مزار آمد ----- ظفرجی
ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کےلئے سی سی پی کلفٹن برانچ پہنچا- یہاں انٹری ، طبی معائنے کے بعد بتایا گیا کہ عملی امتحان دوپہر بارہ بجے کلفٹن پارک میں ہوگا-
ساڑھے 9 بج رہے تھے- سوچا اتنی دیر کہاں بیٹھوں گا- واپس ہوٹل جا کے دوبارہ آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا- چنانچہ وقت گزاری کو عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر چلا آیا جو کلفٹن میں ایک پہاڑی پر واقع ہے-
رکشے والے نے مجھے مزار کے داخلی رستے پر اتارا- چالیس قدم آگے سیکیورٹی چیک پوسٹ تھی- یہاں میری بھرپور تلاشی لی گئ- پھر اس سے آگے ایک اور چوکی پر ٹٹول ٹٹول کر دیکھا گیا کہ کہیں میں نے مزاروں پر پھٹنے والا سودا تو نہیں باندھ رکھّا ؟؟
مسجد کے نمکین شورے پانی سے وضو کیا تو معلوم ہوا کہ ملحقہ مسجد ابھی غیر فعال ہے- چنانچہ قران خوانی مؤخر کر کے مزار پر جانے کا قصد کیا- جوتے جمع کرائے ، 5 روپے کا ٹوکن لیا اور سیڑھیاں چڑھنے لگا- یہ کل 72 سیڑھیاں ہیں ، تب جا کر آپ اس حسنی حسینی بزرگ تک پہنچتے ہیں کربلاء میں جن کے 72 تن شہید ہوئے تھے-
عبداللّہ شاہ غازی کے بارے میں دستیاب روایات زیادہ قابلِ اعتماد نہیں- کسی دور میں کراچی کے ولیوں کی لوح مزار یوں ہوتی تھی کہ " محمد بن قاسم کے ساتھ تشریف لائے اور ھندوؤں سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے"
ذرائع ابلاغ نے ترقی کی تو معلوم ہوا کہ محمد بن قاسم تو اموی تھا اور امویوں نے کربلاء میں ظلم ڈھائے تھے- سو کتبہ ہائے مزارات میں بھی تبدیلی آگئ-
چنانچہ عبداللہ شاہ غازی کی لوح تاریخ کچھ یوں لکھی تھی کہ :
" .... بنو امیہ کے دور میں جب سادات پر برا وقت آیا تو مریدین کے ہمراہ سندھ تشریف لائے- امویوں نے پیچھا کیا- آپ اپنے مریدین کے ہمراہ بے جگری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے"
بہرحال تاریخ جو بھی ہو کراچی میں زیادہ تر مزارات میٹھے یا کھاری چشموں کے آس پاس ہی ملیں گے- یہ حقیقت رب تعالی ہی جانت ہے کہ پہلے چشمہ دریافت ہوا یا مزار-
روایت کے مطابق مریدین نے آپ کا جسد خاکی چھپا دیا پھر بڑی خاموشی سے کلفٹن کی اس پہاڑی چوٹی پر دفن کیا- چنانچہ بموجب معجزہ ہائے درویشاں پہاڑ کے نیچے سے میٹھے پانی کا چشمہ جاری ہوا جو آج تک جاری ہے-
بریانی کی دیگوں ، سرسبز رنگین چادروں ، پھولوں اور اگربتیوں کے سائے میں چلتا قبر شریفہ پر پہنچا جہاں محکمہ اوقاف کا ایک سپاہی مستعد کھڑا ہے- آنے جانے والوں پہ نگاہ ہے- ان میں جوان بھی ہیں ، بچے اور بوڑھے بھی- عورتیں بھی ہیں ، بچیاں اور بوڑھیاں بھی- کوئ قبر کی.پائنتی چومتی ہے ، کوئ پائے پر گال رگڑتی ہے ، کوئ مرد محراب پر ماتھا ٹیکتا ہے - کوئ قبر سے لپٹ کر روتا ہے- کسی کے من میں مراد ہے اور کوئ مراد پوری ہونے پر نذر دینے آیا ہے-
قبر انور کے پہلو میں دو بڑے آہنی صندوق نصب ہیں- ایک زرنقد کےلئے دوسرا زیورات کےلئے- امیر غریب ، سخی کنجوس ، عالم جاھل ، ظالم مظلوم سب کی جیب یہاں کھلتی ہے-
یہ ھندوستان کا خاص مذھبی کلچر ہے- بریلویت کا شکریہ جس نے اسے مسلکی بوتل میں محفوظ کیا- لیکن اگر وہ ایسا نہ بھی کرتے یہ تب بھی پھلتا پھولتا کہ ہماری مٹّی ہی بڑی زرخیز ہے ساقی-
یہ ھندوستان کا خاص مذھبی کلچر ہے- بریلویت کا شکریہ جس نے اسے مسلکی بوتل میں محفوظ کیا- لیکن اگر وہ ایسا نہ بھی کرتے یہ تب بھی پھلتا پھولتا کہ ہماری مٹّی ہی بڑی زرخیز ہے ساقی-
مجھے مزار پر بیٹھے دو گھنٹے ہو چکے ہیں- یہاں بہت اچھا وقت گزرا- اس کےلئے میں محکم اوقاف سندھ کا خصوصی شکرگزار ہوں جس نے زائرین کےلئے بہترین سہولیات فراہم کیں- چشمے کے مقدس پانی کی ترسیل بہتر بنانے کےلئے اگر حکومت سعودیہ کی طرز پر کسی کمپنی سے مدد لی جاتی تو زیادہ بہتر تھا-
باقی جہاں تک صاحب مزار کا تعلق ہے تو اگر واقعی اولادِ بنو ھاشم میں اس نام کے کوئ بزرگ گزرے ہیں اور بنو امیہ نے سندھ کراچی میں آ کر انہیں شہید کیا تھا تو اس سے صرف ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ کراچی صدیوں سے ایک غیر محفوظ شہر ہے-
اللـهـم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذَكّرنَا وأنثانا .
اللـهـم من أحييته منا فأحيه علي الاسلام ومن توفيته منا فتوفه على الايمان
اللـهـم من أحييته منا فأحيه علي الاسلام ومن توفيته منا فتوفه على الايمان


No comments:
Post a Comment