عشق_کے_قیدی --19--- ظفرجی
اسکندر مرزا اور مسٹر جی-احمد نے نصف شب وزیرِ اعظم ہاؤس کی کنڈی کھٹکائ-
خواجہ صاحب لباس شب خوابی میں ہی بھاگے چلے آئے-
"کھیریت ؟؟ اتنا رات گئے کیا مُسکل ہو گیا ؟ "
کچھ دیر خاموشی رہی پھر مسٹر جی-احمد ایک ٹھنڈی سانس لیکر بولے-
" سیچویشن اِز ویری کرِیٹیِکل سر !!!"
"کیوں .... کیا ہوا .... کیا زولسے میں کوئ ہنگومہ ہو گیا ؟" وزیر اعظم نے متفکّر ہو کر پُوچھا-
"ا سکندر مرزا .... وزیر اعظم کو ڈیٹیل بتلاؤ "
اسکندر مرزا نے بمشکل آنکھیں کھولیں اور جھومتے ہوئے کہا:
" ہنگامہ نہیں سر .... بغاوت ..... مولویز آر آؤٹ آف کنٹرول .... دے ہیو ڈیکلیئرڈ اے وار ... اگینسٹ اسٹیٹ .... کل سے کراچی میں تباہیاں ہونگی ..... تباہیاں ..... !!! "
" کمول کا بات ہے .... مولوی لوغ میٹنگ میں تو کُس اور بولتا تھا .... اب زولسے میں کُس اور بول رہا ہے ؟؟ "
" سر مولوی اور موسم کا کیا اعتبار ؟؟ ...... جو بادل آج گرج رہے ہیں ...... کل برس پڑے تو سب کچھ بہ جائے گا .... اس لئے جتنا جلدی ہو سکے ....... ان کڑکتی بجلیوں کو قید کیجئے .... ایکشن مسٹ بی ٹیکن ٹونائیٹ !!!! .... "
" کیوں مستر جی-احمد .... آپ کیا بولتا ہے ؟؟" وزیرِ اعظم نے تصدیق چاہی-
" ایگریڈ وِد مرزا سر .... کل تک اس طوفان کو روکنا بہت مشکل ہو جائے گا "
سادہ اور پروقار وزیر اعظم نے یہ پوچھنے کی زحمت بھی نہ کی کہ جلسے کی رپورٹ دینا تو انٹیلیجنس کی ذمّہ داری ہے- آپ حضرات کس خوشی میں باولے ہوئے جاتے ہو-
" کمسنر کراسی سے بات کراؤ ... فوراً " وزیر اعظم نے کہا-
تھوڑی ہی دیر میں کمشنر کراچی اے ٹی نقوی لائن پر موجود تھے-
⊙__________⊙
رات ایک بجے جلسہ تمام ہوا-
بندر روڈ پر عوام کا ایک سمندر موجزن تھا- آرام باغ سے لیکر جامعہ کلاتھ تک لوگ ہی لوگ تھے- راستے میں جگہ جگہ میمن اور اسماعیلی برادری نے دودھ ، قہوے ، گرم انڈے ، حلوہ پوری اور چائے کے اسٹال لگا رکھّے تھے- عاشقان رسول ﷺ کا تین روزہ میلہ اہلِ کراچی کا ایمان جگمگا کر آج ختم ہو رہا تھا-
میں چاند پوری صاحب کے ساتھ بائسکل پر تھا- بھرے مجمع میں بائسکل کیا چلتی ، پیدل ہی گھسیٹ رہے تھے- جامع کلاتھ کے سامنے عالم شاہ بخاری کے مزار پر خوب میلہ تھا- ہم وہاں بیٹھ گئے اور چائے کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنے لگے- چاند پوری بہت پرجوش اور پرامید تھے-
" صدیوں بعد ، پہلی دفعہ اُمّت محمدی ﷺ ایک اسٹیج پر اکٹھی ہوئ ہے یار .... ماشاء اللہ .... مُفتی محمد شفیع ، اور مولانا احتشام الحق تھانوی نے آج ایک ساتھ نماز پڑھی ہے .... سبحان اللہ ..... مدتوں سے سینگ پھنسائے ان دو بڑے علماء کے بیچ تعصب کی دیواریں گرانے کا سہرا مجلسِ احرار کے لال حسین اختر کے سر ہے .... ہیرا آدمی ہے یار ہیرا .... لال حسین پہلے قادیانی تھا ، اللہ نے ھدایت دی اور آج اٌمتِ مسلمہ کو جوڑ رہا ہے .... اللہ اُسے خوش رکھّے"
" واقعی اس جلسے نے ثابت کر دیا ہے کہ عوامی جذبات علمائے دین کی مٹھی میں ہوتے ہیں .... علماء آپس میں خلوص سے مصافحہ کریں تو عوام گلے ملتی ہے ..... ایک دوسرے پر دھاڑیں تو لاشیں گرتی ہیں "
" بس یار اب دُعا کرو کہ اتحادِ امّت قیامت تک قائم رہے .... اور اس کی برکت سے دارالحکومت کا دل بھی پگھل جائے ..... حکومت مطالبات پر غور کرے اور کل کا سورج کوئ اچھی نوید لیکر طلوع ہو "
" امین .... اب اس اتحاد امّت کی خوشی میں ایک پیالہ دودھ جلیبی تو کھلا دیں" میں نے فرمائش کی-
"کیوں نہیں ..... ضرور ضرور " یہ کہ کر چاند پوری بیکری کی طرف نکل گئے-
رات دو بجے کا عمل تھا- سڑک پر اب خال خال ہی لوگ نظر آ رہے تھے- دربار پر کچھ لوگ بیٹھے قوالی سُن رہے تھے- ان دنوں ھندوستان بھر میں دِین محمد جالندھری قوال کا طوطی بولتا تھا- کم و بیش سارے قوال دین محمد جالندھری کی ہی نقل کیا کرتے تھے-
چاند پوری دو پیالے دودھ جلیبی لے آئے- میں دین محمد قوال کے سروں پر سر دُھننے لگا:
ایہہ میلہ محمّد ﷺ دے مستانیاں دا
دِلآ اُٹھ کہ ویلا ہے شُکرانیاں دا
یہ محمّد ﷺ کے دیوانوں کا میلہ ہے- جاگ اے دِل ، کہ شکر بجا لانے کا وقت ہے-
اچانک ہی فضاء سائرن کی آواز سے گونج اُٹھی-
سامنے بندر روڈ سے پولیس کی تین گاڑیاں اور ایک پولیس بس گُزری-
چاند پوری اور میں نے چونک کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا-
"یا اللہ خیر .... یہ لشکرِ جرارّ کہاں جا رہا ہے !!! " چاند پوری بڑبڑائے-
"لگتا ہے .... وزیرِ اعظم صاحب آ رہے ہیں مجلس والوں سے ملنے " میں نے خیال ظاہر کیا-
" نہیں ..... کچھ اور معاملہ ہے .... اُٹھو چل کے دیکھتے ہیں"
ہم پیالوں اور قوالوں کو وہیں چھوڑ کر روڈ کی طرف بھاگے-
گاڑیاں ایک قدیم عمارت کے سامنے آ کر رُک گئیں-
پولیس کے چاک و چوبند دستے پوزیشنیں سنبھالنے لگے- کچھ افسران سول لباس میں تھے- کمانڈر جوانوں کو متعیّن کر کے گاڑی میں نصب وائرلیس پر ھدایات وصول کرنے لگا-
" یس سر ... عمارت کو گھیرے میں لے لیا سر !!! ... یس سر ... سر ... سر "
میں نے عمارت کی دوسری منزل پر نصب سبز رنگ کا بورڈ پڑھنے کوشش کی-
" دفتر مجلسِ ختمِ نبوّت ....کراچی!!!"
پولیس افسر ہاتھ میں پستول تھامے آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگا- اس کے ساتھ سول لباس میں خُفیہ والے بھی تھے- انہوں نے زور سے دروازہ کھٹکھٹایا :
" دروازہ کھولو ورنہ توڑ دیا جائے گا ...."
کچھ دیر بعد دروازہ کھُلا اور پولیس افسران اندر چلےگئے-
کوئ دس منٹ تک خاموشی رہی- فضاء میں صرف قوالی کے بول ہی باقی رہ گئے ....
مدینے دا ساقی ، ہے ورساں دا مستی
او مستی ، جیندے وچ ہے مستاں دی ھستی
جے سَر دے کے مل جائے ، اے مئے ہے سستی
ہے اس مئے کدے وِچ ، بلندی ناں پستی
ہے عرش بریں فرش مستانیاں دا
سب سے پہلے سیّد ابوالحسنات عصاء ٹیکتے باہر نِکلے- ان کے پیچھے امیرِ شریعت سیّد عطاءاللہ شاہ بخاری نظر آئے ، پھر صاحبزادہ سیّد فیض الحسن اترے .... خمارِ عشقِ محمد ﷺ سے سرشار ان مستانوں کےلئے آزادی اور زندان میں فرق بھی کیا تھا ؟؟ ان کی تو نصف ریل میں اور باقی جیل میں کٹی تھی ، دکھ تو ان بے بصیرت حکمرانوں پر تھا جنہوں نے علمائے حق کے مطالبات کو نظرانداز کر کے میر جعفر کے پڑپوتے کا مشورہ مان لیا- جنہوں نے ذُریّتِ مرزا کو کھلا چھوڑ کر سیّد زادوں کو پابہء زنجیر کر دیا-
دفتر سے کل آٹھ علماء گرفتار ہوئے- ان میں مولانا لال حسین اختر ، جناب عبدالرحیم جوہر ، جناب نیاز لدھیانوی ، اسد نواز ایڈیٹر حکومت ، اور ماسٹر تاج الدین انصاری بھی شامل تھے- مولانا حامد بدایونی اور مظفر علی شمسی صاحب اگلے روز گھروں سے گرفتار کئے گئے-
پولیس گاڑیاں ہوٹر بجاتی ہوئ سینٹر جیل کراچی کی طرف روانہ ہو گئیں- میں اور چاند پوری صاحب تھکے قدموں سے واپس چل پڑے- ہم دونوں خاموش تھے اور بے حد افسردہ-
ہم ایک بار پھر ہم بابا عالم شاہ بخاری کے مزار پر جا بیٹھے ، جہاں قوال گردوپیش سے بے خبر مئے خانہء عشق و مستی کا احوال سنا رہے تھے:
عجب مستیاں ہین ، اس مئے دے اندر
کہ ہے قطرے قطرے دی تہہ وچ سمندر
جنہیں بوند پیتی او بنیاں قلندر
نہ معبد کلیسا نہ مسجد نہ مندر
ہویا دل اے دیوانہ ، مئے خانیاں دا
مدینے دا ہے ، مئے کدہ کچھ نرالا
ہر اک جام ہے ، درسِ توحید والا
چراغِ محبّت او حق دا اجالا
دِتّا جس نوں ساقی نے ، عشق دا پیالا
براھیم ہے سارے بت خانیاں دا
ایہہ میلہ محمد ﷺ دے مستانیاں دا


No comments:
Post a Comment