قصّہ حاتم طائ --18-- ظفرجی
رات 9 بجے ہم "پنڈ دھوبیاں" پہنچے- بجلی ہمیشہ کی طرح غائب تھی مگر چاند نکلا ہوا تھا- پِنڈ کے کُتّوں نے بھونک بھونک کر آسمان سر پہ اُٹھا لیا-
صادق نے جلتا ہوا تیر پھینکا:
صادق نے جلتا ہوا تیر پھینکا:
"ویکھ تیرے باراتی آ گئے !!"
سیکل میرے سسرال کے لکڑ والے بوُہے پر کھڑی کر کے صادق اترنے لگا تو میں چھلانگ لگا کر کنڈی کھٹکانے کو دوڑا- صادق نے پیچھے سے آ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا-
" پچھے ہٹ شدایا !!! چھِتّر پوائیں گا مینوں وی !!! "
میں نے ہڑبڑا کر پوُچھا:
" کیوں ؟؟ .... اب کیا ہوا ؟؟"
وہ بولا:
"پہلے میں گل کراں گا .... توُں ایتھوں دفعہ دوُر ہو جا .... !!!"
میں کسی سعادت مند بچّے کی طرح دروازے سے دور جا کھڑا ہوا اور مزید ھدایات کا انتظار کرنے لگا-
صادق نے کُنڈی کھٹکائ- کچھ دیر تک خاموشی رہی پھر اندر سے کھانسی اور بغلم تھوکنے کی آواز آئ- کچھ دیر بعد نقاہت بھری آواز میں پوچھا گیا:
"کون آں ؟؟"
" چاچا میں صادق .... صادق سیکلاں والا"
تھوڑی سی کھڑل پڑل کے بعد دروازہ کھل گیا- صادق کچھ دیر دروازے پر کھڑا میرے سُسّر سے کھُسر پُسر کرتا رہا پھر سائیکل سمیت اندر چلا گیا-
میں باہر سردی میں اکڑنے لگا- ایک آوارہ کُتّا لُوس لوُس کرتا ہوا میرے قریب آیا اور بغور میرا مشاھدہ کرنے لگا- شاید وہ بھی میری طرح سردی کا ستایا ہوا تھا-
تقریباً دس منٹ بعد دروازے پر کھڑ پڑ ہوئ اور صادق نے سر نکال کر کہا:
" آ جا .... سائیں !!! "
میری سانس گلے میں اٹکنے لگی- یوں لگا جیسے پھانسی گھاٹ کی طرف جا رہا ہوں- خیر اس وقت ایک ہی دعا یاد تھی جو زیرلب پڑھتا ہوا اندر داخل ہو گیا-
الھم افتح لی ابواب رحمتک
الھم افتح لی ابواب رحمتک
ھم کپڑے دھونے والے گھاٹ سے گزرتے ہوئے ایک چھوٹے سے کمرے میں پہنچے جہاں لالٹین جل رہی تھی- میری ساس مجھے دیکھتے ہی آنسُو ضبط کرتی ہوئ اُٹھی اور دوسرے کمرے میں چلی گئ- چاچے لطیف نے دمّے والی نلکی کے دو تین کش لگا کر سانس بحال کی اور ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا-
مجھے اپنا گلہ سوُکھتا ہوا محسوس ہوا- میں نے صادق کو کہنی ماری:
" اُستاد ..... پانی تے پلا دے !!! "
وہ کونے میں رکھّے کچّے گھڑے کی طرف بڑھا تو چاچا لطیف نے آواز لگائ:
"زینتے ..... کِتّھے مر گئ ایں .... پانڑیں دے مُنڈے نوں "
اندر سے جواب آیا :
"زھر نہ دیواں مُنڈے نوں .... "
اس کے بعد میری ساس زینت بی بی کھُل کر سامنے آ گئ- دوپٹّے سے آنسُو صاف کرتے ہوئے اس نے سُخن کے وہ موتی بکھیرے کہ خدا کی پناہ :
" کہڑا چن چڑھایا مُنڈے نیں کہ پانڑیں دیواں ..... ہیں .... !!!
وے میری سونے ورگی دِھی ... ایس لعنتی دے گل پائ وے تُوں صادقا .... وے اسّی تے کُبھاراں نوں جُتّی مار کے نئیں سی راضی ....
ستّر رشتے آئے سی میری ہیریاں ورگی دِھی دے ....
وے توں سانوں وساہ کے ماریا ....
وے چوھری صادقا !!!"
وے میری سونے ورگی دِھی ... ایس لعنتی دے گل پائ وے تُوں صادقا .... وے اسّی تے کُبھاراں نوں جُتّی مار کے نئیں سی راضی ....
ستّر رشتے آئے سی میری ہیریاں ورگی دِھی دے ....
وے توں سانوں وساہ کے ماریا ....
وے چوھری صادقا !!!"
غرض کہ سُخن کی ہر تان چوھدری صادق پر ٹوٹتی رہی اور میں کان لپیٹے خاموش بیٹھا رہا-
حاصلِ کلام یہ تھا کہ میں نے عالیہ کو "دھوبی کی بیٹی" ہونے کا طعنہ کیوں دیا اور اپنے کمّی پن کو کیوں بھول گیا- عالیہ نے شاید گھر میں طلاق والی بات بتائ ہی نہ تھی یا پھر صادق نے.معاملہ سیٹ کر دیا تھا ورنہ یہ لوگ زندہ درگور ہو جاتے یا پھر ہمیں زندہ دفن کر دیتے-
میری نگاھیں تو جیسے زمین میں گڑ گئیں- کاٹو تو جسم میں لہو نہیں- پہلی بار احساس ہوا کہ عالیہ محض میری بیوی ہی نہیں کسی کی بیٹی بھی ہے اور بیٹی چاہے امیر کی ہو یا غریب کی " ھیریاں ورگی " ہی ہوتی ہے-


No comments:
Post a Comment