عشق_کے_قیدی --20--- ظفرجی
27 فروری .... 1953ء .... کراچی
ہم سویرے سویرے ہی سنٹرل جیل پہنچ گئے-
چاند پوری نے پہلے تو وارڈن کو اچھی خاصی تبلیغ کی ، جب وہ ٹس سے مس نہ ہوا تو منّت سماجت کی- اس پر بھی دال نہ گلی تو ایک بھاری سی تھیلی جیب سے نکال کر اس کی جب میں گھسیڑی اور کہا :
" پورے دس روپے کا بھان ہے .... اب روک کے دکھا ..... "
وارڈن بے ہوش ہوتے ہوتے بچا- وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ رات کو گرفتار ہونے والے مولویوں کی پہلی ملاقات اس قدر قیمتی بھی ہوسکتی ہے- ایک ہزار " ٹیڈی پیسہ" بخشیش لیکر اس نے جیل کا گیٹ کھول دیا-
سونا اس دور میں 400 روپے فی تولہ تھا-
تھوڑی ہی دیر بعد ہم جیل کے اے کلاس وارڈ میں بیٹھے ماسٹر صاحب کی بپتا لکھ رہے تھے:
"بھائ ہم تو بِسمِ اللہِ مجرِھا و مرسھا .... پڑھ کر پولیس کی گاڑیوں میں سوار ہوگئے .... حکومت سے یہی امید تھی .... اگر بھاگنا ہوتا تو دفتر کا پچھلا دروازہ کھلا تھا اور پولیس بھی ادھر موجود نہ تھی ... لیکن ایسی اسیری پر سو آزادیاں قربان جس کا تعلق ناموسِ رسالت سے ہو .... جیل یاترا ہمارے لئے نئ بات نہیں .... ہماری بیشتر زندگی جیل خانوں میں ہی کٹّی ہے .... ہم یہاں کے ادب آداب سے خوب واقف ہیں ..... بلکہ ان جیل خانوں میں مولوی کا آنا بھی باعثِ رحمت ہے .... ایک مدّت کے بعد آج یہاں اذان فجر گونجی ہے .... باجماعت نماز ہوئ ہے .... باقی رہا جیل افسران کا رویہ .... تو ہم جانے پہچانے قیدی ہیں .... جو پورا ھندوستان گھوم پھر کر واپس جیل میں آ جاتے ہیں .... اب تک تو اچھا برتاؤ ہوا .... سونے کو پلنگ مل گئے .... صبح کے ناشتے میں ڈبل روٹی آگئ ... چائے آ گئ .... وہی چائے جس کا ذائقہ کیکر کی مسواک جیسا ہوتا ہے" انہوں نے ہنستے ہوئے کہا-
ماسٹر تاج الدین انصاری لدھیانہ کے ایک بہت بڑے رئیس اور سیٹھ تھے- تقسیم کے وقت لدھیانہ میں پاکستان سے آنے والے مہاجرین کے میزبان تھے .... بعد میں پاکستان تشریف لے آئے تو یہاں بھی مہاجر کیمپ کے انچارج بن گئے .... اگر نومولود ریاست میں اپنا کاروبار شروع کرتے تو یقیناً کروڑ پتّی ہوتے لیکن احرار کے فقیروں سے دوستی ہوئ تو پوری زندگی مرزائیت کے خلاف لڑتے ہوئے گزار دی .... اس جرم عظیم کی پاداش میں پہلے انگریز کی قید و بند برداشت کرتے رہے اب پاکستان کے ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی قید بھگت رہے تھے-
" سیاسی گرفتاری کے سبب فی الحال تو جیل کی AA کلاس وارڈ میّسر آئ ہے ..... میز کرسی چارپائ سب کچھ میّسر ہے ...
کافی کھُلا کمرہ ہے ماشاءاللہ .... دوپلنگ اور چھت والا پنکھا بھی ہے ..... یہ وہی کمرہ ہے جہاں کبھی مولانا شوکت علی اور مولانا محمد علی جوہر تحریک خلافت کی پاداش میں قید رکھّے گئے تھے ...... پنجرے وہی ہیں ، اسیر بدل گئے ہیں .... پہلے یہاں انگریز کے باغی رکھے جاتے تھے اور اب ذریّتِ انگریز کے باغی قید ہیں ..... باقی .... جس زندان میں حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری جیسے زندہ دل موجود ہوں ..... صاحبزادہ فیض الحسن جیسے خوش مزاج سجادہ نشیں تشریف فرماء ہوں ..... شمسی صاحب جیسا سراپا ہنگام نوجوان موجود ہو .... اور ہمارے جیسے بذلہ سنج موجود ہوں وہاں اسیری چیز ہی کیا ہے .... !!! "
ہے اسیری اعتبار افزاء جو ہو فطرت بلند
قطرہء نیساں سے ہوتی ہے صدف میں ارجمند
مُشک ِ ازفر چیز کیا ہے اک لہُو کی بوند ہے
مُشک ہو جاتی ہے ہو کے ناقہء آہو میں بند
ہم ماسٹر صاحب کی بپتا لکھ رہے تھے کہ جیل سپریڈنٹ ادھر آ نکلا- اس کے ہاتھ میں ڈنڈے کی بجائے تسبیح تھی- اس نے کمرے میں جھانک کر پوچھا:
" پیر صاحب کہاں تشریف فرما ہیں ؟"
ماسٹر صاحب نے اشارے سے ساتھ والے کمرے کا بتایا-
" کون سے پیر صاحب ؟؟" چاند پوری نے حیرت سے پوچھا
" اپنے سیّد عبدالحامد بدایونی صاحب .... جیل سپریڈنٹ کا پورا خاندان ان کا مرید ہے" .ماسٹر صاحب نے ہنستے ہوئے جواب دیا-
"کمال ہے .... پِیر صاحب جیل میں اور مُرید سپریڈنٹ .... ابھی تک یہ گستاخ سڑ کے سواہ نہیں ہوا !!! "
اتنی دیر میں وارڈن نے آکر اطلاع دی کہ سپریڈنٹ صاحب دوسرے کمرے میں بلا رہے ہیں- ہم بدایونی صاحب کے کمرے میں چلے آئے- جیل سپریڈنٹ پیر صاحب کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بیٹھا تھا-
"میرے لائق کوئ خدمت ہو تو حکم کیجئے .... رہائ کے علاوہ " سپریڈنٹ نے کہا-
"ہم رہائ چاھتے بھی نہیں " پیر صاحب نے کہا- "اگر ہو سکے تو ہمارے لئے ایک الگ کچن بنوا دیجئے ... اور کچّا راشن دے دیجئے .... ہم اپنا کھانا خٌود پکائیں گے ..... جیل کا کھانا ہمارے مزاج کا نہیں ہے"
ٹھیک نصف گھنٹے بعد جب ہم جیل خانے سے باہر آ رہے تھے تو مستری اور مزدور اینٹ سیمنٹ لئے جیل کے سامنے کھڑے تھے- پیر صاحب کی کرامات کا ظہور ہو چکا تھا-
ہم شہر کی صورتحال جاننے کےلئے صدر کی جانب روانہ ہوگئے-
شہر بھر میں ہڑتال تھی اور تمام مارکیٹس اور ٹرانسپورٹ بند- بندر روڈ پر عوام کا ایک بحر بیکراں موجزن تھا- یہ جمیعت علمائے اسلام کا جلوس تھا جو صدر کی طرف روانہ تھا- ہم جلوس کو چیرتے بمشکل سیون ڈیز تک پہنچے- سامنے جامع کلاتھ کی طرف سے جمیعت علمائے پاکستان کا جلوس چلا آ رہا تھا- سیون ڈیز سے ہم صدر کی طرف گھومے تو انجمنِ تحفظِ حقوق شیعہ کا جلوس ایمپریس مارکیٹ کے سامنے کھڑا تھا- عوام پرجوش تھے اور پولیس پریشان-
تقریباً چھ سات ہزار نفوس یہاں جمع تھے- پولیس کی صرف چھ گاڑیاں اور ایک ٹرک جلوس کا راستہ روکے ہوئے تھے- ایک پولیس انسپکٹر وائرلیس پر کمشنر کراچی اے ٹی نقوی کو صورتحال بتا رہا تھا-
"سر ہجوم بڑھ رہا ہے .... ہمارے پاس فورس بہت کم ہے .... اوور !!! "
"اگر یہ لوگ پرامن احتجاج کرتے ہیں تو ان کو کرنے دو .... اوور !!! "
" سر یہ لوگ گرفتاریاں دینا چاھتے ہیں .... اوور !!! " انسپکٹر نے کہا-
"ٹھیک ہے .... جو گرفتاری دینا چاھتا ہے ....اسے گرفتار کر لو ....اوور"
"لیکن سر!! .... ہمارے پاس گاڑیاں صرف تین ہیں اور یہاں چھ ہزار آدمی کھڑا ہے ...... مزید لوگ بھی آ رہے ہیں "
"باری باری سب کو بٹھا کر جیل خانے چھوڑ آؤ .... اوور "
ہجوم جو پہلے ہی بے تاب کھڑا تھا ، پولیس گاڑیوں پر ٹوٹ پڑا- پل بھر میں چھ موبائل وین اور ایک ٹرک لبالب بھر چکے تھے-
یہ سب لوگ جیل جانا چاھتے تھے ... جیل انتظامیہ ایک ساتھ اتنے قیدی سنبھالنے کو تیّار نہ تھی- قید کرنے کےلئے اچھی خاصی ضابطے کی کاروائ کرنا پڑتی ہے- انسپکٹر نے ایک بار پھر اے-ٹی -نقوی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا " ٹھیک ہے .... بغیر اندراج کے اندر جانے دو"
اس پر ہجوم تمام رکاوٹوں کو توڑتا جیل خانے میں گھُس گیا- انوکھا منظر تھا کہ ہر کوئ عشق کا قیدی بننا چاھتا تھا- بڑے تو بڑے بچّے تک گھروں سے اسیری کےلئے تیّار ہو کر آئے تھے- پہلے دِن چار ہزار مسلمانوں نے خود کو گرفتاری کےلئے پیش کیا- کراچی سینٹر جیل کسی ریلوے پلیٹ فارم کا منظر پیش کرنے لگی- ہر شخص یہاں اپنے لئے ایک مناسب پنجرے کی تلاش میں تھا ، جہاں قید ہو کر وہ ختمِ نبوّت کے اسیروں میں اپنا نام لکھوا سکے-
ہر کسی کی تربیّت کرتی نہیں قدرت مگر
کم ہیں وہ طائر کہ ہیں دام و قفس سے بہرہ مند
شہپرِ زاغ و زغن دربندِ قید و صید نیست
ایں سعادت قسمتِ شہباز و شاہیں کردہ اند


No comments:
Post a Comment