QISSA HATIM-TAI EP#14

 
قصہ حاتم طائ --14--ظفرجی

اذانِ فجر کے ساتھ ہی میں کلانچ بھر کے منجی سے اترا اور مولوی نزیر سے بھی پہلے مسیت پہنچ گیا--
مولوی صاحب مجھے وضو خانے میں بیٹھا دیکھ کر حیران بھی ہوئے اور پریشان بھی-
میں نے کہا:
"یوں حیرت سے مت دیکھئے امام صاب ... بخدا اگر مسئلہء شرعی درپیش نہ ہوتا تو یہ خطاکار اس وقت گھوڑے بیچ کر سو رہا ہوتا-"
اس کے بعد میں نے طلاق کا مسئلہ مولوی صاحب کے سامنے رکھّا اور دھڑکتے دل سے جواب کا انتظار کرنے لگا-
مولوی صاحب کچھ دیر تک میرا غصہ مسواک پر نکالتے رہے پھر نالی میں تھوک کر بولے:
" طلاق دا لفظ کتنی واری ادا ہویا؟؟ "
میں نے ذھن پر زور دیتے ہوئے کہا:
" ٹھیک طرع یاد تو پر تقریباً اٹھ دس دفعہ !!!"
یہ سن کر وہ زیرِلب کچھ بڑبڑائے پھر کہا:
" لاحول ولا قوة ... تم لوگوں نے طلاق کو آخر سمجھ کیا رکھا ہے ؟بچوں کا کھیل ؟؟ چنگے بھلے دیندار بندے ہو ، سارا دن عالموں کی کیسٹیں سنتے ہو ، اتنّی وی ہوش نئیں کہ یک بارگی تین طلاق نئیں دتی جاندی ؟؟ "
میں نے سر جھکا کر کہا:
" یقین کریں مولوی صاحب !!! میری دکان میں طلاق کی ایک بھی کیسٹ نہیں ... سب مناظروں کی کیسٹیں ہیں ... نور بشر ، علم غیب ، حاضر ناظر ..."
اس پر وہ تاؤ کھا کر بولے:
" مولویوں کے اپنے مسئلے کم ہیں جو تم جیسے جاھلوں کے مسائل بھی سلجھاتے پھریں ... اتنا علم تو ہر شخص کو ہونا چاھئے ؟"
میں نے کہا:
" امام اور مقتدی کا کیا جھگڑا ... جو کچھ ھدیہ فدیہ چاھئے لیں اور مسئلے کا حل نکالیں ... میں بہت پریشان ہوں ... رات سے کچھ نئیں کھایا پیا"
اس پر وہ کچھ دیر مجھے ٹک ٹک دیکھتے رہے پھر نتھنے پھلا کر بولے :
" توں سویر سویر میرا مغز نہ کھا ... جا کے توبہ کر .... استغفار پڑھ ...... مافی منگ رب سے !!! "
میں نے عرض کی :
" رب سے معافی مانگ کے عالیہ کو لے آؤں؟؟"
" عالیہ کون ؟؟" وہ آنکھیں پھاڑ کر بولے-
تب مجھے یاد آیا کہ مولوی صاحب کی منکوحہ کا نام بھی عالیہ ہے- میں نے ہکلاتے ہوئے کہا-
"میں اپڑیں عالیہ کی بات کر رہا ہوں مولی صاحب ... بب ... بیوی میری"
وہ تڑپ کر بولے:
"شرم کر .... حیا کر .... حرام ہو چُکی وہ تیرے واسطے !!!"
" جب رب معاف کر سکتا ہے تو بیوی کیوں نئیں .... اوہ وی تے اُسی رب کی بندی اے !! "
" اپڑیں دماگ دا علاج کرا ... دفع ہو جا ایتھوں .... !!!"
" غُصّے میں دی گئ طلاق ہے مولی صاب ، کچھ تو گنجائش نکالیں ... آئیندہ نئیں دوں گا ... !! " میں نے تکرار کی-
" طلاق ہمیشہ غُصّے وِچ ای دتّی جاندی اے ، اج تک کسے نے پیار نال دتی ؟؟"
" میرا گھر اجڑ جائے گا ... !!! "
" دوجا ویاہ کر کے گھر وسا لے ... جان چھڈ میری ..... !!"
یہ کہ کر مولوی صاحب تو ٹونٹی بند کر کے چلے گئے ، میں مونہہ کھولے وہیں کا وہیں بیٹھا رہ گیا-

No comments:

Post a Comment