DADH SADI KA QISSA Ep#9




ڈیڑھ صدی کا قصہ.....9....ظفرجی

بمبئ ریلوے اسٹیشن پر اچھی خاصی رونق تھی-
"یہ بمبئ کا بائکلا اسٹیشن ہے....یہاں سے ہوٹلیں اور شہر قریب پڑتا ہے" سرسید نے بتایا-
 میں بمبئ ریلوے اسٹیش کی پر شکوہ عمارت کو دیکھ کر بت بن کہ رہ گیا- وکٹوریا عمارات کا بڑھاپا تو بہت دیکھا تھا....جوانی آج پہلی بار نظر آئ تھی....سو دیکھتا چلا گیا....
 "یہ ہیں ہمارے دوست مسٹر نوروز جی پارسی....اور یہ مرزا محمد علی بیگ " سرسید نے کندھا تھپتھپایا کر مجھے متوجہ کیا تو میں ہوش میں آیا-
 "السلام علیکم....سرررر..جی......مم....میں ظفر....." میں نے ہکلاتے ہوئے دونوں بزرگوں سے ہاتھ ملایا-
 "اور سنائیں مرزا صاحب...بہت کمزور ہوگئے ہیں...کیا دوسری شادی کر لی" سرسید نے برجستہ کہا، اس پر تینوں بزرگوں کو ھنسی کا دورہ پڑا....تینوں پرانے شناسا تھے... ملتے ہی باہم شیروشکر ہوگئے....میں ایک بار پھر گردو پیش کے فلمی سین میں کھو گیا....فرسٹ کلاس کے انگریز مسافر ٹرین سے اتر رہے تھے.....لمبے لمبے کوٹ اور ھیٹ پہنے گورے....اور شرارے غرارے والی لیڈیاں....ہندو قلی اور بگھی بردار ان کے آگے بچھے بچھے جارہے تھے....کوئ ان کا بریف کیس پکڑتا...کوئ سوٹ کیس سنبھالتا.....کوئ ٹرنک......پگڑی جو کبھی ھند میں عزت کی علامت تھی انگریز نے اسے اردلی کے سر پر دھر دیا تھا....مونچھ جو غیرت اور طاقت کی علامت تھی وہ کوچوان کے حصے میں آئ تھی ....اور داڑھی وہ خود سجا کر داڑھی والوں کا شکار کرتا پھر رہا تھا.....
 مسٹر نوروزجی نے سامان ایک چھکڑے میں لدوا کر ھوٹل بھجوا دیا- اسٹیشن سے باہر دوگھوڑوں والی ایک بگھی ہماری منتظر تھی-
"یہ رہی آپ کی پالکی گاڑی " نوروز جی نے کہا -
 ہم سب پالکی میں سوار ہو گئے....نوروزجی ، سرسید اور مرزا صاحب آگے بیٹھے.....میں اور سرسید کے دونوں نورنظر پیچھے ..... پالکی ایک لطیف سا جھٹکا لے کر چل پڑی-
 بمبئ کا موسم سہانا تھا.....آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور انتہائ خوشگوار ہوا چل رہی تھی......پالکی چلی تو میں نے گنگنانا شروع کر دیا.....
"پالکی میں ہوکے سوار چلی رے....
میں تو اپنے ساجن کے دوار چلی رے"
" کیا گنگنا رہے ہو میاں" سر سید نے مڑ کر دیکھا-
میں نے والیم بڑھا دیا.....
"کوئ روک سکے....تو روک لے..میں نا..آ..چتی..چھن چھنا چھن چھن!!!
پالکی میں ہوکے سوار چلی رے........"
 دونوں بزرگوں نے ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھا....پھر مجھے تشویش بھری نظروں سے دیکھنے لگے.....میں چپ سا ہو گیا-
" کون سا راگ ہے .....یہ بَھیّن...؟؟ " نوروزجی نے پوچھا-
" سر......آنے والے دور کا " میں نے معصومیت سے کہا-
 "میں بھی کہوں....نہ بھٹیار ہے...نہ میاں کی توڑی.....نہ ملہار..کیا گائے ہے یہ چھوکرا " نوروزجی نے کہا-
 " توبہ جی... سچ بولتے ہیں سادھورام جوتشی....آنے والا دور بہت بے حیائ کا دور ہوگا....." سر سید نے ہاں میں ہاں ملائ-
 " دیکھو تو بھیّن....کتنی ڈھٹائ سے ایک خاتون....اعلان فرماوے ہے....کوئ روک سکے ....تو روک لے.....توبہ توبہ" نوروزجی نے کانوں کو ہاتھ لگایا....
 میں نے سوچا کہ جو دو بول سن کر بلبلا اٹھے ہیں... اس گیت پر مادھوری کا ڈانس دیکھ لیں تو پالکی سے ہی چھلانگ لگا دیں....کس کھل نائک دور میں پیدا ہوگئے ہم... !!!
بیس منٹ بعد ہم " پالن جی ھوٹل " پہنچ چکے تھے-
 ھوٹل کیا تھا....ایک مجسمہء لطف و عنایت تھا- پگڑ سجائے خدمتی ہوشیار باش کھڑے تھے- سفید سفاری پہنے بیرے ادھر ادھر بھاگے پھرتے تھے...سب کے گلے میں چاندی کی زنجیر اور اس پر جھولتی صلیب....سب کے سب کرسچئن تھے-
 انگریز مشنریوں کے طفیل ھندوستان میں عیسائیت تیزی سے پھیل رہی تھی- خصوصاً نچلی ذات کے ھندو بڑی تیزی سے عیسائیت کے دامن میں پناہ لے رہے تھے- سرکار نے ان کےلیے پر کشش ملازمتوں کے دروازے کھول رکھے تھے، اور یہ خود کو بحیثیت عیسائ زیادہ محفوظ تصور کرتے تھے-
" ہم جھٹکے والی مرغی نہیں کھائیں گے" سید محمود نے کاؤنٹر پر کھڑے کھڑے کہا-
 "ہم مرغی ذبح کر کے پکاتے ہیں....اور بڑا گوشت مسلم قصائیوں سے منگوایا جاتا ہے" مینیجر نے خوشدلی سے بتایا-
 "یہاں ہر قسم کا کھانا ملے گا آپ کو.....بے فکر رہیں" مینیجر نے کتاب پر ہم سب کی انٹری لکھ کر چابیاں سرسید کو تھماتے ہوئے کہا-
ھوٹل میں بہت سے انگریز ٹھہرے ہوئے تھے- سرسید نے دو کمرے کرایہ پر لیے-  چار پلنگ ہر کمرے میں آراستہ تھے- ہم وہاں نہائے دھوئے ، اور کپڑے بدلے......میں نے پہلی بار سرسید کو نماز پڑھتے دیکھا- میں نے بھی نماز ادا کی-
 "دیکھو بھائ...اب ان جھگڑالو مولویوں کی طرح یہ نہ لکھتے رہنا کہ سید احمد نماز نہیں پڑھتا....میں کسی وقت کی نماز پڑھتا ہوں...کسی وقت کی نہیں پڑھتا...وقت بے وقت کا بھی خیال نہیں کرتا...دو دو اکٹھی ملا کر بھی پڑھ لیتا ہوں....ریل میں لمبا سفر ہو تو مجھ سے ادا نہیں ہوتی....یہ سب باتیں مجھ میں ہیں.....اور یہ میری نالائقی اور شامت اعمال ہے" سرسید نے وضاحت کی-
 "سر نماز آپ کے گھرانے سے ہی ہمیں ملی ہے....چھتیس واسطوں سے گزرتے گزرتے....کافی گھس گئ ہے شاید ..... .ہم تو وہی پڑھیں گے جو مولوی نے جوڑ توڑ کر ہمیں سکھائ .... " میں نے جواب دیا-
" کھانا کھا کر شہر چلتے ہیں....ہمارے ساتھ ساتھ رہیے گا" سرسید نے مسکراتے ہوئے کہا....
 ہم سب ھوٹل کے ڈائننگ روم کی طرف چل پڑے-

No comments:

Post a Comment