PIND KI DIARY


پنڈ کی ڈائری ----ظفرجی

اس بار گندم کی بیشتر فصل کٹ چکی تھی کہ اچانک بارش کا "تروکا" پڑ گیا-جنہوں نے وقت پر گاہ لی تھی وہ پیر صاحب کا شکر ادا کرتے رہے اور جن کے کھلواڑے تیار تھے ان کے لبوں پر ایک ہی ورد تھا یا اللہ خیر !!!
ہر کسان ایک بوری پیر صاحب کےلئے ضرور رکھ چھوڑتا ہے ، تاکہ برکت رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے مگر لگتا ہے اس بار کچھ نہ کُچھ خدا کے نام کا بھی نکالنا ہی پڑے گا کہ مشکل وقت میں وہی مدد کرتا ہے-
گاؤں میں پہلی بار پکّی سڑک بنی ہے- یہ ایک بہت بڑی ڈیلویلپمنٹ ہے- 1914ء سے یہاں گلیاں کیچڑ سے بھری رہتی تھیں- کوئ پرسان حال نہ تھا- اس کا کریڈٹ ن لیگ کو جاتا ہے-
گاؤں کی اکثریت اب بھی اینٹی نواز ہے- اور عمران خان کا دم بھرتی ہے- حالانکہ کپتان کا کوئ وزیر مشیر بھی آج تک ادھر سے نہیں گزرا- نہ ہی بنی گالا والوں کو معلوم ہے کہ ملک پور کس ڈگر پر واقع ہے-
ایک ریٹائرڈ فوجی سے احوال پوچھا- وہ کسی ووکیشنل انسٹیٹیوٹ میں کام کرتے ہیں- میں نے کہا آخر آپ لوگ کب تک ایک زکوات چور کے دیوانے بنے رہو گے-
وہ تڑپ کر بولا زکوات چور تو مسلم لیگ ہے- زکوات کا جو پیسہ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کے نام سے جاری ہوتا ہے اسے وزارتِ زکوات چھ چھ ماہ تک دبائے رکھتی ہے تاکہ سود کشید کر سکے- غریب طالب چھ چھ مہینے وظیفے کے انتظار میں سڑتے رہتے ہیں-
میں نے وعدہ کیا یہ بات اعلی حکام تک پہنچاؤں گا- مگر یہ صرف ایک وعدہ ہی رہا- اعلی حکام تک رسائ ہوتی تو چوتھے کھنبے پر لگا ہوا اپنا بجلی کا مِیٹر گھر کے سامنے نہ نصب کروا چکا ہوتا-
ایک بابا جی سڑک کنارے حقّہ سلگائے بیٹھے تھے- میں نے خیر خیریت پوچھنے کے بعد کہا:
"ماشاءاللہ اب تو گاؤں میں پکی سڑک بھی بن گئ ہے ... اس بار تو گاؤں والوں پر ن لیگ کو جتوانا فرض ہے"
بابا حقّے کے ساتھ شاید خود بھی سلگ رہا تھا ، کش لگا کر شروع ہو گیا:
" پُتّر کسی بادشاہ کی دوستی ہو گئ شیطان سے- شیطان نے لارا لگایا کہ جب بھی سوکھا پڑے گا وہ بارش برسا دے گا- پھر جب سوکھا پڑا تو بادشاہ نے وعدہ یاد دلایا- شیطان نے شتونگڑوں کو بارش برسانے کا آرڈر جاری کر دیا- شتونگڑوں نے مُوت مُوت کر شہر جل تھل کر دیا- کھیت البتہ سوُکھے ہی رہے-
 یہ سڑک جس کی تو بات کرتا ہے ، سیدھی ملک صاحب کے گھر تک جاتی ہے- باقی پورا پِنڈ کچّی سڑک پر ہی جھوُلے جھوُل رہا ہے "
عید پر پھر گاؤں جانا ہے- کیا خیال ہے پنڈ والوں کو لاہور اسلام آباد کے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیل فراہم کی جائے یا دورنگا اوڑھ کر تقیّہ اختیار کیا جائے ؟؟

No comments:

Post a Comment