پلیٹ فارم سنسان پڑا تھا- ہمارے اور اکا دکا آوارہ کتوں کے سوا یہاں کوئ ذی روح نہ تھی-
"سر لندن کس لئے جارہے ہیں " میں نے گہری سوچ میں محو سر سّید سے پوچھا -
"واقفیّت حاصل کرنے .... !!! "
"گوریوں سے ؟؟ " میں نے ہونقوں کی طرح پوچھا-
" اپنی سوچ کو تھوڑا وسیع کرو میاں ... " انہوں نے حیرت و تاسف سے مجھے گھورتے ہوئے کہا- " میں ایجوکیشن کے ان طریقوں سے واقفیت حاصل کرنا چاھتا ہوں .... جن کے ذریعے انگریز قوم نے اتنی ترقی کی ہے .... اس وقت ھندوستان میں یورپ کا سفر کرنا انتہائ معیوب سمجھا جاتا ہے .... یورپ سے واپس آنے والے ھندوستانی سے کوئ بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا ..... اس لیے بہت کم ھندوستانی آج تک وہاں جاکر انگریز کی ترقی و تمدن دیکھ سکے ہیں" -
" کمال ہے ؟؟ ..... ہمارے ہاں تو لوگ یورپ کے ویزے کے لیے لائنوں میں لگے ہوئے ہیں ..... " میں نے حیرت سے کہا-
" ہماری بات سمجھ لیتے تو آج انگریز ان کے سامنے لائنوں میں کھڑا ہوتا" سر سید نے جواب دیا-
"ایک اور مقصد بھی ہے اس وزٹ کا" سر سید نے بات جاری رکھی -
"ایک انگریز مصنف ولیم مور نے اسلام پر ایک پرتعصب کتاب لکھی ہے .... اس نے اسلام کو ایک شدت پسند اور دھشت گرد مذھب ثابت کرنے کی پوری کوشش کی ہے ..... اور غدّر کا سارا ملبہ مسلمانان ھند پر ڈال دیا ہے .... میں ولیم مور کی اس کتاب کا مدلل جواب لندن میں بیٹھ کر ہی لکھنا چاھتا ہوں .... "
" سر ... ایسے گستاخوں کا علاج کتاب نہیں .... جہاد ہے !!! "
" غلط ..... مغرب اہل اسلام کے بارے میں شدید غلط فہمی کا شکار ہے .... اور ہم بجائے اس کی غلط فہمی دور کرنے کے .... تعصب کی آگ کو مزید بھڑکا رہے ہیں ...... میں اسلام اور عیسائیت کے بیچ غلط فہمی کی وہ دیوار ، جو غدر کے بعد پیدا ہوئ ہے .... گرانا چاھتا ہوں.........کیونکہ میرے رب کا ارشاد ہے .... کہ اہل کتاب میں سے عیسائ نسبتا تمھارے زیادہ نزدیک ہیں..."
"اہل کتاب ..... ؟؟ کون اہل کتاب.... ؟؟ ان تثلیث کے پجاریوں کو آپ اہل کتاب کہ رہے ہیں جو یسوع کو رب کا بیٹا مانتے ہیں "
" عیسائیوں کے کچھ فرقے ضرور یہ عقیدہ رکھتے ہیں .... لیکن قران نے انہیں اہل کتاب ہی کہا ہے .... ہم کون ہیں ان سے یہ حق چھیننے والے"
"سر ... ہزاروں کلومیٹر دور .... یورپ سے یہاں آکر .... یہاں.... یہ لوگ ھندوستان کے حلق میں پنجہ گاڑے بیٹھے ہیں .... پوری قوم کو غلام بنائے بیٹھے ہیں .... اور ہم اہل کتاب کہ کر ان کی سیوا کرتے رہیں ؟؟ "
"جی بالکل.... یہی رب کا حکم ہے .... ہاں روز محشر ان لوگوں کا گریبان ضرور پکڑنا جنہوں نے سرزمین ھندوستان کوڑیوں کے بھاؤ انہیں بیچی ..... فی الحال .... اپنی زنگ آلود تلواروں سے ان کی توپوں میں سوراخ کرنے کی بجائے ..... ان سے فائدہ اٹھاؤ .... اپنے لیے .... قوم کےلیے ..... ورنہ کوئ اور اٹھا لے جائے گا .... اور تم منہ دیکھتے رہ جاؤ گے"-
ہم باتیں کرتے کرتے گودام تک آن پہنچے .....
"سر یہاں تو گھپ اندھیرا ہے ؟ بجلی کب آئے گی ؟؟ "
" بجلی ؟ آسمانی بجلی ؟ "
" نہیں .... لوڈ شیڈنگ والی بجلی ... !!! " میں نے سہم کر کہا-
" ہم کچھ سمجھے نہیں ؟؟ "
اچانک مجھے یاد آیا کہ اس ظلمت کی وجہ لوڈ شیڈنگ نہیں .... تھامس ایڈیسن ہے ..... جس نے ابھی تک بلب ایجاد ہی نہ کیا تھا- یہ 1869ء کا زمانہ تھا .... بلب اس سے دس سال بعد ایجاد ہوا .... 1879ء میں -
" فکر نہ کرو.... لندن میں خوب روشنی ہوگی...... وہاں گیس بتی کا دور دورہ ہے" - سرسید نے اندھیرے میں بستر تلاش کرتے ہوئے کہا-
میں بستر پر لیٹا سوچنے لگا کہ ہم انگریز سے ڈیڑھ صدّی پیچھے ہی رہے- میرے گھر میں بھی اس وقت گیس بتی ہی جل رہی ہوگی .... لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے .... واہ رے تھامس ایڈیسن .... بلب بنایا تو بھی بجلی سے جلنے والا .... کمال تو یہ تھا کہ تھوک سے جلتا اور پھونک سے بجھتا-
(ڈیڑھ صدّی - ظفرجی)
"سر لندن کس لئے جارہے ہیں " میں نے گہری سوچ میں محو سر سّید سے پوچھا -
"واقفیّت حاصل کرنے .... !!! "
"گوریوں سے ؟؟ " میں نے ہونقوں کی طرح پوچھا-
" اپنی سوچ کو تھوڑا وسیع کرو میاں ... " انہوں نے حیرت و تاسف سے مجھے گھورتے ہوئے کہا- " میں ایجوکیشن کے ان طریقوں سے واقفیت حاصل کرنا چاھتا ہوں .... جن کے ذریعے انگریز قوم نے اتنی ترقی کی ہے .... اس وقت ھندوستان میں یورپ کا سفر کرنا انتہائ معیوب سمجھا جاتا ہے .... یورپ سے واپس آنے والے ھندوستانی سے کوئ بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا ..... اس لیے بہت کم ھندوستانی آج تک وہاں جاکر انگریز کی ترقی و تمدن دیکھ سکے ہیں" -
" کمال ہے ؟؟ ..... ہمارے ہاں تو لوگ یورپ کے ویزے کے لیے لائنوں میں لگے ہوئے ہیں ..... " میں نے حیرت سے کہا-
" ہماری بات سمجھ لیتے تو آج انگریز ان کے سامنے لائنوں میں کھڑا ہوتا" سر سید نے جواب دیا-
"ایک اور مقصد بھی ہے اس وزٹ کا" سر سید نے بات جاری رکھی -
"ایک انگریز مصنف ولیم مور نے اسلام پر ایک پرتعصب کتاب لکھی ہے .... اس نے اسلام کو ایک شدت پسند اور دھشت گرد مذھب ثابت کرنے کی پوری کوشش کی ہے ..... اور غدّر کا سارا ملبہ مسلمانان ھند پر ڈال دیا ہے .... میں ولیم مور کی اس کتاب کا مدلل جواب لندن میں بیٹھ کر ہی لکھنا چاھتا ہوں .... "
" سر ... ایسے گستاخوں کا علاج کتاب نہیں .... جہاد ہے !!! "
" غلط ..... مغرب اہل اسلام کے بارے میں شدید غلط فہمی کا شکار ہے .... اور ہم بجائے اس کی غلط فہمی دور کرنے کے .... تعصب کی آگ کو مزید بھڑکا رہے ہیں ...... میں اسلام اور عیسائیت کے بیچ غلط فہمی کی وہ دیوار ، جو غدر کے بعد پیدا ہوئ ہے .... گرانا چاھتا ہوں.........کیونکہ میرے رب کا ارشاد ہے .... کہ اہل کتاب میں سے عیسائ نسبتا تمھارے زیادہ نزدیک ہیں..."
"اہل کتاب ..... ؟؟ کون اہل کتاب.... ؟؟ ان تثلیث کے پجاریوں کو آپ اہل کتاب کہ رہے ہیں جو یسوع کو رب کا بیٹا مانتے ہیں "
" عیسائیوں کے کچھ فرقے ضرور یہ عقیدہ رکھتے ہیں .... لیکن قران نے انہیں اہل کتاب ہی کہا ہے .... ہم کون ہیں ان سے یہ حق چھیننے والے"
"سر ... ہزاروں کلومیٹر دور .... یورپ سے یہاں آکر .... یہاں.... یہ لوگ ھندوستان کے حلق میں پنجہ گاڑے بیٹھے ہیں .... پوری قوم کو غلام بنائے بیٹھے ہیں .... اور ہم اہل کتاب کہ کر ان کی سیوا کرتے رہیں ؟؟ "
"جی بالکل.... یہی رب کا حکم ہے .... ہاں روز محشر ان لوگوں کا گریبان ضرور پکڑنا جنہوں نے سرزمین ھندوستان کوڑیوں کے بھاؤ انہیں بیچی ..... فی الحال .... اپنی زنگ آلود تلواروں سے ان کی توپوں میں سوراخ کرنے کی بجائے ..... ان سے فائدہ اٹھاؤ .... اپنے لیے .... قوم کےلیے ..... ورنہ کوئ اور اٹھا لے جائے گا .... اور تم منہ دیکھتے رہ جاؤ گے"-
ہم باتیں کرتے کرتے گودام تک آن پہنچے .....
"سر یہاں تو گھپ اندھیرا ہے ؟ بجلی کب آئے گی ؟؟ "
" بجلی ؟ آسمانی بجلی ؟ "
" نہیں .... لوڈ شیڈنگ والی بجلی ... !!! " میں نے سہم کر کہا-
" ہم کچھ سمجھے نہیں ؟؟ "
اچانک مجھے یاد آیا کہ اس ظلمت کی وجہ لوڈ شیڈنگ نہیں .... تھامس ایڈیسن ہے ..... جس نے ابھی تک بلب ایجاد ہی نہ کیا تھا- یہ 1869ء کا زمانہ تھا .... بلب اس سے دس سال بعد ایجاد ہوا .... 1879ء میں -
" فکر نہ کرو.... لندن میں خوب روشنی ہوگی...... وہاں گیس بتی کا دور دورہ ہے" - سرسید نے اندھیرے میں بستر تلاش کرتے ہوئے کہا-
میں بستر پر لیٹا سوچنے لگا کہ ہم انگریز سے ڈیڑھ صدّی پیچھے ہی رہے- میرے گھر میں بھی اس وقت گیس بتی ہی جل رہی ہوگی .... لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے .... واہ رے تھامس ایڈیسن .... بلب بنایا تو بھی بجلی سے جلنے والا .... کمال تو یہ تھا کہ تھوک سے جلتا اور پھونک سے بجھتا-
(ڈیڑھ صدّی - ظفرجی)


No comments:
Post a Comment