قصّہ حاتم طائ جدید -7- ظفرجی
میں خاموشی سے اٹھا اور گھر آگیا-
مجھے امید تھی کہ شاداں اس پرائیویٹ میٹنگ کو راز رکھے گی اور تنہائ میں میری بات پر ضرور غور کرے گی- آخر ایک جوان عورت کب تک بیوگی کا بوجھ اٹھا سکتی ہے-
مجھے امید تھی کہ شاداں اس پرائیویٹ میٹنگ کو راز رکھے گی اور تنہائ میں میری بات پر ضرور غور کرے گی- آخر ایک جوان عورت کب تک بیوگی کا بوجھ اٹھا سکتی ہے-
لیکن جو کچھ ہوا وہ میرے وہم و ادراک سے بھی ماورا تھا-
شام تک بچّے بچّے کی زبان پر ایک ہی کہانی تھی ...................
" دل.پھینک مولوی اور معصوم بیوہ !!!"
" دل.پھینک مولوی اور معصوم بیوہ !!!"
جاھلوں نے کہا بڑا مولوی بنا پھرتا ہے جو بیواؤں سے عشق لڑاتا ہے - کوئ کہتا اجی دیکھو ذات کا مولوی اور بیواؤں سے جپّھے ... توبہ توبہ کیا زمانہ آ گیا ہے- مخالف فرقے والوں نے تو میرے خلاف پورا جلسہ ہی کر ڈالا- شعلہ بیان خطیبوں نے میرے مسلک کو دھو دھو کر نچوڑا اور سکھا سکھا کر دھویا- ہم مسلکوں نے اسے "اسلام کے خلاف گہری سازش" قرار دیکر "اعلانِ جہاد" کر دیا- حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ "چکیاں پولیس " کو گاؤں میں باقاعدہ ایک چوکی قائم کرنا پڑی-
دوسری طرف محلے کی خواتین نے میری بیوی کا ناطقہ بند کر کے رکھ دیا- زوجہ بھی بھڑک اٹھی کہ مانا "گرمیء شوق" دستارِ فضیلت سے اونچی ہو گئ ہے مگر بیوہ کو تو معاف کردے-
اگلے ہی روز وہ نیک بخت یہ کہتی ہوئ میکے سدھاری کہ میں نے تجھے زندگی کا ہر سُکھ معاف کیا ، تیری نیّت شروع سے ہی خراب تھی- تیرے خطبات اور وعظ و نصیحت کے پیچھے "شاداں" کا "خفیہ ہاتھ" تھا- روکھی سوکھی کھا کر گزارا کر لونگی ، مگر تجھ جیسے ٹھرک باز کے ساتھ ایک دن نہ گزاروں گی-
میری تو دنیا ہی ویران ہو گئ- گھر میں تنہائ کاٹتی اور باہر لوگ- آخر ایک دن اس جاھل قوم کو سلام کر کے گاؤں سے ستر کوس دور چلا آیا- مالٹوں کے اس باغ میں آ کر طبیعت شاداں و فرحاں ہوئ- ٹھیکیدار اچھا آدمی تھا- خدا اجر دے ، بنا کسی منّت سماجت کے مجھے مالی رکھنے پر رضامند ہو گیا-
اب یہیں شب باشی کرتا ہوں- دل بہلانے کو یہ مرغ پال رکھا ہے- رات کا کھانا باغ کا مالک دے جاتا ہے- لوگوں کے ہوش تو اڑا چکا ، اب صبح شام طوطے اڑاتا ہوں- اچھا اب میری صدا کا وقت ہوا چاھتا ہے ---- ذرا کانوں میں انگلیاں ڈال لو ---"
دفعتاً وہ شخص گلا پھاڑ کر چلایا ---- "مافی مافی مافی --- زوجہ ایک ہی کافی ----"
اور باغ سے سارے طوطے اڑ گئے-
اور باغ سے سارے طوطے اڑ گئے-
حاتم نے موبائل ریکارڈنگ آف کرتے ہوئے کہا :
" اے پیرِ مرد- تیری داستانِ پُر الم سُن کر بمشکل ہنسی روکی ہے- افسوس کہ تو نے عرب کا سرمہ سرگودھا میں بیچنے کی کوشش کی ، جس کی وجہ سے معاشرے کی آنکھیں باہر آ گئیں- جس شخص کو "مالٹے اور کھجور" کا طبیعاتی فرق معلوم نہ ہو اسے مولوی کیا مالی بھی نہیں ہونا چاھئے-
اے شخص سُن کہ سرزمینِ شاد باد پر تین طرح کے مولوی پائے جاتے ہیں- ایک وہ پیٹ پرست جو مُردوں کے نام پر زندوں کا رزق ڈکار رہے ہیں- معاشرہ جس حال پہ راضی ہو ، یہ مذھب کو اسی رنگ میں ڈھال کر "مال" سے غرض رکھتے ہیں- انہیں "عوامی مولوی" کہا جاتا ہے-
دوسرے وہ بنیاد پرست جو معاشرے کا بازو مروڑ کر اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں- اپنے گرد تعصب کا دائرہ کھینچ کر چوکڑی مار کے بیٹھ جاتے ہیں- اگر کوئ بھولا بھٹکا "کافر" اس دائرے میں گھسنے کی کوشش کرے تو اسے "گھسّن" مار کر باہر نکال دیتے ہیں- انہیں "ضِدّی مولوی" کہا جاتا ہے-
تیسرے وہ بندگانِ خُدا جو اوروں کےلئے خود کو اچھی مثال بنا کر پیش کرتے ہیں- معاشرہ انہیں دیکھ کر خود بخود رنگ پکڑتا ہے- بڑے بڑے گنہگار ان کی محفل میں آ کر تائب ہو جاتے ہیں- انہیں "صالحین" کہا جاتا ہے ، مگر ایسے صالحین یہاں خال خال ہی ملتے ہیں اور یہی ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی کم نصیبی ہے-
اس کے بعد حاتم نے جیب سے شہزادی حسن بانو لاٹری فارم نکالا- مولوی مقصود کا اس پر انگوٹھا لگوایا- اس کے شناختی کارڈ کی تین عدد کاپیاں ہمراہ پاسپورٹ سائز فوٹو لیکر ، پہلی فلائیٹ سے ہی اسلام آباد روانہ ہو گیا-

No comments:
Post a Comment