DADH SADI KA QISSA Ep#7






ڈیڑھ صدی کا قصہ....7....ظفرجی

7 اپریل 1869 .......نماز فجر کا سلام پھیرتے ہی سرسّید نے کُوچ کا حکم دے دیا- برتن ، بستر ، چادریں ، تکیے ، کپڑے ، جوتے ، کاغذ قلم دوات سب پیک ہوگئے.....چھجو بہت مستعد نوکر تھا...اس نے کُل سامان سمیٹ کر صندوق میں ڈالا - پھر صندوق سر پر اٹھا ہمارے آگے آگے چلا - اب ہم سب پلیٹ فارم پر بیٹھے ریل گاڑی کا انتظار کر رہے تھے-
سر سّید کے بیٹے سید محمود جو کلکتہ یونیورسٹی کے طالب علم تھے اس سفر میں ہمارے ساتھ تھے - وہ ہندوستان کے ان چیدہ طالب علموں میں سے تھے جنہیں حکومت انگلشیہ نے وظیفے اور اعلی تعلیم کے لئے برطانیہ آنے کی دعوت دی تھی- سید محمود نے بتایا کہ ھندوستان میں پہلی ریل گاڑی 16 اپریل 1853 کو چلی- یہ پٹڑی جس پر ہم اس وقت بیٹھے کلکتہ میل کا انتظار کر رہے ہیں محض پانچ سال پہلے یعنی 1864 میں بچھائ گئ ہے اور کلکتہ ، الہ آباد ، اور بمبئ کو جوڑتی ہے ، اس کا افتتاح صرف دو ماہ پہلے ہوا ہے- سید محمود نے بتایا کہ کراچی تا کوٹری بھی ایسی ہی ایک پٹڑی بچھائ جا چکی ہے-
 ٹرین کی "کوک" نے ہم سب کو ہوشیار کر دیا- دور سے دھویں کے مرغولے اڑاتا کالا انجن چھک .....چھک ...کرتا چلا آرہا تھا - یہ انجن اسٹیم پاور سے چلتا تھا - انجن کی ایک چمنی سے سفید بھاپ اٹھتی تھی اور دوسری سے کوئلے کا سیاہ دھواں - دو دیسی مزدور بوری نما کپڑے پہنے بیلچے لیکر انجن کی انگیٹھی میں کوئلہ دھکیلنے پر مامور تھے - ان کی حالت کسی بھوت سے کم نہ لگ رہی تھی-
 پہلے فرسٹ کلاس کے ڈبے گزرے - ان بوگیوں میں آمنے سامنے کرسیاں اور سینٹرٹیبل لگے ہوئے تھے - برتھ کا انتظام بھی تھا- فرسٹ کلاس صرف صاحبان اور میموں کےلیے مخصوص تھی - کوئ ھندوستانی ماسوائے صفائ کرنے کے ادھر کا رخ نہ کر سکتا تھا-
 اس کے بعد سیکنڈ کلاس کے ڈبے گزرے -- طویل بوگی میں لمبے لمبے بنچ بنے ہوئے تھے- اور سامان رکھنے کی الگ جگہ تھی- ان میں صرف سفید پوش ھندوستانی ہی سفر کر سکتے تھے-
 ان کے پیچھے تھرڈ کلاس ڈبے تھے- جن میں فرش پر آلتی پالتی مارے ھندوستان کی خاموش اکثریت محو سفر تھی - میں سرسید سے پوچھنا چاھتا تھا کہ انصاف پسند انگریز نے سب ڈبے ایک جیسے کیوں نہیں بنائے....لیکن اس وقت وہ اپنے ڈبے کی فکر میں لگے ہوئے تھے -
 میں نے سوچا کہ قوم میں طبقاتی تقسیم پیدا کرکے ہی اس پر کامیاب حکومت کی کاٹھی رکھی جا سکتی ہے- شاید انگریز ہمارے حکمرانوں کو بھی یہی گیدڑ سنگی دیکر گیا ہے-
 ہم سب سیکنڈ کلاس میں بنچ نشین ہو گئے - کالے انجن نے ایک دلدوز چیخ ماری ، کسی چرسی کی طرع دھویں کا مرغولہ چھوڑا..اور ناگپور اسٹیشن دھواں دھارکرتا اگلی منزلوں کو چل پڑا-
 چھجو نے سویرے سویرے پراٹھے تیار کر کے ساتھ ہی باندھ دیے تھے...ہم سب نے بنچ کھینچ کھانچ کر قریب کئے اور ڈٹ کر ناشتہ کیا- ایک بار پھر کھانے کی تاثیر نے اندر کا سہیل وڑائچ بیدار کر دیا:
 " ایک طرف انگریز کی نوکری پر فخر کرنا.......دوسری طرف ھندوستان کے عوام کا درد بھی محسوس کرنا........کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے " ہم نے سوال پھینکا-
 "میں نہیں سمجھتا کہ یہ دو چیزیں ایک دوسرے کی ضد ہیں - جہاں تک گورنمنٹ انگلشیہ کی نوکری کا تعلق ہے تو میں خاندان کا پہلا فرد نہیں...میرے پدری اجداد نے سلطنت مغلیہ کی خدمات....خصوصاً فوج میں معزز عہدوں پر..... پوری ذمہ داری اور وفاداری سے ادا کیں.... میرے نانا حضور بھی گورنمنٹ انگلشیہ میں معزز عہدے پر تھے...اور وجہ اس کی صرف تعلیم ہے......پڑھا لکھا آدمی کیا کرے.....محض اس وجہ سے کہ ملک میں انگریز کی حکومت ہے....گھر پڑا رہے.....اور ھندو اور سکھ اعلی عہدوں پر فائز ہو کر اپنی قوم کی خدمت کرتے رہیں...." سرسید نے جواب دیا-
 "لیکن ایک طبقہ سوچتا ہے کہ انگریز ھندوستان کا معاشی استحصال کر رہا ہے اور آپ کو اس میں برابر کا شریک ٹھہراتا ہے" میں نے کہا-
 " کون سا استحصال ؟.... ھندوستان کا استحصال تو افغانستان سے آنے والے حملہ آوروں نے کیا بھائ.....ہزاروں انسان مارے اور جو کچھ ملا لوٹ کر چلے گئے....کس نے یہاں پل بنائے....ریل کی پٹڑیاں کس نے بچھائیں....پولیس چوکیاں....عدالتیں کس نے بنائیں....امن و امان اور انصاف کا نظام کس نے قائم کیا.....تیمور نے ، نادرشاہ نے...یا احمدشاہ ابدالی نے.....میں کہتا ہوں جو کچھ گونمنٹ انگلشیہ نے ان کے لیے کیا...کوئ کر کے دکھائے....اور رہے ہم ........تو ہم اپنی قوم کے چہرے پہ لگے ہوئے وہ داغ دھو رہے ہیں....جو غدر کے دوران ھندوؤں نے لگوائے ....پہلے مسلمان کو حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسایا....پھر شکست ہوتے ہی انگریز کے مخبر بن گئے......اب خود تو گنگا نہا کر پاک ہوگئے ہیں....اور پھنس گیا بے چارہ مسلمان ..." سرسید نے کہا-
 "تو گویا آپ اس غلامی کی زندگی پر راضی ہیں اور قوم کو بھی اس پر راضی کرنا چاھتے ہیں " میں نے پوچھا-
 "جو حالات ہمارے ہیں....میں کہتا ہوں آج اگر ہمارے سر سے گورنمنٹ انگلشیہ کا ہاتھ اٹھ جائے تو ہم آپس میں لڑ لڑ کے مر جائیں گے....یہی تو ہوا تھا ضلع بجنور میں....ایک توپ ہاتھ کیا آگئ....گاؤں کے گاؤں پھونک دیے نواب محمود نے.....پھر وہی توپ سکھوں کے ہاتھ چڑھ گئ....انہوں نے نواب محمود کا گاؤں پھونک دیا...خدا نہ کرے ان کے ہاتھ کبھی توپ آئے....پھر توپ ہی رہ جائے گی....بندہ کوئ نہیں بچے گا "-
 گاڑی رک رہی تھی.....شاید کوئ اسٹیشن آنے والا تھا.....نزاکت قلت وقت کو دیکھتے ہوئے ایک آخری سوال کی جسارت کی....
" ہندوستانی مسلمان کی موجودہ بدحالی کی کوئ ایک وجہ.......بس ایک......مختصراً " ہم نے پوچھا-
" کچھ نہ ہو کر خود کو سب کچھ سمجھنا " سرسید نے جواب دیا-
 میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی سر اوپر نیچے ہلا دیا-

No comments:

Post a Comment