قصّہ حاتم طائ --15--ظفرجی
نماز کے بعد میں ٹوٹے قدموں سے گھر آیا تو ایک بار پھر تنہائ کاٹنے لگی- میں نے بستر چھوڑا ، سائیکل نکالی اور سیدھا سسرال کے پِنڈ جا نکلا- صادق تڑکے تڑکے دکان کھول رہا تھا ، میں سلام کر کے وہیں بیٹھ گیا-
وہ میرے سلام کا جواب دینے کی بجائے خاموشی سے ایک سائیکل کا ھینڈل کسنے لگا- میں اٹھ کر اس کے قریب آیا اور کہا:
"دیکھ اُستاد .... غلطی تو آدمی سے ہو ہی جاتی ہے ... مانا ... بہت بڑی خطاء ہوئ مجھ سے .... غلط فہمی نے میرا گھر اُجاڑ دیا .... اب خدا کےلئے کوئ حل نکال یار ... "
وہ ھینڈل کا پیچ کستے ہوئے بولا:
"کی مطبل تیرا؟؟"
میں نے کہا:
"میں عالیہ سے بہت محبّت کرتا ہوں یار .... اس کے بغیر جی نئیں سکتا ... صلح صفائ کرا دے استاد ... !!! "
اس پر وہ تنک کر بولا:
"بس کر !!! ٹوُپ ایک دفعہ پھٹ جائے تو اس میں پنچر نئیں لگتا ..... طلاق میں کون سی صلح صفائ ؟؟ .... دماگ ٹھیک ہے تیرا ؟؟ "
میں نے کہا:
" دیکھ یار .... قاتل بھی تو خون بہا دے کے چھوٹ جاتا ہے ... میں نے تو صرف طلاق دی ہے .... وہ بھی غلط فہمی میں .... کچھ تو گنجائش ہو گی"
وہ پانا پھینکتے ہوئے بولا:
" یہ مولبی کے مسئلے ہیں ویر .... سیکل مرمّت کرانڑی ایں تے آ جا !!! "
میں نے کہا:
" میری زندگی کی سیکل ٹوٹ چکی ہے یار .... خالی ھینڈل ہاتھ میں ہے ... ٹیوب پھٹ کر گلے میں آ چُکی ہے ... کچھ تو خیال کر .... یار جب قاتل دیت دے کر چھوٹ جاتا ہے تو طلاق کی بھی تو کچھ دیت ہوگی ؟؟"
وہ کچھ دیر تک عجیب نظروں سے مجھے گھورتا رہا پھر پیچ کس سے کمر کھجاتے ہوئے بولا:
-
" کیسٹیں تُو سنتا ہے مولبیوں کی اور مسئلے مجھ سے پوچھ رہا ہے- "
-
" کیسٹیں تُو سنتا ہے مولبیوں کی اور مسئلے مجھ سے پوچھ رہا ہے- "
میں نے کہا:
" یار کیسٹوں والے مولوی اور ہوتے ہیں .... وہ بڑے بڑے مسئلے حل کرتے ہیں ... یہ تو ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے"
وہ اُٹھ کر چارپائ پر میرے ساتھ آن بیٹھا اور بولا:
"اب توُ چاھتا کیا ہے ؟؟"
میں نے کہا:
" بس عالیہ واپس آ جائے ..... کسی طرح بھی !!! "
وہ مجھے گھورتے ہوئے بولا:
" مغز تو نہیں پِھر گیا تیرا ؟؟ "
میں کچھ دیر تک اپنے ہاتھوں کی لکیریں دیکھتا رہا پِھر کہا:
"ویکھ صادق !! تین گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہوا تھا ... پکّی شاہی سے فارم بھرے تھے ... انگوٹھے لگے تھے ... چھوارے بٹے تھے .... ڈھول بجا تھا .... ویل ودھائ ہوئ تھی ..."
"فیر ؟؟؟ "
" فیر یہ کہ نکاح کےلئے تو اتنی وڈّی چوڑی کاروائ .... اور طلاق کےلئے .... بس تِن لفظ ؟؟ جس کا نہ کوئ گواہ ہے نہ وکیل ؟؟ یہ تو زیادتی ہے ناں یار "
وہ بولا:
" ناں تو ... تیرا خیال ہے پٹاخے بجنے چاھئیں طلاق پہ ... ؟؟ او وِیر .... جا کسی مُولبی کا سر کھا جا کے ...... اپڑیں حساب سے تو سولہ آنے طلاق ہو گئ ہے ...."
میں نے کہا:
" مولوی ہی تو قابو نئیں آ رہا استاد ... کہتا ہے طلاق ہو گئ ہے .... پر اپڑاں دل نئیں مانتا یار"
" فیر مولوی بدل کے ویکھ لے !!!" وہ اُٹھتے ہوئے بولا-
میں شاید اسی جملے کا منتظر تھا ، فوراً کہا:
" چل استاد سیکل پہ بیٹھ .... گِدڑ پِنڈی چلتے ہیں .... ڈھونڈتے ہیں کوئ اچھّا سا مولوی !!!"
Story: QISSA HATIM TAI
Sub Story: Mullan Pur Ka Sain
Region: A Village near Kamalia Toba Tek Sing
Era: 1980,s
A classical factious novel based on original story
Story: QISSA HATIM TAI
Sub Story: Mullan Pur Ka Sain
Region: A Village near Kamalia Toba Tek Sing
Era: 1980,s
A classical factious novel based on original story


No comments:
Post a Comment