ISHQ KY QAIDI EP#4


عشق_کے_قیدی --4--- ظفرجی

18 مئ ---- 1952ء ---- جہانگیر پارک کراچی
 چاند پوری ایک درخت سے ٹیک لگائے پان چبا رہے تھے اور میں گھاس پر بیٹھا مکھیاں مار رہا تھا-
رات ہی ہم ٹرین کا سفر کر کے کراچی پہنچے تھے-
عصر کا وقت تھا اور ہم جہانگیر پارک کی گھنّی  چھاؤں میں بیٹھے تھے-
 ہر پانچ منٹ بعد اسپیکر سے "ایلو ایلو ایلو مائک ٹیسٹنگ " کی آواز آتی .... چاند پوری نیم واء آنکھیں کھولتے پھر درخت کی جڑ میں ایک پچکاری مار کر کہتے " اندھیر نگری ہے بھئ .... اندھیر نگری !!! "
جہانگیر پارک میں قادیانیوں کا سالانہ جلسہ تھا- شہر بھر میں جلسے کے اشتہارات لگائے گئے تھے جن پر آویزاں ظفراللہ خان کی قد آدم تصاویر قوم کا مونہہ چڑھا رہی تھی- دو ہی ہفتے قبل وزیراعظم نے سرکاری وزراء اور ملازمین کی مذھبی جلسوں میں شرکت پر پابندی لگائ تھی-
میں نے ایک ہاکر سے اخبار خریدا اور گھاس پر لیٹ کر پڑھنے لگا-
 " لو جناب .... خوش ہو جائیے .... وزیرِ خارجہ نہیں آ رہے آج کے جلسے میں "
"کیوں ؟؟ ... فوت ہو گئے کیا ؟؟" چاند پوری بیزاری سے بولے-
" نہیں .....  وزیرِ اعظم نے فون کر کے انہیں کراچی جلسے میں شرکت سے منع کر دیا ہے .... یہ دیکھئے روزنامہ فرمان "
انہوں نے بے دلّی سے اخبار دیکھا اور کہا:
 " اس فرمانِ شاھی کی ھنڈیا بیچ چوراہے پھوٹے گی .... انشاءاللہ .... !!! "
" کیا مطلب ؟؟"
"مطلب یہ کہ سرظفراللہ ڈنکے کی چوٹ پر آئیں گے"
" وزیر اعظم کے منع کرنے کے باوجود ؟؟؟ "
 " وزیراعظم کو پوچھتا کون ہے بھائ ؟ وزیرِ خارجہ چھینکتے بھی خلیفہ کی مرضی سے ہیں "
"خلیفہ کون ؟؟ "
"خلیفة القادیان فی ربوہ شریف .... کروائیں گے کبھی آپ کو زیارت"
 " وزیرِ اعظم نے ایک بار پھر کہا ہے کہ سرکاری ملازمین اور حکومتی وزراء مذھبی جلسوں سے دور رہیں "
 " یہ حکم صرف مسلمانوں کےلئے ہے .... مرزائی اس سے مستسنی ہیں .... اور کچھ ؟؟"
میں خاموشی سے کھیلوں کی خبریں پڑھنے لگا-
 " اس سے پہلے کہ جلسے کی تقاریر سن کر ہاضمہ خراب ہو جائے .... چلو کچھ کھا کر آتے ہیں " چاند پوری نے کہا اور ہم "چلو کباب سبحانی ھوٹل" پر جا کر بیٹھ گئے-

____________________________

مغرب کے بعد جلسہ گاہ کی تمام نشتیں پر ہو چکی تھیں-
 مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بھی اچھی خاصی تعداد یہاں موجود تھی- گاڑیوں کی چھتّوں کے علاوہ درختوں پر بھی لوگ قبضہ جمائے بیٹھے تھے-
"چلو ہم بھی کوئ مناسب شاخ ڈھونڈتے ہیں .... "
"درخت پر بیٹھنا ضروری ہے کیا ؟؟ " میں نے کہا-
 " واجب ہے بھائ واجب !!! .... جلسہ گاہ میں بیٹھ کر بندہ پچکاریاں تھوڑی مار سکتا ہے !!! "
 تھوڑی سی مشقّت کے بعد ہم بھی ایک درخت پر مورچہ بنانھ میں کامیاب ہو گئے- یہاں اچھی خاصی روشنی تھی اور اسٹیج کا منظر بھی صاف دکھائ دیتا تھا-
جوں جوں رات ڈھل رہی تھی ، جلسہ گاہ کی رونق بڑھتی جا رہی تھی-
 رات دس بجے اچانک اعلان ہوا " وزیر خارجہ پاکستان سرظفراللہ خان جلسہ گاہ میں تشریف لا چکے ہیں ...!!!! "
نعروں اور تالیوں کے شور سے پنڈال گونج اٹھا-
چاند پوری مجھے پینسل چبھو کر بولے:
 " کیا کہا تھا میں نے ؟؟ سرظفراللہ دنیا تو چھوڑ سکتے ہیں ... قادیانیوں کا جلسہ مِس نہیں کر سکتے !!!"
 تھوڑی ہی دیر بعد جلسے سے سرظفراللہ خان کا "فکر انگیز" خطاب شروع ہو چکا تھا- چاند پوری مونہہ میں گلوری دبائے دھڑا دھڑ تقریر کے نوٹس لینے لگے :

" انجمن کے ساتھیو ----- !!!! جنابِ وزیرِ اعظم نے دو روز پہلے کہا تھا کہ میں اس جلسے میں شرکت نہ کروں ----- سردار عبدالرب نشتر صاحب کا بھی فون آیا تھا ------- لیکن میں نے جواب دیا کہ میں انجمن سے وعدہ کر چکا ہوں ------"

" یہ انجمن کون ہے ؟؟ " میں نے چاندپوری سے پوچھا-
" کلکتہ کی طوائف !!! " انہوں نے چشمے کے پیچھے سے آنکھ ماری-

" آئ ایم مین آف پرنسپل ------- اگر کچھ روز پہلے وزیراعظم مجھے کہتے تو شاید میں رک جاتا ------ لیکن وعدہ کر لینے کے بعد اس جلسے میں تقریر کرنا ------ میں اپنا فرض منصبی سمجھتا ہوں ------ اگر اس کے باوجود بھی وزیرِ اعظم یہ سمجھتے ہیں کہ میں غلطی پر ہوں -------- تو میں اپنا استعفی دینے کو تیّار ہوں ------ !!!!! "

پنڈال ایک بار پھر نعروں سے گونج اُٹھا اور دیر تک تالیاں بجتی رہیں-
" استعفی دیں ان کے دشمن .... دیکھو  ایک تیر سے کئ شکار کر لئے " چاندپوری نے تبصرہ کیا-

"میری آج کی تقریر کا عنوان ہے ------ اسلام ایک زندہ مذھب ہے ------ انجمنِ احمدیہ کے متوالو ------- !!!! قران آخری الہامی کتاب ہے ------ جس میں عالمِ انسانیّت کےلئے آخری ضابطہء حیات مہیّا کر دیا گیا ہے ------ کوئ بعد میں آنے والا ضابطہ اس کو موقوف نہیں کر سکتا ------ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلّم خاتم النّبین ہیں ------ جنہوں نے عالمِ انسانی کو اللہ کا آخری پیغام پہنچا دیا ہے ------ اور اس کے بعد کوئ نبئ شریعت نہیں آ سکتا اور نا ہی کوئ شخص قرانی شریعت کے ضابطوں کو منسوخ کر سکتا ہے ------ !!!! "

میں نے حیرت سے چاند پوری کی طرف دیکھا تو وہ ایک تازہ گلوری مونہہ ٹھونس کر بولے:
"آخر میں مینگنی ڈالے گا .... تم ذرا صبر تو کرو  .... مرزا صاحب بھی یہی کرتے تھے "

" اور یہ رسول اللہ کا وعدہ ہے ------ نبی کا وعدہ ہے ------ کہ ایسے لوگ اس امّت میں پیدا ہوتے رہیں گے جو دین کی اصلاح و تجدید کریں گے ------ جو بدعات کا خاتمہ کریں گے ----- یہ لوگ مامور من اللہ ہونگے ------ اور تجدید دین پر مامور ہونگے ---- اور اسلام کی اصل پاکیزگی بحال کریں گے ------ مرزا غلام احمد ایسے ہی ایک مجدّد تھے ------ احمدیّت ایک ایسا پودا ہے جو اللہ نے خود لگایا ہے ----- اور اب جڑ پکڑ چکا ہے ------ تاکہ قران کے وعدے کی تکمیل ہو ------ اور اسلام کی حفاظت کا ضامن بنے ---- اور اگر یہ پودا اکھیڑ دیا گیا تو اسلام زندہ نہیں رہے گا ------ بلکہ ایک سوکھے درخت کی مانند ہو جائے گا ----- اور دوسرے مذاھب پر اپنی برتری کا ثبوت مہّیا نہیں کر سکے گا ----- !!! "

" سن لو .... یعنی قادیانیّت ایک شجرِ پُر بہار .... اور اسلام ایک سوکھا درخت " چاند پوری پان تھوکتے ہوئے بولے-
 " آپ کی پچکاری نیچے کسی احمدی پر گر گئ تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے " میں نے کہا-
" کچھ نئیں ہوتا ..... ہم بھی تو ان کی پچکاریاں برداشت کر رہے ہیں .... "
وزیر خارجہ نے تقریر جاری رکھّی :

" انجمنِ احمدیہ کے ساتھیو ----- !!! تمہیں اس شجرِ پر بہار کی حفاظت کرنی ہے ------ اور اس پیغام کو ملک کے ہر خاص و عام تک پہنچانا ہے ------ کہ مُلائ اسلام ایک مُردہ مذھب ہے ------ اور احمدی اسلام ایک زندہ مذھب !!!! "

"اب تو آگئ بات سمجھ شریف میں .... یا مزید تشریح کی ضرورت ہے ؟؟" چاند پوری نے مجھے ٹہوکہ دیا-
"واقعی .... بڑی ظالم پچکاری ماری ہے ... " میں نے کہا-
 اچانک جلسہ گاہ کی طرف سے شور برامد ہوا اور چوھدری ظفراللہ کی تقریر رک گئ-
نامعلوم سمتوں سے آنے والے پتھروں نے جلسہ درہم برہم کر دیا تھا-
 "اب جلدی اترو .... اور بھاگو .... مجاھدین پہنچ گئے ہیں .... " چاندپوری نے کہا اور ہم تیزی سے نیچے اترنے لگے-
ہم دوڑتے بھاگتے امپریس مارکیٹ پہنچے تو پہلا دھماکہ ہوا-
 پتھراؤ کرنے والے مظاہرین پر پولیس آنسو گیس کے گولے فائر کر رہی تھی-
ہمارے سامنے سے  پولیس کی گاڑیاں ہوٹر بجاتی ہوئ گزریں- وزیرِ خارجہ واپس جا رہے تھے-
چاند پوری نے کہا:
"بس آج سے ملک میں قادیانیت کا تختہ الٹ گیا .... "
" وہ کیسے .....؟؟ "
 " پہلا پتھّر اہلیانِ کراچی نے مار دیا ..... اب پورے پاکستان میں ان کے جلسے یونہی الٹائے جائیں گے ........ چار سال سے برداشت کر رہے تھے حکومتی سرپرستی میں ان کی پچکاریاں .... اب آسمان سے پتھر برسنے تو رہے .... قوم کو خود ہی ہمّت کرنا پڑے گی !!!

No comments:

Post a Comment