عشق_کے_قیدی -- 52-- ظفرجی
ہم پیدل چلتے چلتے ہم برکت علی اسلامیہ ہال پہنچ گئے-
ہال خالی تھا اور گیٹ پر ایک چوکیدار بیٹھا اونگھ رہا تھا-
" رحمت علی گیٹ کھولئے گا ... ہم کچھ دیر اندر بیٹھنا چاہیں گے ... "
رحمت نے ہال کا مرکزی دروزاہ کھول دیا- ہم برامدے میں رکھّی کُرسیوں پر بیٹھ گئے-
"ہاں تو کیا بات چل رہی تھی ..... ؟؟ " چاند پوری نے بیٹھتے ہی پوچھا-
" شاید ..... مُطمئن انگریز کا ذِکر ہو رہا تھا .... " میں نے ذھن پر زور دیتے ہوئے کہا-
" جی بالکل .... انگریز پنجاب کی طرف سے بالکل مطمئن تھا .... پنجاب ان دنوں علماء سے کہیں زیادہ پیروں فقیروں کا صوبہ تھا .... اہل پنجاب تعلیمات کے مقابلے میں کرامات کے شیدائ تھے .... چنانچہ مرزا صاحب نے یہاں بھی اپنا جال بچھایا .... 1894ء اس نے خواجہ غلام فرید (رح) سے بزریعہء خط و کتابت تعلق بنایا .... اپنی عقیدت مندی اور اسلام کی خیر خواہی کا ڈھونگ رچایا .... درویش صفت صوفی شاعر نے جواباً خیر کا سندیسہ بھجوایا .... تو مرزا نے ان خطوط کو اشتہار بازی کا ذریعہ بنایا ....اور پیر پرستوں کو بھی اپنا گرویدہ بنایا ... !!!
علماء کا ایک وفد مولانا بٹالوی کی قیادت میں خواجہ صاحب سے ملنے چاچڑاں شریف آیا .... پیر فرید کو سب احوال سنایا ..... لیکن خواجہ صاحب نے اپنی نرم خوئ اور صوفیانہ مزاج کے باعث اتنی عجلت میں کوئ فیصلہ نہ فرمایا .... سو وفد ناکام واپس آیا ... بعد میں جب خواجہ صاحب کے پاس مرزا کی نئ کتب پہنچیں تو انہوں نے بھی مرزا سے بیزاری کا اظہار فرمایا ... انہی دنوں پیغامِ اجل آیا اور پیر صاحب نے جہانِ فانی سے کوچ فرمایا .... !!!
علمائے ھند نے باہمی اتفاق کی تصویر بن کر حضرت پیر سید مہر علی شاہ جیلانیؒ کا دروازہ کھٹکایا .... مرزا کے دعوئ مسیحت کا ثبوت دکھلایا .... تو پیر صاحب نے فتنہء قادیانیت کی سرکوبی کےلئے مدد اور رہنمائ کا وعدہ فرمایا !!!
مرزا صاحب لکڑی کے جس گھوڑے پر سوار تھے ، وہ ان کا نظریہء حیاتِ مسیح تھا ..... پہلے مینارہء مسیح بنوایا .... پھر قادیان کو دمشق بتلایا اور آخر کار لدھیانہ بھی " لُد" قرار پایا ... !!!
پیر مہر علی شاہ صاحب نے 18999ءمیں ”شمس الہدایہ“ تصنیف فرمائ .... حیات مسیح اور نزولِ عیسی ع کے موضوع پر دلائل و برہان کی شمع جلائ .... اور مرزا غلام احمد کے دعوئ باطلہ کو خوب دُھول چٹائ .... مرزا صاحب ”شمس الہدایہء“ کا کیا جواب دیتے .... فوراً مجلس ابلیس بٹھائ .... حکیم نورالدین کے مشورے سے بارہ سوالوں کی ایک کھچڑی پکائ .... اور پیر صاحب کو بزریعہء خط بھجوائ .... !!!
پیر صاحب نے بارہ سوالوں کا جواب بصورتِ اشتہار شائع کرایا .... مرزا کے کذب و افتراء پر براھیمی کلہاڑا چلایا .... مرزا سٹپٹایا اور بیس مربیّوں کے دستخط سے مقابلہء تفسیر نویسی کا پیغام بھجوایا ..... پیر صاحبؒ نے جواب میں بیس علماء کے دستخط سے مباحثے کا چیلینج بھجوایا .... پنجاب ، سرحد اور دوسرے صوبوں سے علماء و مشائخ کو بلوایا .... اور 25 اگست 1900ء ، بمقام شاہی مسجد لاہور ، مباحثے کا دن قرار پایا !!!
24 اگست 19000ء حضرت قبلہ پیر صاحب نے لاہور میں قدم رنجہ فرمایا تو ..... اسی ہال میں ڈیرہ لگایا .... !!!! "
"برکت علی اسلامیہ ہال ؟؟ "
" جی بالکل .... برکت علی اسلامیہ ہال .... علما و مشایخ نے آپ کا تاریخی استقبال فرمایا .... رات گئے تک عقیدت مندوں نے حلقہ جمایا .... اگلے روز آفتابِ چشت علماء و مشائخ کے جلو میں شاھی مسجد تشریف لایا .... اس تاریخی مباحثے کو دیکھنے کےلیے عوام کا سمندر امڈ آیا ..... جماعت احمدیہ کے نمائندوں نے بھی رش مچایا .... اور حکومت نے مرزا صاحب کی حفاظت کےلئے لاہور پولیس کا ایک دستہ بھی بھجوایا .... !!!
25 اور 266 اگست کو دونوں اطراف سے مذھبی نمائندوں اور عوام نے سارا دن مرزا کا انتظار فرمایا .... لیکن مرزا صاحب کو جو وفد لینے گیا تھا .... ناکام واپس آیا .... مرزا نے "جان کا خطرہ" ظاہر کر کے قادیان میں ہی آرام فرمایا .... وفد کو واپس آتے ہی پیر صاحب نے کلمہ پڑھایا .... اور دائرہء اسلام میں داخل فرمایا .... !!! "
" واہ ... یہ تو بڑے مزے کی بات ہے !!! " میں نے کہا-
"اس سے بھی مزے کی بات سنو ......... اگلی صبح جب مسلمان بیدار ہوئے ..... تو پورے لاہور میں مرزا کی کامیابی کے اشتہار لگے تھے !!! "
"واللہ ؟؟؟ وہ کیسے ؟؟؟ "
"شاطر میڈیا .... جو سیاہ کو سفید کرنے پر قادر ہے .... مسلمانوں نے ہمیشہ میڈیا سے ہی مار کھائ ہے .... اسی لئے تو میں اس نیک بخت سائیکلو اسٹائل پر ہاتھ کالے کر رہا ہوں .... جن دنوں علماء چھاپہ خانہ کو حرام سمجھتے تھے .... مرزا کے پاس نصف درجن سائیکلو اسٹائل مشینیں تھیں .... !!! "
"پھر کیا ہوا ؟ کیا لاہور والے پھر مرتد ہو گئے ؟؟ "
" نہیں نہیں .... پیر مہرعلی شاہ صاحب ابھی لاہور میں ہی موجود تھے .... اگلے روز شاہی مسجد میں مسلمانوں کا عظیم الشان جلسہ منعقد کرایا ..... دیوبند ، بریلوی ، اہل حدیث ، اہلِ قران اور شیعہ مجتہدین نے اتحادو یگانگت کا مظاہرہ فرمایا .... اس جلسے میں علمائے کرام نے ولولہ انگیز تقاریر کر کے دعوتِ مناظرہ کا مکمل احوال سنایا ..... عوام کو شاطر میڈیا کا اصل چہرہ دکھایا ..... یوں لاہور مناظرے نے ، مرزائیت کے تابوت میں ٹھونک ٹھونک کے پہلا کیل لگایا .... اس دن بے شمار قادیانیوں نے تائب ہوکر دائرہء اسلام میں دوبارہ قدم رنجہ فرمایا !!! "
کچھ روز بعد مرزا صاحب نے دوبارہ پلٹا کھایا .... مرزائیوں کا ایک وفد پیر صاحب کے پاس مباہلے کا سندیسہ لایا .... ایک اندھے اور ایک لنگڑے کو تندرست کرنے کا چیلنج بتلایا .... پیر صاحب نے جواباً لکھ بھجوایا .... اگر مردے بھی زندہ کرانے ہیں تو آجاؤ .... یہ سن کر وفد قادیان گیا اور آج تک واپس نہ آیا !!! "
مرزا کو مباہلہ میں اپنی کامیابی صفر نظر آئ .... اس نے پینترا بدل کر پیر صاحبؒ کو اپنی کتاب "اعجاز المسیح" بطور "معجزہ" بھجوائ تو پیر مہر علی شاہ صاحب نے "سیف چشتیائی" لکھ کر مرزا کی پھر پیٹھ لگائ .... !!!
1901ء میں مرزا صاحب نے دعوئ نبوّت فرمایا .... مولانا محمد حسین بٹالوی نے برصغیر کے دوسو جیّد علمائے کرام کے دستخط سے مرزا کے کفر پر پہلا فتوی شائع کرایا .... 1907ء میں مولانا ثناء اللہ امرتسری نے آخری بار قادیان جاکرمرزا کو مباحثے کےلیے بلایا .... لیکن مرزا اس بار بھی سامنے نہ آیا ..... مولانا امرتسری نے فاتح قادیان کا لقب پایا .... پے در پے مناظروں سے مرزا گھبرایا .... تو قادیان سے گالیوں اور مغلطات کا وہ سیلاب آیا .... کہ ہر کسی نے کانوں کو ہاتھ لگایا ... مرزا نے مولانا امرتسری سے نک نک ہو کر مباہلہ کا اشتہار شائع کرایا .... خدا کے سامنے گڑگڑایا .... یا اللہ طاعون بھیج یا ہیضہ .... ہم میں سے جو جھوٹا ہو مخالف کی زندگی میں ہی اس کا کر صفایا .... ساتھ ہی مولانا ثناءاللہ امرتسری اور پیر مہر علی شاہ صاحب رح کے اسی سال فوت ہونے کا اشتہار لگایا !!!
مئ 1908 میں مرزا اچانک لاہور لایا .... نعرہ ھندو مسلم اتحاد کا لگایا .... لیکن اندرون خانہ قادیانیت کی سوکھتی پنیری کو تازہ پانی لگایا ..... انہی دنوں آسمان سے ربِّ کریم کا فیصلہ بھی آیا !!!
25 مئ 19088ء کی رات مرزا کی طبیعت نے اچانک پلٹا کھایا .... پیٹ میں درد کے ساتھ ساتھ دست اور الٹیوں نے کہرام مچایا .... ڈاکٹروں نے وبائ ہیضہ بتلایا .... انجیکشن پہ انجیکشن لگایا .... مگر آرام نہ آیا .... اگلے روز صبح ٹھیک دس بجے آپ نے برانڈرتھ روڈ احمدیہ بلڈنگ کی ایک لیٹرین میں موت کا آخری جھٹکا کھایا .... یوں سچے رب نے اپنا انصاف فرمایا !!!


No comments:
Post a Comment