قصّہ حاتم طائ --23-- ظفرجی
شام کو میں پس مردہ ہو کر گھر آیا اور آتے ہی منجے پہ لیٹ گیا- دور آسمان پر اڑتے ہوئے کوّوں کو دیکھ کر جی میں آئ کہ کاش میں بھی کوئ کوّا ہی ہوتا- نہ شادی کا رفڑا ہوتا نہ طلاق کے مصائب- بس کائیں کائیں کر کے وقت پاس کرتا-
عالیہ کئ روز سے میری یہ حالت دیکھ رہی تھی مگر شاید پوچھنے کی ہمت ہی نہ تھی- دراصل " یوم الرجوع" کے بعد سے ہی وہ کچھ ہراساں تھی- جبکہ میں تلخئ حالات کے باوجود اس کے سامنے خود کو ہشاش بشاش رکھّے ہوئے تھا-
اس روز بھی وہ خاموشی سے آ کر میرے سرہانے بیٹھ گئ- میں سر اس کی گود میں رکھ کر دور خلاؤں میں گھورنے لگا-
فاصلے ایسے بھی ہونگے
یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے
وہ مگر میرا نہ تھا
یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے
وہ مگر میرا نہ تھا
وہ بولی:
" کی ہویا اے تہانوں .... ؟؟"
میں نے ایک ٹھنڈی سانس لیکر کہا:
"کچھ بھی نہیں .... وہ .... گِدڑ پنڈی سے سو کا ایک نوٹ لایا تھا ....مُلاں پور کے دکاندار کہتے ہیں جعلی ہے .... اب بتا اس میں میرا کیا قصور ہے ؟؟ "
وہ خاموشی سے اندر گئ اور کچھ دیر بعد سو روپے کا ایک مُڑا تُڑا نوٹ لیکر آ گئ-
میں ہنس پڑا اور کہا:
"یہ کہاں سے آیا ؟؟"
وہ ہونٹوں پر ایک اداس سی مسکراہٹ سجا کر بولی:
"امّاں نے دِتّے سی .... آن لگیاں"
میں نے پوُچھا:
" اماں کو کیا بتایا تھا .... گھر جا کے ؟؟"
وہ بولی:
"کُش وی نئیں .... بس روندی رہی ... امّاں دے گلے لگ کے .... "
میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور کہا:
" آئیندہ نئیں رونا ..... دیکھ چاچی نے مجھے پُرانے لٹھّے کی طرح دھویا ... میں رویا ؟؟ "
وہ ہنس دی اور بولی:
"طلاق دا کی ہووے گا ... "
میں نے اس کا سیُو بیر جیسا چہرہ اپنے قریب لاکر کہا:
" وہی ہو گا جو منظوُرِ خُدا ہو گا ... چل ..... اندر چلتے ہیں ... !!!"
یوں مولوی نزیر کی فقّہ سے ایک اور گناہ کما کے اور مولوی بشیر کے فتوی سے ڈھیروں ثواب حاصل کر کے ہم تازہ دم ہوئے- پھر لمبی تان کے سو گئے-
اگلے روز دوپہر کے وقت میں دکان پر ایک گاہک کےلئے دف والی نعت تلاش کر رہا تھا کہ سامنے سڑک سے یارُو گزرا- اس کے ہاتھ میں "نورانی قاعدہ" تھا-
میں نے آواز لگائ:
"اوئے چِبڑ .... ادھر آ ... مولوی صاب تو "سُونڈھ" گئے ہیں ... تو کدھر مونہہ اُٹھائے جا رہا ہے ؟؟"
وہ دامن سے ناک صاف کرتے ہوئے بولا:
"راتی آگئے نیں ... سویرے نماج نئیں پڑھی تُسّی ... ؟؟"
میرے مونہہ سے نکلا:
"فِٹّے مونہہ تیرے .... کبھی اچھّی خبر نہ دینا"
پھر گاہک کو ایک سادہ نعت والی کیسٹ تھماتے ہوئے کہا:
"یہ لو بھائ .... دف خود بجا لینا ... مجھے نِکلنا ہے.. !!!"
اس سے 25 روپے چھین کر میں نے شٹّر گرایا اور گھر کی طرف بھاگا- پاؤں من من کے ہو رہے تھے- یوں لگ رہا تھا جیسے گھر سے دکان نوری مِیل کے فاصلے پر ہو-
گرتا پڑتا اندر داخل ہوا اور آواز لگائ:
"عالی .... کہاں ہو ... عالی ؟؟"
وہ ہڑبڑا کر باہر نکلی:
" ہائے اللہ جی ... کی ہویا ؟؟"
میں نے کہا:
"کچھ نہیں ہوا .... وہ .... اس روز میری سائیکل وہیں رہ گئ تھی ... تیرے ماپوں کے پِنڈ ... چلو "دھوبیاں" چلتے ہیں ... !!! "
وہ افراتفری میں تیّار ہوئ- ہم پِنڈ چیرتے ہوئے بس اڈہ پہنچے- ہر آن یہی کھٹکا رہا کہ مولوی نزیر کی نظر نہ لگ جائے- خدا خدا کر کے بس آئ اور ہم دو والی سیٹ پر جُڑ کر بیٹھ گئے-
بدبخت ڈرائیور نے گیت لگا دیا :
کی دم دا بھروسہ یار
دم آوے نہ آوے ...
آ مِلیے تے کریے پیار ....
دم ......... !!!!
دم آوے نہ آوے ...
آ مِلیے تے کریے پیار ....
دم ......... !!!!
Story: QISSA HATIM TAI
Sub Story: Mullan Pur Ka Sain
Region: A Village near Kamalia Toba Tek Sing
Era: 1980,s
Theme: Religion & Society
A classical factious novel based on true story. Names and places are not real.


No comments:
Post a Comment