قصّہ حاتم طائ --24-- ظفرجی
++++++++++++++PG 18 A++++++++++++++++
عالیہ کو اس کے پیکے چھوڑ کر میں نے سائیکل نکالی اور سیدھا اڈّے پر گیا- صادق کی دکان پر تالہ پڑا ہوا تھا-
میں نے یعقوب چائے والے سے پوچھا :
میں نے یعقوب چائے والے سے پوچھا :
"چوھری صادق کہاں گیا ؟؟"
وہ بولا:
" لنگ والی سرکار تے گئے نیں !!! "
بابا ابن شاہ المعروف لنگ والی سرکار کا مزار کمالیہ سے کچھ فاصلے پر ہے- علاقے بھر کے لوگ خصوصاً خواتین کا یہاں میلہ لگا رہتا تھا- دربار کے احاطے میں بڑ کے درخت کیساتھ انسانی اعضائے تناسل سے مشابہ مٹی، پلاسٹک ، کپڑے اور دھاتوں کے رنگ برنگے اوزار لٹکے ہوئے تھے- لوگوں کا عقیدہ تھا کہ اسے ناف پر پھیرنے سے عورت کا بانجھ پن دور ہو جاتا ہے*
میں نے حیرت سے کہا:
" صادق وہاں کیا کرنے گیا ہے ، وہ تو پانچ چھ بچّوں کا باپ ہے"
وہ بولا:
" عرس شریف دا میلہ ہے ... چوھری اپنی دکان اوتھے ہی لے گیا اے "
میں نے سائیکل وہیں کھڑی کی ، بس پکڑی اور عصر تک بابا ابن شاہ پہنچ گیا- یہاں عورتوں اور مردوں کا ہجوم تھا- میں نے حاضری کی گھنٹی بجا کر دس روپے نذر گزاری اور صادق کو تلاش کرنے لگا- بالاخر سائیکلوں کے ہجوم میں پنکچر لگاتے ہوئ اسے جا لیا-
وہ ہمیشہ کی طرح درشتگی سے پیش آیا اور بولا:
"ایتھے وی آ گیا ایں ... کرماں سڑیا ؟"
میں نے کہا:
" میری پریشانی ختم نہیں ہوئ صادق ، مولوی نزیر ، وہابیوں کا فتوی نہیں مان رہا ... کہتا ہے ایک زانی مسیت کے کوارٹر میں نئیں رہ سکتا ... کہاں جاؤں یار .... کچھ سمجھ نہیں آ رہا ... ؟؟"
وہ سائیکل کی ٹیوب رگڑتے ہوئے بولا:
" رگڑا تو لگنا تھا تُجھے ... بھلا اِنڈیا کا روپیہ پاکستان میں کیسے چل سکتا ہے ... تو ایسا کر .... اس کی جیب میں پنج سَت سو روپیہ ڈال ... مان جائے گا"
میں نے کہا:
" وہابی کا فتوی دیکھ کر بپھر گیا ہے ... اب ہزار بھی دوں تو نہیں مانے گا .... بچپن سے جانتا ہوں اُسے ... ضِد کا بہت پکّا ہے .."
وہ بولا:
" فیر ... پیری پئے جاء ... !!! "
میں نے کہا :
" اس کا وقت گزر چکا ہے ... تو چل میرے ساتھ .... مولوی بشیر کے پاس چلتے ہیں ...گِدڑ پنڈی !!! "
وہ کپڑے سے ہاتھ صاف کرتا ہوا بولا:
" مولی بشیر کیا کرے گا ..؟؟ اس کا کام فتوی دینڑاں تھا ... دے دیا ... رینجر تھوڑی ہے اس کے پاس کہ فتوے پر عمل بھی کرائے ... !!! "
میں نے کہا:
" پِھر ایک ہی رستہ بچتا ہے اُستاد ... گِدڑ پِنڈی جا کر مولوی بشیر کا مسلک قبول کر لوں ... !!!"
وہ آنکھیں نچاتے ہوئے بولا:
" تُو سو جُتیاں وی کھائے گا اور سو پیاز وی .... دماگ ٹھیک ہے تیرا ؟؟ وہابی بنے گا توُ ... ؟؟"
میں نے کہا:
" تھوڑا سا بننے میں ہرج ہی کیا ہے ؟؟ "
وہ تاؤ کھا کر بولا:
" ہرج کیوں نئیں ہے ؟؟ پہلے گھر کا بیڑا غرق کیا ... اب دین ایمان کا بیڑا غرق کر ... جب پاکستان بنڑاں تھا ناں ... تو آس پاس کے جِتنے سِکھ تھے ... جان بچانے کےلئے ... سب کے سب وہابی ہو گئے تھے ... کِیس اور لنگ کٹا کے ... توُ بھی ہو جا .... !!! "
مجھے بھی غُصّہ آ گیا- میں نے کہا:
" اور ہم کیا تھے ؟؟ ھندو ؟؟ جو آج یوں استھان سجا کے بیٹھے ہیں ؟؟ ... وہ مندر کی گھنٹی بجاتا ہیں ھم دربار کی ، وہ پرساد چڑھاتا ہے ہم چڑھاوے ... وہ بھی لنگ پوجا کرتا ہے ہم بھی ... بتا مجھے ... فرق کیا ہے ... ؟؟ "
وہ تاؤ کھا کر بولا:
" بکواس بند کر .... عالیہ کو اس کے پیکے چھوڑ ... اور اپڑیں منحوس شکل لے کر دفع ہو جا .... ڈھٹّے کھُوہ میں جا ... پر آئیندہ اپڑاں بوُتھا نئیں دکھانا مجھے لعنتی ... ولیوں کا گُستاخ !!! "
میں خاموشی سے اٹھا اور واپس چل پڑا- صادق سے یہ میری آخری ملاقات تھی-
رجانہ والی بس میں کافی رش تھا- بمشکل سیٹ ملی- سورج غروب ہو رہا تھا- میں بس کے شیشے سے کھلے میدان میں چرتے مویشیوں کو دیکھنے لگا- ان کی تعداد سیکڑوں میں تھی اور ہر مویشی کے گلے میں ایک مخصوص گھنٹی بندھی ہوئ تھی- یہ دربار بابا شاہ عنایت کی نذر کے مخصوص جانور تھے-
مجھے لگا جیسے میں بھی نذر کا ایک مویشی ہی ہوں .... جس کے گلے میں پیدائش سے ایک مسلک کی گھنٹی بندھی ہے .... اور ... اب فتوی کی چُھری سے بچنے کےلئے ادھر ادھر بھاگ رہا ہوں ..... !!!
رات 8 بجے میں "دھوبیاں" پہنچا- اڈّے سے سائیکل اٹھائ ، عالیہ کو پیچھے بٹھایا اور رات 10 بجے گھر پہنچ گیا-
یہ جاننے کے باوجود کہ بدمست ہوائیں میرا نشیمن گرانے پر کمر بستہ ہیں ، میں کھڑکیاں دروازے بھِیچ کے ، لمبی تان کے سو گیا-
یہ جاننے کے باوجود کہ بدمست ہوائیں میرا نشیمن گرانے پر کمر بستہ ہیں ، میں کھڑکیاں دروازے بھِیچ کے ، لمبی تان کے سو گیا-
اگلے روز عشاء کی اذان کے بعد طوفان آ ہی گیا- پِنڈ کےچوکیدار نے اطلاع دی کہ نماز کے بعد مجھے "پرھیں" کے سامنے پیش ہونا ہو گا-
مولوی نزیر کی قیادت میں ایک پوری جے آئ ٹی میرے خلاف بیٹھ چکی تھی- ایک ایسا جرگہ جس کا فیصلہ ازل سے میرے خلاف لکھّا جا چُکا تھا-
* Darbar Baba Lung Wala was banned in early 2000 by order of Justice Ramdey against local hospital reports of severe infection in women vagina by these "lust models".
Story: QISSA HATIM TAI
Sub Story: Mullan Pur Ka Sain
Region: A Village near Kamalia Toba Tek Sing
Era: 1980,s
Theme: Religion and Society
Name and places are not reall.
A classical factious novel based on true story by ZAFAR GEE


No comments:
Post a Comment