قصّہ حاتم طائ --17-- ظفرجی
ھم اس شخص کے پیچھے چلتے چلتے " اِک مینارہ مسجد" پہنچے- مولوی بشیر نے توجّہ سے ہمارا مسئلہ سُنا پھر دریافت کیا:
وقوعے نوں کِنّاں چِر ہویا ؟"
ہم دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا- پھر صادق بول اُٹھا :
" کہڑا وقُوعہ ؟؟ "
وہ بولا:
"او یار میں طلاق دی گل کیتی ... ہور کوئ ڈاکہ مار کے آئے ہو تُسّی ..... کِنّاں چِر ہویا طلاق دتّے نوں ؟؟"
- میں نے کہا:
"پرسوں کی بات ہے "
اس کے بعد وہ اندر جا کر کچھ کتب وغیرہ کھنگالنے لگا- کچھ دیر بعد ہمیں بھی اندر ہی بلوا لیا-
"دیکھو بیٹا جی ... رب تعالی دا فرمان ہے .... الطلاق مرتن .... مطلب طلاق 2 دفعہ ہے ... یعنی ... تیسری طلاق توں بعد رجوع نئیں ہو سکدا "
یہ سن کر ہمارے چہروں پر مایوسی چھا گئ- میں نے کہا:
" کچھ گنجائش کرو مَولی صاب ... ھم بہت دور سے آئے ہیں"
مولوی بشیر نے سلسلہء کلام جاری رکھتے ہوئے کہا :
" گنجائش نئیں خوش خبری ہے- تسی رجوع کر سکدے او ... تواڈی صرف اک طلاق واقع ہوئ ہے !!! "
اس سے پہلے کہ میرا دل سینہ توڑ کر باہر آجاتا صادق بول اٹھا:
""لیکن مولبی صاب ... ایس بے غیرت نے اک واری نئیں .... اَٹھ واری طلاق دتّی بُڈّھی نوں !!!"
مولوی بشیر نے مسکراتے ہوئے کہا:
" اگر سَٹھ واری وی دیندا ... فیر وی اک ہونڑی سی ... اک محفل وچ صرف اک طلاق ... ہاں اگر 3 حیض تک رجوع نئیں کرے گا .... فیر نکاحِ جدید ہوئے گا .... نویں حق مہر دے نال"
میں ھونقوں کی طرح کچھ دیر مولوی صاب کی شکل دیکھتا رہا پھر کہا :
"اب ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟؟ "
"تُسّی فوراٌ رجوع کرو ... تے ووھٹی نوں گھر لے کے آؤ ... رب تعالی راضی ہوئے گا .... گھر وچ برکت آئے گی .... بس آئیندہ محتاط رہنا ... اک موقع گزر گیا ... دو موقعے باقی نیں !!"
میں مولوی بشیر کو گلے لگانے کےلئے اٹھنے ہی لگا تھا کہ صادق نے ہاتھ پکڑ کر مجھے نیچے بٹھا لیا-
" ایہہ سب کچھ سانوں ... کاگت تے لکھ کے دے سگدے او ؟؟ "
"کیوں نئیں ..... شرع وچ شرم کیسی ... اوئے اقبال .... جا اندروں فتوے والا پیڈ تے اسٹیمپ لے کے آ ... !!! "
کچھ ہی دیر بعد ھم ایک مجلّد فتوی لیکر مسجد سے نکل رہے تھے- ھم نے مولوی بشیر کا ڈھیروں شکریہ ادا کیا اور کچھ روپے اسے نذر کرنا چاھے- مگر اس نے فتوی کی مد میں ایک پائ تک وصول نہ کی بلکہ الٹا چائے پانی پلا کر ہمیں رخصت کیا-
مسجد سے باہر آ کر میں نے صادق سے کہا:
"اب سائیکل میں چلاؤں گا .... دیکھتا ہوں کیسے فیل ہوتے ہیں اس کے کُتّے !!"
وہ مجھے گھورتے ہوئے بولا:
" آرام نال .... ٹھنڈی کر کے کھا ... ھُن کِسے ٹانگے وِچ نہ وج جائیں ... !!! "
میں نے کہا:
" بس .... اب اور صبر نہیں .... میں ابھی جاؤں گا پِنڈ دھوبیاں .... ووھٹی کو لے کے آؤں گا .... رب نے میری فریاد سن لی !!! "


No comments:
Post a Comment