QISSA HATIM-TAI EP#22


قصّہ حاتم طائ --22-- ظفرجی

اگلے روز میں سر چُپڑ کے ، کنگھی کر کے عطر پھلیل لگا کے اور آنکھوں میں پوری سرُمہ دانی چھڑک کے صبح سویرے ہی دکان پر جا رونق افروز ہوا-
اس روز ماسٹر خداداد صاحب میری دکان پر تشریف لائے- وہ گاؤں کے پرائمری اسکول میں اتالیق تھے اور بڑے جہاندیدہ قسم کے بندے تھے- میں نے ماسٹر صاحب کو بٹھایا ، اور سیڑھی لگا کر ان کےلئے مولوی امرتسری کا "قِصّہ یوسف زلیخا" تلاش کرنے لگا-
وقت گزاری کےلئے میں نے سوال کیا:
"ماسٹر صاحب ... میرے دور پار کے ایک رشتہ دار نے اپنی بیوی کو طلاق دے رکھّی ہے .... اب وہ رجوع کرنا چاھتا ہے ... ایک مسلک کے مولوی کا کہنا ہے کہ طلاق واقع ہو چکی ہے اور مطلقہ سے صحبت زناء کے مترادف ہے .... جبکہ دوسرے مسلک کے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ ایک ہی طلاق واقع ہوئ ہے ، اور رجوع کرنا عین کارِ ثواب ہے .... اب وہ بندہ بیچ منجدھار کھڑا سوچ رہا ہے کہ کس طرف جائے ؟ آپ کیا فرماتے ہیں ... ؟؟ "
ماسٹر صاحب کچھ دیر سوچتے رہے پھر فرمایا:
" یہ تو بہت سادہ سا مسئلہ ہے پُتّر ... تمہارے اس دوست کو چاھئے کہ جس مسلک کے مولوی نے اس کا نکاح پڑھایا اسی سے طلاق کا مسئلہ بھی دریافت کر لے ... !!"
میں نے کہا:
" لیکن ابہام یہ ہے کہ ایک ہی عمل ایک وقت میں گناہ کبیرہ اور دوسری طرف باعثِ اجر کیسے ہو سکتا ہے ...؟؟ "
وہ مسکرا کر بولے:
" اسی طرح جیسے سرحد کے اُس پار گائے کاٹنا پاپ ہے اور اِس طرف سؤر کھانا حرام .... "
میں نے کہا:
" یہ تو مذھب کا فرق ہے- دین اسلام میں اتنی بڑی تفریق کیسے ہو گئ ؟"
وہ کہنے لگے:
" دیکھو .... دین بنیادی عقائید کے مجموعے کا نام ہے اور مذھب یا مسلک اس کی حدودوقیّود کی تشریح کرتا ہے .... اسلام دین بھی ہے اور مذھب بھی- دِین میں تو کوئ اختلاف نہیں ... سب رب رسول قران کو مانتے ہیں .... نماز روزہ حج زکوة کرتے ہیں .... مسالک میں البتہ کہیں اتفاق ہے اور کہیں اختلاف ... ہر مولوی اپنے مسلک کی تعبیر کو ہی درست مانتا ہے .... "
میں نے کہا:
"اور اگر اپنے مسلک کی کسی تعبیر سے دل مطمئن نہ ہو تو پھر کیا کریں ؟؟"
وہ بولے:
" دیکھو اگر کوئ ابہام ہے تو سوال کرو .... حوالہ مانگو .... کس نے منع کیا ہے ؟؟ اگر پھر بھی تشفّی نہ ہو تو خود دین کا علم حاصل کرو ... جو مسلک زیادہ درست نظر آئے اسی پر عمل کرو اور اگر یہ سب کچھ نہیں کر سکتے تو پھر چپ چاپ مولوی کی مانتے رہو ... جیسے پہلے مان رہے ہو ... !!! "
میں نے کہا:
"اگر دوسرے مسلک کے فتوی پر عمل کرنے سے کسی کا بھلا ہو رہا ہو تو ؟ "
وہ بولے:
" دیکھیں .... مسلک ایک مذھبی سوسائٹی کا نام ہے .... بدقسمتی سے ھم مسلکی اختلافات کو مخالفت کی سطح پر لے آئے ہیں .... آگے بڑھ کر بات جھگڑے تک جا پہنچی ہے .... ان حالات میں دوسرے مسلک سے فتوی لے کر آنا یقیناً فساد ڈالنے والی بات ہے ... ذاتی غرض کےلئے کسی دوسرے مسلک کا دروازہ کھٹکانا شرعاً جائز ہو یا ناجائز ... سوسائٹی اسے قبوُل نہیں کرتی .... اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ اپنے گھر میں دال پکّے تو گھر کا کوئ شخص دوسرے محلّے سے گوشت مانگنے نکل کھڑا ہو .... ظاہر ہے خاندان کے باقی افراد اس پر ناگواری کا اظہار کریں گے .... خاص طور پر جب اُس محلّے سے آپ کے تعلقات بھی کشیدہ ہوں ... یوں آسانیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے انسان بعد اوقات بڑے خسارے کا سودا کر بیٹھتا ہے"
میں نے چونک کر پوُچھا:
"کس قسم کا خسارا ؟؟ "
وہ کچھ توقف سے گویا ہوئے:
" تقسیم سے پہلے کی بات ہے .... یہ اپڑیں گجرات کے کسی گاؤں میں ایک میاں بیوی رہتے تھے .... ان کے بیچ طلاق ہو گئ ... بعد میں دونوں بہت پچھتائے .... ادھر ادھر مولویوں کے پاس بھاگے ... عالموں فاضلوں سے رابطہ کیا .... مگر بات نہ بنی ... شیطان نے بہکایا ... اور وہ مرد اس عورت کو اپنے گھر لے آیا ... اس پر پِنڈ والوں نے شور مچایا ... شرم اور غیرت دلائ .... یوں دونوں کو گاؤں چھوڑتے ہی بنی ... لیکن یہ جہاں جاتے ... ان کی کہانی بھی وہاں پہنچ جاتی اور یوں معاشرہ ان کے پیچھے پڑ جاتا ... یہ قریہ قریہ بھاگتے بالاخر سکھّوں کے پِنڈ جا پہنچے .... اس دور میں سکھّوں کا عروج تھا .... وہ مسلمانوں کو زچ کرنے کا کوئ موقع نہ چھوڑتے تھے .... ان بد نصیبوں کو پناہ ملی بھی تو اس شرط پر کہ سکھ مذھب قبول کر لیں ... معاشرے کے ستائے ہوئے تو تھے ہی .... جھٹ سکھ دھرم اپنا لیا .... بدنصیبی صرف یہیں پر ختم نہیں ہوئ ... آس پاس کے پنڈوں تھاؤں میں بات مشہور ہوئ ... ہر کوئ لعنت ملامت کرنے لگا ... مولویوں نے تقریروں میں خوب بھڑاس نکالی .... دوسری طرف وہ مرد عورت بھی اپنا ساڑ نکالنے اور سکھّوں کی ھمدردی حاصل کرنے کےلئے اسلام کے خلاف ہرزہ سرائ کرنے لگے ....
ان کی بدمعاشیایاں بڑھیں تو مولویوں نے انہیں "گستاخِ رسول" قرار دے دیا .... ایک روز جب یہ دونوں میاں بیوی .... شکر دوپہری .... جوّی کا کھیت کاٹ رہے تھے ... ایک غازی .... ٹوکا لئے وہاں پہنچا ... اور دونوں کا گاٹا کاٹ کر اُدھر پھینکا .... جہنّم رسید کر دیا ....
 یہ ہے خسارے کا سودا ... !!! "
میں سیڑھی پر کھڑا کانپ گیا اور ہاتھ میں پکڑی "یوسف زلیخا" نیچے گر کر پاش پاش ہو گئی-
Story: QISSA HATIM TAI
Sub Story: Mullan Pur Ka Sain
Region: A Village near Kamalia Toba Tek Sing
Era: 1980,s
Theme: Religion & Society
 A classical factious novel based on true story. Names and places are not real.

No comments:

Post a Comment