گھمسان کا رن ---- ظفرجی
عالمی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق کل کا دِن قومِ یوتھ کےلئے بہت کڑا ثابت ہوا- پاکپتن میں کپتان کے سجدہء سہو کی خبر نشر ہوتے ہی یوتھیانی سپاہی دفاعی مورچے چھوڑ کر بھاگے اور جس کا جدھر مونہہ آیا دوڑ لگا دی-
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق ہزاروں یوتھی مہاجرین اپنی مذھبی شناخت چھپائے سیکولرز کے خیموں میں پناہ گزین ہوئے- ان کے ہاتھوں میں سفید رنگ کے پلے کارڈز تھے جن پہ لکھا تھا " مذھب انسان کا ذاتی معاملہ ہے"
جمیعت برگیڈ کی بلااشتعال فائرنگ کا سب سے زیادہ نقصان پشتون یوتھ پلاٹون کو ہوا- سی این این کے مطابق جمیعتی اور جماعتی طیّاروں نے 12 گھنٹوں میں سات ہزار ڈرون پروازیں کیں- لُٹّے پُٹّے پشتون یوتھیوں نے باچا خان کے سرخ جھنڈے میں پناہ حاصل کی-
اس دوران اٹک کے محاذ پر خاصا رن دیکھنے میں آیا جہاں مجاھدِ ملّت ھمدرد حسینی انساپی شلوار پہنے دفاع کپتانی میں سب سے آگے نظر آئے- اس موقع پر انہوں نے وہ نیوٹرل کُرتا اتار کر جلا دیا جو قوم کو بے وقوف بنانے کےلئے ایک عرصے سے پہن رکھا تھا-
یوتھ کی ایک نایاب نسل فرنود عالم کی وال پر پناہ لینے میں کامیاب ہوئ- فرنود نے تنور گرم دیکھتے ہوئے " میرا مذھب میری مرضی" کی باسی دال نیا تڑکا لگا کر تقسیم کی- اس موقع پر پناہ گزینوں میں لبرل خیمے بھی تقسیم کئے گئے-
شب و روز تازہ مولوی کا شکار کرنے والے عظیم دانشور قمر نقیب خان نے موقع غنیمت جان کر ایک بار پھر قادیانی دیگچہ چڑھا دیا- ان کا کہنا تھا کہ ہمیں قادیانی وزیراعظم بھی قبول ہے بشرطیکہ کرپٹ نہ ہو- اس موقع پر ختم نبوّت والوں نے ان پر مشاق طیاروں سے حملہ کیا تو وہ حلقہء اربابِ دانش میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے-
یوتھ کے شہزادہ گلفام جناب راشد حمزہ نے اس موقع پر بہکی بہکی فائرنگ کر کے حسینوں سے خوب داد وصول کی- ان کی وال سے ڈھز ڈھز کی بجائے بوسہ بوسہ کی آوازیں آتی رہیں جو تاحال آ رہی ہیں-
سب سے غیر معمولی ردعمل بزرگ انساپی لکھاری جناب حنیف سمانا کا تھا- بی بی سی کے مطابق 90 سالہ حنیف سمانا نے یوتھ کی ہاری ہوئ فوج کو اپنے مورچے کی طرف آتے دیکھ کر مسدّس حالی وہ اشعار گنگنانا شروع کر دیے جو قاطع شرک و بدعت ہیں- چنانچہ یوتھ تتّر بتّر ہو کر منتشر ہو گئ-
یدِ بیضاء کی وال پر بھی انساپی مہاجرین کا رش دیکھنے میں آیا جہاں وہ کچّی ٹاکی پر بابا دھنکا ڈانگ پھیروی کی داستان سنا رہے تھے- واضح ہو کہ بی بی مرحومہ اور میاں نااھل کسی زمانے میں بابا دھنکا کے مرید تھے جو پیٹھ پر ڈانگ پھیر کر وزارتِ عظمی کی خوش خبری دیتا تھا-
سی این این کے مطابق پٹواریوں کی ایک کثیر تعداد تماشا دیکھنے رعایت اللّہ فاروقی کی وال پر پہنچی جہاں ایک بڑا سا تالہ اور بورڈ ان کا مونہہ چڑا رہا تھا کہ " دُکان بوجہء ملاقات معشوق بند ہے"-
ان کڑے حالات میں ہمارے چینل نے ایک متوازن پوسٹ لکھ کر یوتھ کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی- کئ کھرُنڈ قسم کے مولویوں نے اس موقع پر ہماری وال پر پتھراؤ بھی کیا مگر ہمارا چینل سب کچھ بھول کر یوتھی بچّوں کے گال تھپتھپاتا رہا- حالات کی نزاکت سے فائدہ اٹھانے کی یہ بہترین مثال ہے-
عالمی خبر ساں ایجنسیوں کے مطابق اگرچہ حالات معمول پر آ رہے ہیں لیکن مستقبل میں اس سے بھی بڑا گھمسان کا رن پڑنے والا ہے- کیونکہ الیکشن سر پہ ہیں اور یہ الیکشن نہیں ایک جنگ ہے-


No comments:
Post a Comment