ISHQ KY QAIDI EP#53



عشق_کے_قیدی -- 53 -- ظفرجی

پیر صاحب نے جِن بوتل میں بند کیا تو تبلیغِ سُوء کا ہر دروازہ بند ہو گیا-
 جماعت مرزائیہ سخت زوال کا شکار ہو گئ- پیروکاروں کی تعداد گھٹتے گھٹتے 15 سو رہ گئ- خلافت کا جھگڑا ہوا تو مولوی محمد علی آدھے بندے توڑ کر " لاہوری گروپ" میں لے آیا .... قادیانی گروپ مرزا کی ظلّی بزوری نبوت کا ڈھول پیٹتا رہا ، جبکہ لاہوری گروپ مجددیت کا راگ الاپنے لگا .... اس سے پہلے کہ مرزائیت تاریخ کے نہان خانوں میں دفن ہو جاتی ، عالمی طاقتیں آپس میں بھڑ گئیں اور پہلی جنگِ عظیم کا نقارہ بج اٌٹھا !!!
 عجب افراتفری تھی .... انگریز ھندوستان بھر میں پھرکی کی طرح گھوم رہا تھا .... کہیں فتوؤں کےلئے مولویوں کی منتیں .... کہیں تعویز بمعہ مرید کےلئے گدی نشینوں کے ترلے .... کل تک وہابی کو باغی کہنے والا انگریز آج وہابیّت کے سر پر حجاز ِ مقدس کا تاج سجانے کو بے چین تھا .... ہندوستانی مسلمان ششدر تھا کہ فرنگی کے ساتھ پِھرکی کھائے یا سلطنتِ عثمانیہ کی خیر منائے .... ان حالات میں قادیانیت کا جن پھر بوتل سے باہر آ گیا .... مرزا بشیر الدین محمود نے کرنل لارنس ثانی کا کردار نبھایا ..... دنیائے عرب میں جاسوسی کا جال بچھایا ..... عربوں کو ترکوں کے خلاف بھڑکایا- جب خلافت عثمانیہ کو زوال آیا تو مسلمانوں نے دریائے حسرت وغم میں غوطہ کھایا اور مرزائیوں نے قادیان میں جشنِ چراغاں منایا.... !!!
ان حالات میں مولانا ظفرعلی خان نے اسلامی صحافت کا پرچم لہرایا ..... "زمیندار" نے جماعت احمدیہ کے چہرے سے نقاب اٹھایا ..... مرزا بشیرالدین محمود سخت گھبرایا .... اور گورنر پنجاب سرمائیکل ایڈوائر کے سامنے جا کر گڑگڑایا .... ایڈوائر نے زمیندار کا ڈکلیریشن منسوخ کر کے مولانا کو اپنے گاؤں کرم آباد میں نظر بند کروایا-
 بار بار کی ڈکلیریشن منسوخیوں ، جرمانوں ، پرنٹنگ پریس کی ضبطیوں ، ایڈیٹروں کی گرفتاریوں اور قیدوبند کی صعوبتوں کے باوجود مولانا ظفرعلی خان ذرہ بھر نہ گھبرائے .... "زمیندار" بند ہوا تو " لمحات " بن کر مسکرائے ، اس پر تالے پڑے تو " ستارہء صبح" بن کر جگمگائے .... نثر و نظم کے ترکش سے قلعہء قادیان پر مسلسل تیر برسائے .... :

باپ لندن ، شملہ بیٹا ، قادیاں روح القدس
اے مسلماں کیا یہی تصویر ہے والتین کی ؟

ظفرعلی خان کی آواز مرزائیت کے خلاف ایک تحریک بن کر پورے ھندوستان میں پھیل گئ .... بالاخر پڑھے لکھے مسلم طبقات کو بھی ہوش آیا .... انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قادیانیوں کا قبضہ ختم کروایا .... سرظفراللہ کو مسلم لیگ کی مجوزہ صدارت سے الگ کروایا .... غرض کہ مسلمانوں کی ہر عمرانی ، سیاسی ، تہذیبی اور علمی مجلس میں اس طائفے کا ناطقہ بند کرایا !!!
تیسرا کِیل ڈاکٹر اقبال نے لگایا .... !!!
" علامہ اقبال ؟؟"
"جی ہاں .... شاعرِ مشرق ڈاکٹر محمد علامہ اقبال !!! "
 اس سے پہلے کہ چاند پوری داستان آگے بڑھاتے ، ہال کے صحن میں پیپل کے بڑے درخت پر اُلّو شوروغُل کرنے لگے-
میں اٹھ کر پتھّر تلاش کرنے لگا تو چاند پوری گویا ہوئے:
 " چھوڑو ان کو .... جب بھی اقبال کا ذکر ہو گا.... یہ ضرور شور کریں گے .... اس لئے کہ ڈاکٹر اقبال نے ہی ظفر علی خان کے مشن کو آگے بڑھایا ..... مسئلہء قادیانیّت پر حضرت انور شاہ کشمیری اور پیر مہر علی شاہ صاحب سے بزریعہء خط و کتابت مشورہ فرمایا .... مرزا یعقوب بیگ کو انجمن حمایت اسلام کے اجلاس سے باہر نکلوایا .... مرزا صاحب اقبال کے دیرینہ دوست تھے .... یہ نشتر برداشت نہ کر سکے ..... اسی دن فالج کا حملہ ہوا اور اگلے ہی روز دنیا سے کُوچ فرمایا .... !!!
 مرزا بشیرالدین محمود کشمیر کمیٹی کی صدارت سنبھالنے آئے .... روشن خیال مسلمانوں نے نے دیدہ و دلِ راہ میں بچھائے ... لیکن ڈاکٹر اقبال چٹان بن کر آڑھے آئے .... ادھر نہرو نے مرزا غلام احمد کی تعریف میں کچھ الفاظ رقم فرمائے .... تو اقبال نے نہرو کے نام ایک طویل مدلٍل خط میں قادیانیت کے پرخچے اڑائے .... تب جا کر نہرو کے ہوش ٹھکانے آئے .... !!!
 کاش اقبال کچھ دن اور زندہ رہتے اور اپنے خوابوں کا پاکستان دیکھ کر جاتے .... پھر ہم بھی دیکھتے کہ سرظفراللہ خان کیسے وزیرخارجہ بنتے ہیں .... ذریّتِ مرزا کیسے بے لگام ہوتی ہے .... خون مسلم سے لاہور کی گلیاں کیسے سرخ ہوتی ہیں .... افسوس کہ اقبال کے ساتھ ہی مسلمانوں کا اقبال بھی رخصت ہو گیا .... !!!
چوتھا کِیل احرارالاسلام نے لگایا .... !!!!
19333ء میں احرار کا چراغِ مصطفوی قادیان کے شرارِ بولہبی سے ٹکرایا .... سرخ پوشوں نے دلائل وبرہان کی بھاری منجنیقوں سے قلعہء قادیان کو تختہء مشق بنایا .... انگریز ششدر ہوا اور مرزائ گھبرایا .... مذھب کی جنگ کو "احرار احمدی جھگڑا" کہ کر فرقہ واریت کا رنگ چڑھایا .... مجلسِ احرار کو مسلمانوں میں بدنام کرایا .... تحریک پاکستان میں احرار کی عدم شرکت سے فائدہ اٹھایا .... پاکستان بننے کے بعد قادیانیوں نے سرظفراللہ کو پاکستان کا پہلا وزیرخارجہ بنوایا .... قادیان جیسے "مقدس" شہر کو چھوڑ کر پاکستان میں ڈیرہ لگایا ..... سرکاری عہدوں پر قبضہ جمایا .... ربوہ کو فوجی قلعہ بنایا .... ان حالات میں احرار نے ایک بار پھر ختمِ نبوّت کا پرچم اُٹھایا .... مختلف مکاتبِ فکر کو اپنے ساتھ ملایا .... پھر اس کے بعد جو طوفان آیا .... وہ آپ نے بھی دیکھا .... ہم نے بھی ملاحظہ فرمایا .... !!! "
 چاند پوری مرزائ ریشہ دوانیوں کی داستان سنا رہے تھے کہ سائرن کی چنگھاڑ سے فضاء گونج اُٹھی .... پولیس گاڑیوں کا ایک قافلہ برکت علی اسلامیہ ہال کے سامنے آن کھڑا ہوا .... سرچ لائٹس کی چکاچوند سے آنکھیں چندھیانے لگیں .... وائرلیس کی کھٹ پٹ سے ماحول پرشور ہو گیا ....
" ایچ کیو ون ... ایچ کیو ون .... دالگراں پوسٹ اوور !!!
 " تین سال سے پولیس کو مطلوب ..... شرپسند خفیہ اخباری رپورٹرز کا گھیراؤ کر لیا گیا ... اووور !!! "
"دالگراں پوسٹ .... گو اہیڈ  اریسٹ ھم .... بھاگیں تو گولی مار دو .... اوور !!!
چاندپوری گرد و پیش سے بے نیاز اپنی تقریر جاری رکھے ہوئے تھے:
 " مارشل لاء بھی ختم ہو گیا .... مارشل لاء لگانے والے بھی عبرت کا نشان بن گئے .... انگریز نے جلیانوالہ باغ میں ھندوستانیوں کے خون سے ہاتھ رنگ کر پنجاب میں پہلا مارشل لاء لگایا .... ٹھیک 27 سال بعد انگریز نے برصغیر سے بستر گول فرمایا .... 53ء میں مسلم لیگی حکومت نے ختمِ نبوّت کے پروانوں کو خاک و خون میں تڑپایا .... ٹھیک 21 سال بعد حکومت نے قادیانیت کا تابوت اپنے کندھوں پر اٹھا کر اسے کفر کے قبرستان میں دفنایا .... !!! "
پولیس گاڑیوں میں نصب لاؤڈ اسپیکر سے اعلان ہو رہا تھا :
 " آپ دونوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے .... اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر عمارت سے باہر آ جاؤ .... ورنہ دیکھتے ہی گولی مار دی جائے گی ...."
 چاند پوری کی تقریر جاری تھی .... میں نے احتیاطاً دونوں ہاتھ سر پر رکھ لئے ....
 " جدوجہد کا بیج اگر خون کے وتر میں بویا جائے تو جلد یا بدیر ضرور پھل لاتا ہے ..... لیکن اس کےلئے امیرشریعت جیسی جرات ابولحسنات جیسی ہمّت .... ماسٹر تاج الدین جیسی جانثاری .... مولانا اسمعیل جیسی رواداری .... مولانا لاہوری جیسا حوصلہ .... مولانا ہزاروی جیسا ولولہ .... مفتی شفیع جیسا علم .... ابولاعلی جیسا قلم .... علّامہ شمسی جیسی فراست اور .... مفتی محمود جیسی سیاست بھی ضروری ہے .... خدا کےلئے اکابرین کی کتابیں تلاش کرو .... انہیں پڑھو .... محض شخصیت پرستی کے استھان مت بناؤ .... "
پولیس ہال کا مرکزی دروازہ کھول کر اندر داخل ہونے لگی ....  ہتھیار بند سپاہی ہمارا گھیراؤ کرنے لگے .... کھڑل کھڑل بندوقیں کاک ہونے لگیں .... بچ نکلنے کا اب کوئ رستہ نہ تھا ....
اچانک چاند پوری نے میرا ہاتھ پکڑا اور  اونچی آواز میں ذِکرِ جہر شروع کر دیا ....

اکّڑ بکڑ بمبے بوء ، سمّے ساٹو واپس ہو
ترپن ..... تریسٹھ ... .. تہتّر ... .. تراسی
ترانوے .... تین ...... تیرہ ....... سولہ

پھر زور کی ہوا چلی .... سپاہیوں کی ٹوپیاں ہوا میں اڑنے لگیں .... بندوقیں زمین پر گرنے لگیں .... ان کی وردیاں چھیتڑے بن کر ادھر ادھر بکھر گئیں .... اجسام ڈھانچے بن کر تنکا تنکا ہونے لگے ... کھوپڑیاں فٹ بال کی طرح ادھر ادھر لڑھک گئیں .... پیپل کا بڑا درخت سوکھ کر دھڑام سے صحن میں گرا ... اور دیکھتے ہی دیکھتے نیست و نابود ہو گیا .... چاند پوری مسلسل ورد جاری رکھّے ہوئے تھے ....

اکّڑ بکّڑ بمبے باء
اک جمہوریت ، تین مارشل لاء
ایّوب ، یحی ، بھٹّو ، ضیاء
اکّر بکّڑ انّھے واہ
دو جمہوریت ، ایک مارشل لاء
بی بی ، میاں ، مشرف بھاء

ہمارے چاروں طرف ایک زلزلہ برپا تھا .... درخت کٹ کٹ کر گر رہے تھے ..... اور ان کی جگہ زمین کا سینہ چیر کر دھڑا دھڑ عمارتیں اگ رہی تھیں ....
 بالاخر فضاء میں سکوت چھا گیا .... چاند پوری اب ذکرِ خفی فرما رہے تھے ...
" اکڑ بکّڑ کون آیا .... شیر شیر آیا .... !!! "
سمّے ساٹو کے باریک سوراخ سے تریسٹھ سال کا سفر کر کے  ہم واپس 2016ء میں پہنچ چکے تھے .... بجلی غائب تھی اور برکت علی ہال کی مخدوش عمارت گھپ اندھیرے میں کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی تھی .... ضعیف و نزار چاندپوری کپکپاتی آواز سے مجھے جگا رہے تھے !!!
اگلے کچھ  روز بہت مصروفیت میں گزرے- تقریباً دو ہفتے بعد میں پنجاب لائبریری میں بیٹھا اپنے مسودات کو آخری شکل دے رہا تھا کہ چاند پوری اپنے نئے موبائل سے کھیلتے ہوئے وارد ہوئے-
" بھائ .... عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کا فون آ رہا  ہے .... بار بار ... کیا جواب دوں ؟؟ "
میرا مونہہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا-
"سمّے ساٹو سے اب فون بھی آنے لگے ؟؟ "
 " کتنی بار سمجھا چکا ہوں .... سمّے ساٹو وغیرہ کچھ نہیں ہوتا .... نکلو اس وہم سے .... ارے میاں .... امیر شریعت کے پوتے عطاءاللہ شاہ ثالث بخاری .... ملتان سے پوچھ رہے ہیں ناول کا مسودہ کب تک تیار ہو جائے گا .... "
میں نے ایک زور کا قہقہہ لگایا اور کہا:
" بس ایک ہفتہ اور .... انہیں عرض کر دیں کہ .... شورش ثانی کو تھوڑا وقت دیں ... !!! "

تمت بالخیر
اس تاریخی ناول کے ماخذ:
تحریک ختم نبوّت 1953- مولانا اللہ وسایا
تحریکِ ختمِ نبوّت- شورش کاشمیری
تحریکِ ختمِ نبوّت کی یادیں- مولانا طاہر عبدالرزاق
جسٹس منیرکمیشن رپورٹ برائے فسادات لاہور 1953
تحریک ختم نبوت کی لمحہ بہ لمحہ داستان سید خلیل احمد قادری
قادیانی مسئلہ ابولاعلی مودودی

ناول لکھتے وقت جن احباب نے تعاون فرمایا ان کے بے حد شکرگزار ہوں ...
 Omer Muhammad Omar Farooq Deputy Secetery General Majlis Ahrar Pakistan
Syed Bukhari ( عطاءاللہ ثالث بخاری)
Haider Jee Artest Graphic Designer
محمد عرفان السعید نعت خواں
(Qadir Ghori ( Sindi Dialogue writer

No comments:

Post a Comment