QISSA HATIM-TAI EP#21



قصّہ حاتم طائ --21-- ظفرجی

میں خاموشی سے گھر آیا اور دھڑام سے منجے پر گر گیا- دماغ میں جزبات کی تیز آندھیاں چلنے لگیں- مولوی نذیر کے رویے نے مجھے سخت دل برداشتہ کر دیا تھا- اندیشے مجھے چاروں طرف سے گھیرنے لگے-
جی میں آئ کہ ابھی اور اسی وقت مسیت کا کوارٹر خالی کروں ، اسلامی کیسٹ ہاؤس کو تالہ لگاؤں ، چابی مولوی نزیر کے گھر میں پھینکوں اور یہاں سے رفوچکر ہو جاؤں- اس کے بعد ایک ہی رستہ تھا- سائیکل بیچ کر ایک مریل سا کھوتا خریدوں اور چاچا خورشید کی کمہاروں والی بھٹّی پر قبضہ جما لوں-
مگر جلد ہی ان خیالاتِ فاسدہ کے پیچھے کئ اوہام سر اٹھانے لگے- میرے پاس کون سی ٹرپل ون برگیڈ تھی کہ اتنا بڑا قدم اٹھاتا- چاچے کا شمار ویسے بھی "عالیہ مخالف رہنماؤں" میں ہوتا تھا اور عالیہ کو چھوڑنے کا تصوّر بھی میرے لئے سوہانِ روح تھا-
عالیہ "ملکی حالات" سے بے خبر "کھُرّے" میں بھانڈے مانجھ رہی تھی- اسے علم بھی نہ تھا کہ "جمہوریت کے خلاف" کس قسم کی سازش تیّار ہو چُکی ہے اور "حکومت" کو کن مصائب کا سامنا ہے- اوپر سے زرمبادلہ کے ذخائر ڈیڑھ سو کی کم ترین سطح پر آ چُکے تھے جس سے بمشکل دو دن کی ھانڈی روٹی مزید چل سکتی تھی-
اچانک ہی دروازے پر دستک ہوئ- میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا- حالات اس نہج پر تھے کہ دروازے کی دستک بھی سیدھا ٹخنے پر لگتی تھی- میں ننگے پاؤں بلّی کی طرح چلتا ہوا بوہے تک آیا پھر دروازے کی جھریٹ سے جھانک کر باہر کے حالات کا اندازہ کرنے لگا-
باہر دو باریش نوجوان کھڑے تھے-
میں کانپ کے رہ گیا- یہ "ریش" ضرور کسی طوفان کا پیش خیمہ تھی- فوراً دل میں خیال آیا کہ مولوی نذیر کے بھیجے ہوئے "فرشتے" ہیں اور کوارٹر خالی کرانے آئے ہیں-
میں نے خفیف سی آواز میں پوُچھا:
"کون ہے ؟"
باہر سے آواز آئ:
" بھائ صاحب .... ذرا دکان پہ تشریف لانا .... مفتی " کان پُوری" کا بیان چاھئے .... سماعِ موتی والا "
میں نے سُکھ کی ایک طویل سانس لی- اور دل میں مُفتی کان پوری کو ہزارہا دعائیں دیں جنہوں نے مُردوں کی سماعت کا لاینحل مسئلہ حل کیا-
میں نے کہا:
"اجی بس آیا .... ذرا چپل پہن لوں .."
دکان پر پہنچا تو چار پانچ گاہک اور چلے آئے- ان میں سے ایک کو مولانا رجانوی کی " شرک و بدعت" ، دوسرے کو مفتی کمالوی کی "میلاد کی برکات" ، تیسرے کو رمضان سلفی کا مناظرہ " آمین بالجہر " ، چوتھے کو ذاکر قریشی کے گلہائے عقیدت اور پانچویں کو عباس جعفری کے "حسینی دوھڑے" تھما کر دکان بند کی- پھر پرماننٹ مارکر سے ایک چٹ لکھ کر شٹر پر چپکا دی:
 "دکان عارضی طور پر بند ہے"
جیب میں 100 روپے آنے کے بعد سر کا بوجھ قدرے ہلکا ہوا اور خیالات میں واضح تبدیلی محسوس ہونے لگی- میں نے سوچا سوائے "مسئلہء طلاق" کے اختلافِ اُمّت کوئ بُری چیز نہیں بلکہ رحمت ہی رحمت ہے- لوگ فرقہ پرستی چھوڑ کر ایک دین پر چلنا شروع کر دیں تو کیسٹوں کی دکانوں پر یقیناً تالے پڑ جائیں -
اسی وقت ارادہ کیا کہ ظہر کے بعد مولوی نذیر کے پاؤں پکڑ وں گا اور گزشتہ گناہوں کی معافی مانگ کر التجاء کروں گا کہ بے شک حشر میں میری شکایت لگا دینا ، فرشتوں سے اٹھوا کر مجھے دوزخ میں پھینکوا دینا مگر فی الحال پنڈ والوں کے سامنے میری پوٹلی مت کھول- رب تجھے دائمی جنّت بخشے ، مجھے اس عارضی دنیا میں چین سے رہنے دے -
مگر یہ منصوبہ بھی دھرے کا دھرا رہ گیا- ظہر کی نماز میں مولوی صاحب تشریف نہ لائے اور خادم مسجد نے امامت کرائ- نماز کے بعد میں نے ڈرتے جھجھکتے اس سے مولوی صاحب کا پوچھا تو بولا:
" چھوٹی بی بی نوں ملن واسطے "سوُنڈھ" تک گئے ہیں ، جمعے نوں واپس آن گے ... !!!"
میں نے سُکھ کی ایک طویل سانس لی کہ اگلے 3 روز تک تو چین میّسر آیا- پھر بازار سے نصف کلو دودھ اور ایک پاؤ کھجور لے کر ھنستا مسکراتا گھر آ گیا-
Story: QISSA HATIM TAI
Sub Story: Mullan Pur Ka Sain
Region: A Village near Kamalia Toba Tek Sing
Era: 1980,s 
Theme: Religion & Society
 A classical factious novel based on true story.

 Names and places are not real.

No comments:

Post a Comment