ISHQ KY QAIDI EP#3



عشق_کے_قیدی --3--- ظفرجی
کچھ ہی دیر میں ہال کچھا کھچ بھر چکا تھا-
 چاندپوری مجھے ایک کونے میں دھکیل کر ایک بار پھر کہیں گم ہو چکے تھے-
 " اختر علی خان ... روزنامہ زمیندار .... کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں ؟؟ " ایک نوجوان میرے سر پر آن کھڑا ہوا-
 " جج .... جی جی .... ضرور .... " میں اپنی کرسی پر بیٹھا بیٹھا سکڑ گیا-
" نوازش  ... کس روزنامچے سے ہیں آپ .... ؟؟ " انہوں نے بیٹھتے ہی پوچھا-
" جی میں وہ ... دراصل .... چچ ... چاند پوری ... " میں ہکلایا-
" چاند پوری ؟؟ ماشاءاللہ کہاں سے چھُپتا ہے ؟؟ "
 "ہر پانچ منٹ بعد چُھپ جاتا ہے .... وہ رہے .... وہ تیسری قطار میں ... وہ جن کے ہاتھ میں سموسہ ہے .... میں ان کے ساتھ ہوں !!!"
"اچھا ... اچھا .... ماشاءاللہ !!!" وہ چشمہ درست کرتے ہوئے بولے-
 میں کچھ دیر کن اکھیوں سے ان صاحب کو ٹٹولتا رہا پھر ہمت جمع کر کے بولا:
"روزنامہ زمیندار وہی ہے ناں .... جسے  مولانا ظفر علی خان چلاتے ہیں ؟؟ "
 "جی وہ میرے والدِ محترم ہیں .... ضعف پیری غالب ہو چکا .... اب میں چلا رہا ہوں اخبار "
 میں چونک کر ظفرُالملّت وَالدِین کے سپوت کو حیرت و عقیدت سے دیکھنے لگا ...
اسی دوران  ہال میں ایک انتہائ رعب دار شخصیّت داخل ہوئ- مولانا اختر علی خان احتراماً اٹھ کھڑے ہوئے- میں بھی دیکھا دیکھی کھڑا ہو گیا-
" امیرِ شریعت آئے ہیں !!! " انہوں نے سرگوشی کی-
" اوہ .... سبحان اللہ " میرے مونہہ سے نکلا-
 امیرِ شریعت کا ذکر میں نے کئ کتابوں میں پڑھا تھا .... اور علماء کی تقریروں میں بھی سنا تھا .... آج چشم تخیّل سے پہلی بار زیارت نصیب ہو رہی تھی .... چہرہ پربہار ، زلفِ خمدار ، نگاہوں میں عشقِ رسول ﷺ کا خمار ، بڑھاپے کے باوجود شخصیّت میں ایک عزم .... ایک وقار ... !!!
لوگ احتراماً کھڑے ہونے لگے-
" ساتھ کون حضرات ہیں ؟ " میں نے پوچھا-
" ماسٹر تاج الدین .... شیخ حسام الدین ....  اور صاحبزادہ فیض الحسن صاحب "
امیر شریعت حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری کو اسٹیج کے سامنے پہلی قطار کی کرسیوں میں جگہ دی گئ- وہ بیٹھنے لگے تو ایک بزرگ نے ان کے کان میں آکر کچھ سرگوشی کی-
 شاہ صاحب دوبارہ اٹھے اور اپنے دائیں جانب تشریف فرماء بابو جی رح کے پاؤں کی طرف دونوں ہاتھ بڑھا دیے- بابوجی نے دونوں ہاتھ تھام لئے اور گلے سے لگا لیا- امیرِ شریعت نے پیر صاحب کا ماتھا چوما اور شعر پڑھا :
کتھے مہر علی کتھے تیری ثناء
گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں
 کچھ دیر بعد ایک خوش الحان قاری نے تلاوت کلام پاک سے ماحول کو مشکبار کیا- پھر مولانا عبدالستار نیازی صاحب اسٹیج پر تشریف لائے ... جیب سے ایک پرچی نکالی .... اور پرسوز آواز میں نعت شریف کے پھول بکھیرنے لگے :

یا مصطفی ، خیرالوری ، تیرے جیہا کوئ نہیں
کینوں کہواں تیرے جیہا ، تیرے جیہا کوئ نہیں
تیرے جیہا سوہنا نبی ، لبھّاں تے تاں جے ہووے کوئ
مینوں تاں ہے ایناں پتا ، تیرے جیہا کوئ نہیں

اس کے بعد صاحبزادہ گولڑہ شریف اسٹیج پر تشریف لائے اور فرمایا:
"یہاں ہر مسلک کے علمائے کرام موجود ہیں ---- کچھ سے موافقت رہی ہے ---- کچھ سے اختلاف رہا ہے ---- اور کچھ سے سخت کشیدگی ---- میں سب کو معاف کرتا ہوں اور سب سے معافی کا طالب ہوں ----- راولپنڈی کے عالم دین مولانا غلام اللہ خان سے ہماری مخاصمت کسی سے ڈھکی چھپّی نہیں ---- ان کے اور ہمارے بیچ بے شمار اختلاف ہیں لیکن حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ختم نبوّت کے صدقے میں مولانا غلام اللہ خان کے جوتے بھی اٹھانے کو تیار ہوں ----"

پیر صاحب نے ایک ہی عاجزانہ پھونک سے فرقہ واریت کی وہ آگ بجھا دی جس میں ربع صدی سے ھندوستان کا مسلمان جل رہا تھا-
پورا ہال سبحان اللہ ماشاءاللہ کی صداؤں سے گونج اٹھا-
 " مسئلہء ختمِ نبوّت کی برکات کا ظہور ہو چکا ...." مولانا اخترعلی خان بول اٹھے- " صدیوں بعد اختلاف کی برف پگھلی ہے بھائ .... 1935ء میں مسجد شہید گنج موومنٹ کےلئے بھی اس طرح کا اتحاد پیدا نہ ہو سکا تھا .... شاید آپ کو یاد ہو ؟ "
 " جی میں تھوڑا بعد میں پیدا ہوا تھا .... البتہ آج کا اجتماع واقعی روح پرور ہے" میں نے سادگی سے جواب دیا-
 اس کے بعد تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا- تمام مکتبِ فکر کے علمائے کرام اور صوفیائے عظام نے کھل کر عقیدہء ختمِ نبوّت کا دفاع کیا- اور مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوّت کے تارپور بکھیر دیے- مقررین اس نکتہ پر متفق تھے کہ ملک میں مرزائیت کا کھوٹا سکّہ نہیں چلنے دیں گے- حکومت آئین میں مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیکر سرظفراللہ کو وزارتِ خارجہ کے قلمدان سے برخواست کرے- کیونکہ انہوں نے قائدِ اعظم کا جنازہ یہ کر پڑھنے سے انکار کر دیا تھا کہ ایک "مسلمان" کسی کافر کا جنازہ کیسے پڑھ سکتا ہے-
 تقاریر جاری تھیں کہ مجھے نیند نے آلیا- میں کرسی سے ٹیک لگائے اونگھنے لگا- جانے میں کتنی دیر سویا رہا- اچانک ایک بھاری بھر کم آواز نے مجھے جگا دیا- یوں لگ رہا تھا جیسے ہال میں زلزلہ آ گیا ہو:

" میں میاں ﷺ کے سوا کسی کا نہیں ----- نہ اپنا نہ پرایا ------ میں اُنہیں کا ہوں ------ وہی میرے ہیں ----- جن کے حسن و جمال کو خود ربِ کعبہ نے قسمیں کھا کھا کر آراستہ کیا ---- میں ان کے حسن وجمال پر نہ مر مٹوں تو لعنت ہے مجھ پر ----- اور لعنت ہے اُن پر جو ان کانام تو لیتے ہیں -------- لیکن سارقوں کی خیرہ چشمی کا تماشا بھی دیکھتے ہیں ---- جو نام نہاد مسلمان نبوّت کے ڈاکوؤں سے حسنِ سلوک اور رواداری کے قائل ہیں ---- وہ حرماں نصیب روز محشر شفیعِ اُمّت ﷺ کے سامنے کیا مونہہ لے کر جائیں گے ---- جو میاں ﷺ کا نہیں وہ اس قابل نہیں کہ اسے مونہہ بھی لگایا جائے ----!!!! "

پُوری محفل دم بخود ہو کر امیرِ شریعت رح کا خطاب سن رہی تھی- :

" مسلم لیگ والو !!! ------ تم ناموس رسالت کا تحفظ کرو ---- میں تمہارے کُتّے بھی پالنے کو تیار ہوں ---- میں تمہارے سؤر چرانے کو تیّار ہوں ----- میں پوچھتا ہوں پاکستان کس نے بنایا ؟؟ ----- مسلم لیگ نے یا جماعت احمدیہ نے ؟؟ ----- مرزا بشیرالدین اور سرظفراللہ کا پاکستان سے کیا تعلق ہے ؟؟ ----- یہ دُم بریدہ سگاں برطانیہ ----- اب پاکستان میں دندناتے پھر رہے ہیں ----- میں پوچھتا ہوں کیوں ؟؟؟ ---- ہم ان کی یہ غدّارانہ سرگرمیاں ہرگز برداشت نہیں کریں گے ----- اور پاکستان کو مرزائ اسٹیٹ نہیں بننے دیں گے -- !!"

کنوینشن کے بعد علمائے کرام ہال سے نکلے تو اخباری نمائندوں نے گھیر لیا-
 " ہم نے ایک مشترکہ مجلسِ عمل تشکیل دے دی ہے ..... جو مسئلہء قادیانیت پر عوامی بیداری کے ساتھ ساتھ حکومت سے اس مسئلے پر مذاکرات بھی کرے گی" ابوالحسنات نے کہا-
 "حکومت کے سامنے آپ کیا مطالبات رکھیں گے" ایک رپورٹر نے دریافت کیا-
"ھم نے چار مطالبات حکومت کے سامنے رکھے ہیں .....
قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے ....
سرظفراللہ خان کو وزارتِ خارجہ سے برطرف کیا جائے ....
تمام قادیانیوں کو کلیدی پوسٹوں سے ہٹایا جائے ....
اور ربوہ شہر کو عام مسلمانوں کےلئے کھول دیا جائے ....
 "مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں مجلس کی حکمت عملی کیا ہوگی ؟ "
 "ہم ایک پر امن تحریک چلائیں گے .... اور ہم پرامید ہیں کہ حکومت مسئلے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہمارے مطالبات پر ضرور غور کرے گی .... یہ صرف ایک مذھبی مسئلہ نہیں .... بلکہ یہ ایک سیاسی اور معاشرتی مسئلہ بھی ہے ...."
"کیا آپ کو یقین ہے کہ یہ تحریک کامیاب ہو گی؟؟ "
 " دیکھئے .... ساڑھے تیرہ سو سال میں بے شمار کذاب مدعانِ نبوّت آئے .... اور آج دنیا ان کے نام سے بھی واقف نہیں .... حکومت میں بیٹھے سیاسی حکیم اور دانشور بھلے مرزائیت کے جاں بلب گھوڑے کی مالش کرتے رہیں ... ہمیں یقین ہے کہ سواری اور شہسوار ایک دن ضرور مونہہ کے بل گریں گے .... ہم تو اس جدوجہد میں بس اپنی قبولیت کے متلاشی ہیں ...."
 چاندپوری کاپی پینسل سنبھالے نوٹس لے رہے تھے .... اور میں عشقِ مصطفی ﷺ میں گُندھی صورتوں کو دیکھ رہا تھا کہ دیکھنا جن کا کسی ثواب سے کم نہ تھا ....

No comments:

Post a Comment