قصّہ حاتم طائ جدید 6--- ظفرجی
ایک دن بغرض سیرگاہی کھیتوں کی طرف جا نکلا- سبزے کو دیکھ کر طبیعت کو شاداں و فرحاں کر رہا تھا کہ ساگ توڑتی شاداں نظر آ گئ-
شاداں ایک بیوہ عورت تھی- خاوند اس کا دو برس پہلے ٹریکٹر سے گر کر مرا تھا- چالیس پچاس کا سن تھا، لیکن تھی بڑی باہمّت- اوپر سے نہ تو اولاد کا جھنجھٹ ، نہ ہی فکرِ معاش ، سو ڈیڑھ ایکٹر زمین پر مہارانی بنی پھرتی تھی-
شاداں نے مجھے دیکھتے ہی مترنم آواز سے پوچھا:
مولبی صاب --- اج کھیتاں دی سیر کردے او !!! "
مولبی صاب --- اج کھیتاں دی سیر کردے او !!! "
میں نے کہا " ہاں شاد بی بی --- گھر بیٹھے بیٹھے کچھ اکتاہٹ سی ہو چلی تھی سوچا سبزہ دیکھ کر ہی جی بہلایا جاوے"
شام ہو چلی تھی- میں نے کھیت سے ایک گنّا توڑا اور واپس گاؤں کی طرف چل دیا- شاداں نے لکڑیوں کا گٹّھا سر پر رکھّا اور گندلوں کا ساگ ہاتھ میں لئے میرے پیچھے پیچھے چل دی-
راستے میں اس نے کہا:
" مولبی صاب --- ہک مسئلہ پوچھنا ہے"
" مولبی صاب --- ہک مسئلہ پوچھنا ہے"
میں نے کہا " ضرور پُچھّو ---"
وہ کہنے لگی :
" میں نے دو دیسی کُکّڑ پال رکھے تھے- اک رب سائیں واسطے دوجا پیر سائیں دے عرس واسطے- دو دن پہلے کوئ جانور آکے اِک کُکّڑ مار گیا ہے- اب سمجھ نہیں آ رہا کہ پیر والا کُکّڑ گیا ہے یا رب سائیں والا --- دونوں ایک جیسے تھے"
وہ کہنے لگی :
" میں نے دو دیسی کُکّڑ پال رکھے تھے- اک رب سائیں واسطے دوجا پیر سائیں دے عرس واسطے- دو دن پہلے کوئ جانور آکے اِک کُکّڑ مار گیا ہے- اب سمجھ نہیں آ رہا کہ پیر والا کُکّڑ گیا ہے یا رب سائیں والا --- دونوں ایک جیسے تھے"
میں نے کہا:
" شاد بی بی --- یہ تو بالکل سیدھا سادھا مسئلہ ہے --- جو بچ گیا ہے اسے بسم اللہ پڑھ کے ذبح کر دو --- دونوں کُکّڑ اوپر جائیں گے تو رب سائیں خود فیصلہ کر لیں گے کہ کون سا رکھنا ہے اور کون سا پیر سائیں کے متّھے مارنا ہے-"
یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئ اور دیر تک میری زود فہمی اور علمی تبحّر پر سر دھنتی رہی- اس طرح ہم باتیں کرتے کرتے گاؤں پہنچ گئے-
شام کو میں نے اپنی زوجہء منکوحہ کو شاد بی بی والی حکایت سنائ تو وہ بھی جی بھر کر ہنسی- زوجہ نے کہا ہائے بے چاری عورت ہو کر سو مردوں کے برابر کام کرتی ہے- دن کو بیل کی طرح کھیت میں جُتی رہتی ہے اور ماگھ پوہ کی کالی راتوں میں خود ہی پانی لگاتی پھرتی ہے-"
میں نے کہا بے شک خاوند کے دم سے ہی گرہستی کا کھیت آباد ہے اور جو بیوہ ہو گئ وہ شاد ہو کر بھی ناشاد ہے-
اس رات نجانے کیوں میں دیر تلک شاد بی بی کے بارے میں ہی سوچتا رہا- شاید بے خیالی میں کچھ زیادہ ہی سوچ بیٹھا اور خواب میں بھی شاداں ہی نظر آئ- یوں کہ میرے سر پر لکڑیوں کا گٹّھا تھا اور شاداں کے ہاتھ میں ساگ کا تھبّہ-
اگلے دن ظہر کی نماز پڑھا کر نکلا تو بے ساختہ قدم شاد بی بی کے محلّے کی طرف اٹھ گئے- سوچا کہ یتیموں اور بیواؤں کی خبرگیری حکم خداوندی ہے ، اور جو ایسا نہ کرے ، نرا سنگ دل ہے-
شاداں کی کنڈی کھٹکائ تو وہ جھٹ سے سامنے آگئ- رب جانے دنداسہ کیا ہوا تھا کہ آلو بخارا کھا رکھا تھا ، نظر پڑتے ہی وسوسہءِ شیطانی سر اٹھانے لگا- میں نے دل ہی دل میں لاحول پڑھی اور نظر جھکا کر کہا:
" شاد بی بی --- کل جو آپ نے مسئلہء مرغِ مقتول دریافت کیا تھا اس کی ایک عجب توجیع ذہن میں آئ ہے --- سوچا عرض کرتا چلوں "
وہ سمجھی نہ سمجھی کی کیفیّت میں چادر سمیٹتی ہوئ واپس مڑی- صحن میں چوکڑیاں بھرتی بکری کو کِلّے پر باندھا- چارپائ گھسیٹ کر دھریک کے نیچے رکھی اور مجھے اندر آنے کا کہا-
میں بڑے اعتماد سے چارپائ پر جا بیٹھا- اس نے ایک بالٹی کھٹّی لسّی کی میرے سامنے دھری ، اپنے ہاتھوں سے گھول گھول کر اس میں نمک ملایا اور میرے سامنے پیڑھا کھینچ کر بیٹھ گئ-
" ہاں مولی صاب ---- میرا کُکّڑ قبول ہوسی کہ کوئ ناں ؟
میں نے جان چھڑانے کےلئے کہا کافی گنجلک مسئلہ ہے ، اس کےلئے مجھے رسالہ "تحقیق کوّا حلال حرام" دیکھنا پڑے گا- پھر خود ہی موضوع بدلتے ہوئے کہا بخدا بیوگی سے بڑی کوئ مصیبت نہیں- خاوند کی چھاؤں میں ہی عورت کا رنگ روپ ہے اور بنا مجازی خدا کے ہر طرف کڑی دھوپ ہے-
وہ لہجے میں دنیا جہان کا درد سمیٹ کر بولی :
" سچ آکھیا جے مولی صاب --- ہم زندہ ہی کب ہیں --- مرنے والا ہمیں بھی مار گیا --- نہ بچّہ اے نہ کاکی --- بس سانس کا رشتہ ہی باقی ہے-"
" سچ آکھیا جے مولی صاب --- ہم زندہ ہی کب ہیں --- مرنے والا ہمیں بھی مار گیا --- نہ بچّہ اے نہ کاکی --- بس سانس کا رشتہ ہی باقی ہے-"
میں نے کہا رب ہمارے لئے آسانی چاھتا ہے شاد بی بی ، اس نے بیوہ کو عدّت کے بعد شادی کی اجازت دی ہے-
وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر بولی:
" مولی صاب بیوہ کو کون پوچھتا ہے --- - ، سر کا سائیں چلا گیا --- اب تو یہ مرغِ مقتول ہی اس تک پہنچ جائے تو بڑی بات ہے "
" مولی صاب بیوہ کو کون پوچھتا ہے --- - ، سر کا سائیں چلا گیا --- اب تو یہ مرغِ مقتول ہی اس تک پہنچ جائے تو بڑی بات ہے "
میں نے بے ساختہ کہا:
"شاداں !!! تمہارا مرغِ مقتول تمہارے سامنے بیٹھا ہے--- عقد کی چھری سے اسے حلال کر دے --- "
"شاداں !!! تمہارا مرغِ مقتول تمہارے سامنے بیٹھا ہے--- عقد کی چھری سے اسے حلال کر دے --- "
وہ پریشان سی ہو کر بولی:
" کی مطبل مولی صاب ؟؟"
" کی مطبل مولی صاب ؟؟"
میں نے سیدھ سبھاؤ کہا:
" مجھ سے نکاح کر لو شاداں- دنیا و آخرت سنور جائے گی- کھیت میں بیل کی طرح جت جاؤں گا اور تجھے رانی بنا کر رکھوں گا "
یہ سنتے ہی وہ خاموشی سے اُٹھی- میرے سامنے سے لسّی کی بالٹی اُٹھا کر بکری کے سامنے جا دھری اور کہا :
" کیوں جی ؟؟؟ مینوں پھوڑا نکلیا اے یا کالے کُتّے نے وڈھیا اے ؟؟ ڈیڑھ ایکڑ زمین ویکھ کے تیرا وی عشق جاگ گیا اے --- چل پھُٹ ایتھوں !!!! "

No comments:
Post a Comment