ہوا واپس آیا اور کہا:

" آ جا اُستاد .... کُتّے پاس ہو گئے !!!"

خدا خدا کر کے عصر تک ہم " گِدڑ پِنڈی" پہنچے- مسیت کی تلاش میں پھر رہے تھے کہ ایک لحیم شحیم مولوی پر نگاہ پڑی جو پائنچے خوب چڑھائے ٹانگیں کھولے چوک میں کھڑا تھا-

صادق نے وہیں بریک لگائ- مجھے اس کے پاس جانے کا اشارہ کیا اور خود پیڈل مارتا ہوا کافی دور جا کھڑا ہوا گویا میں کوئ ڈاکہ ڈالنے جا رہا ہوں-

میں ڈرتا جھجھکتا اس بغیر ٹوپی والے مولوی کے پاس پہنچا- پھر سلام کر کے توصیف و تعریف کی راہ نکالنی شروع کی-
میں نے کہا :

" اس دورِ پرفتن میں .... جب مولوی پر اللہ کی زمین تنگ ہو چکی ... آپ کا یوں ٹانگیں پھیلا کر کھڑا ہونا ... یقیناً کمال کی بات ہے !!! "ِ

اس پر وہ چوڑا ہو کر بولا:

" ایہہ میرا نئیں .... میرے مسلک دا کمال اے .. !!!"

یہ سن کر میں نے اپنی اسلامی کیسٹ فروشی کا تجربہ آزمایا اور علمائے اہلحدیث کی شان میں وہ قصائد پڑھے کہ پتھر بھی سنتے تو موم ہو جاتے- صادق دور کھڑا کن اکھیوں سے ہمیں دیکھتا رہا-

مولوی کو اچھی طرح شیشے میں اتارنے کے بعد میں نے کہا:

"اے رہبرورہنمائے امّت !! مسئلہء طلاق درپیش ہے- بہت دور سے چل کر آئے ہیں- بہت پریشان ہیں- شاید آپ کے فتوی سے ایک غریب کا بجھا ہوا چُولھا پھر سے جل اٹھے !!"

وہ بولا:

"ست بسم اللہ !!! جی آیاں نوں ... آس پاس دے 25 دیہات دے بُجھے چولھے اساں خود جلائے نیں ..... گنجلک طلاقی مسائل سلجھان دا 25 سالہ تجربہ ہے ... جہڑے مسئلے پیر فقیر حل نئیں کر سکدا ... او مولوی بشیر حل کردا اے .... آؤ میرے پِچھّے پچھّے !!!! "

Story: QISSA HATIM TAI
Sub Story: Mullan Pur Ka Sain
Region: A Village near Kamalia Toba Tek Sing
Era: 1980,s
A classical factious novel based on true story.

No comments:

Post a Comment