قصّہ حاتم طائ جدید 3--- ظفرجی
(کہانی مولوی مقصود کی ، جو عقد ثانی کا مُنکر تھا)
اے حاتم سنو !!!
میں چک نمبر 733 جنوبی کا امام مسجد تھا- علاقے بھر میں میرے جیسا خطیب کوئ نہ تھا- اسلامی دنیا کے مسائل پر میری ہمیشہ نظر رہتی تھی اور میں شب و روز مسلمانوں کے فکری انحطاط ، اس کے اسباب اور انکے سدباب کےلئے متفکر رہتا تھا-
میں چک نمبر 733 جنوبی کا امام مسجد تھا- علاقے بھر میں میرے جیسا خطیب کوئ نہ تھا- اسلامی دنیا کے مسائل پر میری ہمیشہ نظر رہتی تھی اور میں شب و روز مسلمانوں کے فکری انحطاط ، اس کے اسباب اور انکے سدباب کےلئے متفکر رہتا تھا-
دور دور سے لوگ میرا وعظ سننے آتے تھے- میں سماج کی ہر برائ پر نکیرکرتا اور ان روایات کا خاتمہ فرضِ عین سمجھتا جو عین جاھلیّت کی پیداوار ہیں- اُمّتِ مسلمہ کو ازسرِنو منظم کر کے عظمتِ رفتہ پر کھڑا کرنا ، میرا مشن اور مقصودِ حیات تھا-
ایک روز دورانِ مطالعہ کسی عربی رسالے کا ایک مضمون نظر سے گزرا- مضمون کیا تھا ، امت مسلمہ کا نوحہ تھا- یہ ان بہن بیٹیوں کا دکھ درد تھا جو جو ہماری بوسیدہ روایات کے سبب تجرّد کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں- ان میں کنواریاں بھی ہیں ، مطلقہ اور بیوائیں بھی- عالمِ اسلام میں مردوں کے مقابلے میں جن کی تعداد تین گنا ہو چکی ہے- مضمون نگار نے لکھا تھا کہ تعدّدِ ازواج ہی اس مشکل کا واحد حل ہے ورنہ فحاشی کا وہ سیلاب آئے گا جس میں پوری امت خش و خاشاک کی طرح بہہ جائے گی-
مضمون کیا پڑھا ، راتوں کی نیند اُڑ گئ- اگلے ہی روز آدینہ تھا ، سوچا سوئ ہوئ اُمّت کو جگایا جائے ، اور عقدِ ثانی کے فیوض و برکات سے آگاہ کیا جائے-
اس روز سے میں نے ہر آدینہ مسئلہء تعدد ازواج پر موقوف کر دیا- اپنے پر دھواں دھار خطابات میں مرد حضرات کے ضمیر کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگایا- میں نے کہا بھائیو اُمّتِ مسلمہ کی کامیابی تعدد ازواج میں ہے ، ہائے افسوس کہ امّت کی بیٹیاں گھروں میں بوڑھی ہو رہی ہیں اور تم ایک ہی زوجہ پر قناعت کئے بیٹھے ہو- ڈرو اس وقت سے جب سیلابِ عریانیّت معاشرتی اقدار کو بہا کر لے جائے گا-
میری ان تقاریر کا خاطر خواہ اثر ہوا چنانچہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ ادھیڑ عمر بزرگوں نے بھی عقدِ ثانی کے نقد ارادے فرما لئے-
ایک شب جب میں وظیفہء زوجیت ، جس میں یہ فقیر سو دفعہ زوجہ زوجہ کا ورد کرتا تھا ، میں منمہک تھا کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئ- باہر جا کر دیکھا تو ایک جمِّ غفیر کھڑا تھا-
میں پہلے تو گھبرایا کہ معاملہ کیا ہے ، پھر یہ سوچ کر خود کو تسلّی دی کہ شاید کوئ نکاح کا مسئلہ درپیش ہو- چنانچہ مہمان خانہ کھلوایا ، جو کچھ بن پڑا حاضر کیا اور مقصود اس شب گردی کا دریافت کیا-
ان میں سے ایک شخص جو فطرتاً نیک اور سعادت مند خاوند معلوم پڑتا تھا یوں گویا ہوا:
" اے رہبرو رہنمائے امّت !!! تعدّد ازواج پر آپ کے پے در پے خطبات نے ہمارے زنان خانوں میں آگ لگادی ہے- ہماری زنانیاں آپ کے غیر ذمہ درانہ رویّے پر سخت معترض ہیں- گھروں کے چولھے ٹھنڈے پڑنے لگیں ہیں اور محلے میں آپکے خلاف لاوا پک رہاہے- اس سے پہلے کہ "مولوی بدل تحریک" کا آغاز ہو "مسئلہء تعدّد ازواج" کو چھوڑیے اور کوئ نیا موضوع پکڑئے ، بلکہ ہو سکے تو " خاوند کے حقوق" پر بات کیجئے تاکہ ہم بھی کوئ دن سُکھ کا سانس لے سکیں "


No comments:
Post a Comment