DADH SADI KA QISSA Ep#8



ڈیڑھ صدی کا قصہ...(8)...ظفرجی

گاڑی بلگام ریلوے اسٹیشن پر ایک چیخ مار کر رک گئ-

 پلیٹ فارم پر رش دیکھ کر میں خوفزدہ ہوا کہ ابھی مسافروں کی پلٹن ہمارے ڈبے پر یلغار کر ے گی - لیکن مرزا بیگ نے یہ کہ کر ہمیں تسلی دی کہ یہ سواریاں نہیں ، تماشائ ہیں - اور محض ریل گاڑی دیکھنے آئے ہیں....ھندوستان میں ریل گاڑی کی نئ نئ آمد تھی...سو عوام کا شوق دیدار دیدنی تھا- ہر کوئ دیدے پھاڑ پھاڑ کر ریل گاڑی کو تکے جا رہا تھا-
 ڈبے میں ایک عمدہ پوشاک والا برہمن سوار ہوا... ماتھے پر تلک اور سر پر دیدہ زیب پگڑی....بالکل امیتابھ بچن اسٹائل... اس کے ساتھ سفید لباس اور سفید ٹوپیوں والے دو لڑکے تھے جن کے ہاتھوں میں صراحیاں اور برتن تھے - انہوں نے نہایت قرینے سے مسافروں کو پانی پلانا شروع کردیا- ساتھ ہی وہ برہمن صدا لگانے لگا " ریل والو...بہت ٹھنڈا میٹھا پانی ہے....پینے والو پانی پیو....بہت ٹھنڈا پانی ہے"
 پیاس تو ہمیں بھی خوب لگی تھی لیکن یہ سوچ کے دبکے رہے کہ شاید یہ انتظام بالخصوص ہندوؤں کے واسطے ہو....ہم مسلم پانی کی تلاش میں کھڑکی سے باہر جھانکنے لگے....کہ آواز آئ "صاحب پانی پیجئے" دیکھا تو وہی جوان رعنا مرمریں ہاتھ میں چاندی کا کٹورا لیے کھڑا ہے - ہم نے جھجھکتے ہوئے سرسّید صاحب کی جانب دیکھا تو وہ نصف کٹورا چڑھا چکے تھے....چنانچہ ہم بھی بسم اللہ پڑھ کے پی گئے-
 سر سید نے اس نوخیز ساقی سے پوچھا کہ کیا یہ انتظام سرکار کی طرف سے ہے تو اس نے جواب دیا " نہیں....جیون رام جادوا سیٹھ ساکن کانپٹی نے دھرم پو بٹھائ ہے" - سرسید نے ہمیں اس کا مطلب بتایا کہ ایک ھندو سیٹھ نے مذہب کے نام پر سبیل لگائ ہوئ ہے -
 باقی کا سارا سفر سرسّید نے اس دھرم پوء کی تعریف میں گزارا - تقریباً تمام اسٹیشنوں پر سبیل کا انتظام تھا جو کسی نہ کسی مہاجن نے کیا تھا-
 میں نے پوچھا "حضرت ....یہ ہر جگہ ہندو سبیل ہی کیوں نظر آرہی ہے..... مسلمانوں نے ایسا کوئ انتظام کیوں نہ کیا "
 سر سید بولے "اول تو مسلمان معاشی طور پر بہت پست ہے اور بمشکل اپنی دال روٹی پوری کر رہا ہے - اور دوسرا ابھی تک ریل گاڑی کے حرام حلال کا فتوی چل رہا ہے-"
"ریل گاڑی....کیسے حرام ہو گئ سر " ہم متجسس ہوئے-
 "بعد علماء کے مطابق ریل گاڑی میں چونکہ قبلہ کی سمت کا تعین نہیں ہوسکتا ، چنانچہ دوران سفر نماز نہیں پڑھی جاسکتی.....اور جس سواری میں نماز نہ ہو سکے....وہ حرام ہے... " سرسید نے بتایا-
 "سر آپ اس فتوے کو کم علمی کہیں گے.....یا انگریز سے تعصب" ہم نے پوچھا-
 " اس وقت ہندوستانی مسلمان کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایک طرف تو معاشی، معاشرتی اور علمی زوال کا شکار ہے، اوپر سے واعظ، مولوی، اور پیر... اس کو اور برباد کر رہے ہیں - جب بھی بہتری، بھلائ اور ترقی کی بات ہوتی ہے یہ خدا رسول (ص) کے دشمن ایک مسکین سی ٹھنڈی آہ بھر کے کہتے ہیں....اجی ایسی بات کرو جو آخرت میں کام آئے.....دنیا تو گزر ہی جانی ہے...تقدیر پر شاکر رہو...انسان کو خدا بھوکا اٹھاتا ہے...بھوکا سلاتا نہیں....." سرسید نے جواب دیا-
"اسلام پر کتنا یقین رکھتے ہیں آپ" ہم نے پوچھا-
"میں اسلام کو دین حق سمجھتا ہوں...لیکن تقلید سے نہیں.....اپنی تحقیق سے.....اور جو یقین اسلام پر مجھے ہے....شاید ان جبہ دستار والوں کو بھی نہ ہو....یہ جو ہزار ہزار دانوں کی تسبیح لیے پھرتے ہیں......اگر دین اسلام کے حق ہونے میں مجھے ذرا بھی شک ہوتا ...تو میں فوراً اسلام کو ترک کر دیتا " سرسید نے کہا-
 " آج کل کا مسلمان عمل سے زیادہ مسلک سے پہچانا جاتا ہے....سید احمد کو ہم کس مسلک کا مولوی سمجھیں...." ہم نے مسکراتے ہوئے پوچھا-
 "دیکھو بھائ....میں ایک جاہل آدمی ہوں - نہ مولوی ہوں نہ مفتی نہ قاضی نہ واعظ- نہ مقدس ہوں....نہ مقدس ہونے کا دعوی کیا ہے...نہ کسی کا ہادی بننا چاھتا ہوں....باقی رہی مسلک کی بات تو اہل سنت والجماعت سمجھ لیجئے...." سرسید نے کہا-
 "لیکن بعد باتیں آپ وہابیوں والی بھی تو کرتے ہیں " ہم نے مسکراتے ہوئے پوچھا-
 "ہاہاہاہا....بعد دوست یہ سن کر کافی حیران ہوتے ہیں....کہ میں اندر سے پکا وہابی ہوں...اور وہابیت کا حامی بھی....بشرطیکہ مجھے وہابی ہی سمجھا جائے.....فسادی نہیں " سرسید نے مسکراتے ہوئے کہا-
" سر فسادی وہابی.؟.....کیا مطلب؟ " ہم نے پوچھا-
 "میں وہابیوں کی تین قسمیں گردانتا ہوں.....ایک وہابی.....دوسرا کریلا وہابی......اور تیسرا.....نیم چڑھا کریلا وہابی.....اور میں تیسری قسم کا وہابی ہوں.......نیم چڑھا کریلا وہابی"
 اس پر ہم دونوں نے ایک قہقہہ لگایا.......اس دوران انجن نے ایک دلدوز چیخ ماری اور گاڑی چھک چھک کرتی.... دھواں اڑاتی..پھر چل پڑی...
" تیار ہو جاؤ.....اگلا اسٹیشن بمبئ ہے...." سرسید نے کہا-
 "واؤ.....بمبئ....بالی ووڈ....قطرینہ کیف...کرینہ کپور..." ہم چہک اٹھے
"کچھ فرمایا آپ نے....؟؟؟ " سرسید نے چونک کر پوچھا-
"کچھ نہیں سر...مم...میں...بمبئ....کے یادگار مقامات...کا سوچ رہا تھا" میں نے گڑبڑا کر کہا-
 سرسید بمبئ کے یادگار مقامات کی تفصیل بتانے لگے.... اور میں ٹرین سے باہر لہلہاتے کھیت دیکھنے میں مگن ہو گیا-

No comments:

Post a Comment