عشق_کے_قیدی --49-- ظفرجی
" ٹھک ... ٹھک ... ٹھک ... آرڈر ... آرڈر ... آرڈر ... !!!
سارا دن عدالت میں جسٹس منیر کی ٹھک ٹھک اور رات بھر چاند پوری کی کھٹ پٹ سے سکون درہم برہم ہونے لگا-
چاند پوری اپنی زنگ آلود سائیکلواسٹائل مشین کو فعال کرنے میں مگن تھے اور جسٹس منیر اسلامی نظریات و افکار پر اپنے بغض و عناد کا زنگ چڑھانے میں مصروف- 1953ء کی تحریک ختم نبوت، اپنے شباب پر پہنچ کر مائل بہ اختتام تھی۔ ’’عدالتی تحقیقات‘‘ کے لیے جسٹس منیر اور ایم آر کیانی پر مشتمل کمیشن لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کر رہا تھا۔ جسٹس منیر کا رویہ انتہائ ہتک آمیز تھا- علمائے تحریک کو کمرہء عدالت میں بلا بلا کر بے عزت کرنا ، تحریکِ مقّدس کو ’’احرار، احمدی جھگڑا‘‘ اور سرفروشانِ ختمِ نبوّت کو "بلوائ" کہنا ، صدیوں پرانے فقہی اختلافات کی گرد اڑا کر اسلام کو قادیانیت کے مقابلے میں کمزور مذھب ثابت کرنا اور اجتہاد کے بند دروازوں پر چوٹ کر کے نئ نبوّت کا عذر تراشنا اس متعصب جج کا وطیرہ تھا-
کمال حوصلہ مند لوگ تھے کہ بغض و عناد میں لتھڑے ، بے موقع سوالات بھی خندہ پیشانی سے برداشت کر رہے تھے ، میرا تو حوصلہ جواب دے چکا تھا-
" مسلمان کی کم سے کم تعریف کر دیجئے .... ؟؟ "
" بطور اسلامی مملکت ، پاکستان اور بھارت کے بیچ جنگ ہو جائے تو بھارت دارالحرب بن جائے گا ، اس صورت میں آپ 4 کروڑ بھارتی مسلمانوں کو کیا مشورہ دیں گے ...؟؟"
"اس جنگ میں قید ہونے والوں سے آپ کیا سلوک کریں گے ؟؟ انہیں غلام بنائیں گے یا عالمی قوانین کی پاسداری کریں گے ؟؟
" کیا آپ بھارت کے چار کروڑ مسلمانوں کےلئے بھی وہی نظامِ حکومت پسند کریں گے جو پاکستان کےلئے چاہ رہے ہیں ؟؟؟ "
" اگر بھارت میں ایک ھندو مذھبی مملکت قائم ہو جائے تو کیا آپ بھارت کا یہ حق تسلیم کرلیں گے کہ وہ مسلمانوں کو ملیچھ بنا کر رکھ دے ؟؟ "
"آپ جماعت احمدیہ کو مرتد اور واجب القتل کہتے ہیں ، اگر پاکستان میں آپ کی حکومت آ جائے تو کیا لاکھوں احمدیوں کو قتل کروا دینگے ؟؟
آپ کے ایک فتوی کی رو سے اثناء عشری شیعہ بھی کافر و مرتد ہیں ، ان کے بارے میں آپ کا فیصلہ کیا ہو گا؟؟ "
" بریلوی مسلک کے کچھ فتاوی جات کی روشنی میں دیوبند اور اہلحدیث بھی کافر ہیں ، اگر کوئ بریلوی اپنا عقیدہ بدل کر دیوبند ، یا اہلحدیث ہو جائے تو کیا آپ اسے مرتد قرار دے کر قتل کروا دیں گے ؟؟؟ "
" ارتداد پر سزائے موت "آزادئ افکار " پر قدغن تو نہیں ؟؟ جبکہ قران "لکم دینکم " اور "لا اکراہ فی الدین" کا درس دیتا ہے ؟؟؟ "
"آپ کانگریس سے وابستہ رہے ، کیا اس نے آپ سے ھندوستان میں اسلامی خلافت کے قیّام کا وعدہ کیا تھا ؟؟"
" آپ نے قائدِاعظم کو کافرِ اعظم کہا ، ابھی تک اس فتوی پر قائم ہیں یا رجوع فرما لیا ؟؟ "
" اگر پاکستان میں خلافت قائم ہو جائے تو کیا پاکستان کا خلیفہ تمام عالمِ اسلام کا خلیفہ ہوگا ؟؟ "
" پاکستان میں رہنے والی اقلیّتیں آپ کے نزدیک معاہد ہیں یا ذمّی ؟؟ "
" اناٹومی کے پروفیسرز انسانی نعش پر جو تجربات کرتے ہیں ، آپ اسے خلاف شرع کہتے ہیں ، کیا آپ کی شریعت دور جدید کے چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتی ؟؟ "
" پاکستان میں اسلامی خلافت قائم ہو گئ تو آپ رقص و موسیقی ، سنگ تراشی ، فلم ، ڈرامہ ، اداکاری اور تصویر کشی کے بارے میں کیا فیصلہ کریں گے ؟؟ "
تحقیقاتی کمیشن ، جس کا مقصد مارشل لاء کی وجوہات جاننا ، فسادات لاہور کی تحقیقات کرنا اور سول انتظامیہ کی نااہلی کا سبب ڈھونڈنا تھا ، سارا دن لاینحل فقہی مسائل کی پوٹلیاں کھول کھول کر علماء کو ہلکان کئے رکھتا- علماء چونکہ باری باری بلائے جاتے سو بیانات میں کوئ نہ کوئ فرق نکل ہی آتا- پھر اس تفاوت کو نزاع کا رنگ دیکر اسلام کو ایک مردہ مذھب ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی-
ایک روز قائد تحریک تحفظ ختم نبوت، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رح کی عدالت میں پیشی تھی- ہائ کورٹ میں خوب رش تھا- عدالت کے دروازے پر ہزاروں فدائین ختم نبوت اور شمع ناموس رسالت ﷺ کے پروانے جمع تھے۔
پولیس کی بس عاشقان ختمِ نبوّت کو لیکر پہنچی تو ہر طرف نعروں کا شور مچ گیا-
نعرہءٔ تکبیر .... اللہ اکبر !!!
تاج و تختِ ختم نبوت .... زندہ باد !!!
مرزائیت .... مردہ باد !!!
امیر شریعتؒ عدالت کے دروازے پر کھڑے ہوئے ، ہتھکڑیاں فضا میں لہرائیں اور ہاتھ سے اشارہ کیا۔
مجمع سے احرار کے سرخ پوشوں نے صدا لگائ :
" کیا حکم ہے ؟؟ دیوانہ بنوں کہ نہ بنوں ؟؟"
امیرِ شریعت رح نے ہاتھ سے خاموشی کا اشارہ فرمایا تو مجمع ساکت و جامد ہو گیا-
اس دوران عدالتی ہر کارے نے آواز لگائی:
سرکار بنام سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری ولد حافظ سیّد ضیاءالدین بخاری .... روبرو تحقیقاتی کمیشن حاضر ہوں ... !!! "
امیر شریعت ، پورے قلندرانہ جاہ و جلال کے ساتھ چلتے ہوئے کمرہء عدالت میں داخل ہوئے تو کورٹ روم میں بیٹھے کارکنان ، اور اخباری نمائندوں میں بھنبھناہٹ شروع ہو گئ-
"آرڈر ..... آرڈر .... آرڈر ... !!! "
دجل و فریب کی مٹّی سے گندھا جسٹس منیر فائلیں الٹ پلٹ کر اپنے ترکش سیدھے کرنے لگا .... ایک طرف مُنصف کی بغض و حسد سے بھری متکبّر گردن ، تعصب سے بھینچے ہونٹ اور ، نخوت میں ڈوبی سرخ آنکھیں اور دوسری طرف وہ مردِ درویش جس نے اپنی باہوش حیات کی 37 بہاریں فتنہء قادیانیّت کے تعاقب مں گزار دی تھیں-
" ہندوستان میں اس وقت کتنے مسلمان ہیں .... ؟؟" جسٹس منیر نے پہلا تیر پھینکا-
" سوال غیر متعلق ہے .... مجھ سے پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں پوچھئے !!! "
" ہندوستان اور پاکستان میں جنگ چھڑ جائے تو ہندوستانی مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟؟؟"
" ہندوستان میں علماء موجود ہیں ، وہ بتائیں گے !!! "
" ہم آپ سے پوچھ رہے ہیں .... آپ بتا دیں ؟؟ "
" آپ مجھ سے پاکستان کے بارے میں پوچھیں ..... یہاں کے مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے !!! "
" اچھا یہ بتائیے کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے ؟؟ " جسٹس منیر نے اپنا روائتی پتّا پھینکا-
" دیکھئے ..... اسلام میں داخل ہونے اور مسلمان کہلانے کے لیے صرف کلمہ شہادت کا اقرار و اعلان ہی کافی ہے .... لیکن اسلام سے خارج ہونے کے ہزاروں شگاف ہیں ....
ضروریاتِ دین میں سے کسی ایک کا بھی انکار کیا تو .... کافر !!!
خالق باری تعالی کی صفات عالیہ میں سے کسی ایک کو بھی مخلوق میں مانا تو مشرک .... !!!
قرآن کریم کی کسی ایک آیت یا جملہ کا انکار کیا تو کافر ..... !!!
نبی کریم ﷺ کے منصبِ ختم نبوت کے بعد کسی انسان کو کسی بھی حیثیت میں نبی مانا تو مرتد .... !!!!
جسٹس منیر کچھ دیر کان کھجاتا رہا پھر سامنے کھڑے قادیانی وکیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
" ان کے بارے میں کیا خیال ہے ؟؟ "
امیر شریعتؒ نے ایک نظر وکیل پر ڈالی اور کہا:
" خیال نہیں عقیدہ ہے ..... وہی عقیدہ جو ان کے بڑوں کے بارے میں ہے ... !!! "
اس دوران مرزائی وکیل بھی کاغذات سمیٹتے ہوئے قریب ہوا :
"نبی کی تعریف کر دیجئے .... ؟؟؟ "
" میرے نزدیک اسے کم از کم ایک شریف آدمی ہونا چاہیے !!! "
اس مختصر اور جامع "چماٹ" پر کورٹ روم میں کھلکھلاہٹ بلند ہوئ ، قادیانی وکیل کا چہرہ سرخ ہوگیا اور وہ مزید کوئ سوال کرنے کی ہمّت نہ کر سکا-
ٹھک .... ٹھک .... ٹھک .... آرڈر .. آرڈر .. آرڈر .... !!!!
" تو آپ ...... مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر کہتے ہیں ..... ؟؟؟" جسٹس منیر تاؤ کھا کر بولا-
" میں اسی سوال کا آرزو مند تھا" امیر شریعت نے پرسکون لہجے میں کہا۔ " بیس برس پہلے کی بات ہے .... یہی عدالت تھی آپ کی جگہ مسٹر جسٹس ڈگلس ینگ بیٹھے تھے ..... اور مسٹر ایم آر کیانی کی جگہ جسٹس رائے بہادر رام لال۔ یہی سوال مجھ سے کیا گیا تھا .... وہی جواب آج بھی دہراتا ہوں ..... میں نے ایک بار نہیں ..... ہزاروں بار ..... ہزاروں بار مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر کہا ہے .... کافر کہتا ہوں ..... اور جب تک زندہ ہوں .... کافر کہتا رہوں گا ..... یہ میرا ایمان ہے .... عقیدہ ہے اور میں اسی عقیدے پر مرنا چاہتا ہوں .... مرزا قادیانی اور اس کی ذریت کافر و مرتد ہے .... مسیلمہ کذاب اور ایسے ہی دیگر جھوٹوں کو دعویٰ نبوت کے جرم میں قتل کیا گیا تھا ..."
" اگر مرزا غلام احمد قادیانی آپ کے سامنے دعویء نبوّت کرتے تو آپ انہیں قتل کر دیتے .... ؟؟؟"
" میرے سامنے اب کوئی دعویٰ کر کے دیکھ لے .... !!! " امیر شریعتؒ نے خم ٹھونک کر کہا-
نعرہء تکبیر ...... اللہ اکبر !!!
کورٹ روم نعروں سے لرز اُٹھا-
آرڈر ..... آرڈر .... آرڈر ..... توہین عدالت …!!! "
" توہین رسالت .... !!!" امیر شریعت ؒ نے سیّدانہ جلال سے کہا-
جسٹس منیر حواس باختگی میں جیب سے رومال نکال کر پسینہ پونچھنے لگا۔
اسی طرح ایک روز نوجوان شیعہ عالم علّامہ مظفر علی شمسی بھی کمیشن کے اڑنگے میں پھنس گئے-
" اگر پاکستان میں حضرتِ ابوبکر صدیق رض کا نظام نافذ ہو جائے تو آپ کیا فیصلہ کریں گے ؟؟ "
عدالت میں اہلِ تشیع اور اہلسنّت حضرات کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی- علامہ مخمصے کا شکار ہو گئے-
حضرت امیر شریعت بھی موجود تھے- بھاری قدموں سے چلتے ہوئے علامہ کے پاس آئے اور ان کی کمر تھپتھپا کر کہا:
"شمسی بیٹا حوصلہ رکھ .... اسی دِن کےلئے تمہیں تیّار کیا تھا !!! "
علامہ شمسی کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئ- فوراً لب کُشاء ہوئے-
"سوال دوہرا دیجئے .... !!! "
" اگر پاکستان میں حضرتِ ابوبکر صدیق رض کا نظامِ خلافت قائم ہو جائے تو آپ کیا فیصلہ کریں گے ؟؟ "
" وہی جو مولا علی رض نے کیا تھا .... 13 سو سال پہلے ..... اور کُچھ ؟؟؟ "
نعرہء حیدری ......... یا علی رض !!!! " کورٹ روم کے درودیوار ایک بار پھر لرز اُٹھے .....
ٹھک ... ٹھیک ... ٹھک ....... آرڈر ... آرڈر ... آرڈر .... جسٹس منیر چیختا رہا لیکن کس نے سننی تھی !!!


No comments:
Post a Comment