DADH SADI KA QISSA Ep#10




ڈیڑھ صدی کا قصہ....10....ظفرجی

دن کے دس بجے ہم بمبئ کی سیر کو نکلے-
 ہمارے ساتھ سرسید ، مرزا صاحب، حامد اور محمود تھے- میرے علاوہ سب نے ہی سرخ ترک ٹوپی پہن رکھی تھی- میں نے سوچا سرسید کے ساتھ رہنا ہے تو اپنی وضح قطع بھی بدلنی ہوگی- ورنہ لوگ گھور گھور کر دیکھتے رہیں گے....یہاں تو انگریز بھی باریش ہیں-
بمبئ کی صاف ستھری سڑکوں پر چلتے ہوئے ہم ایک پکی سڑک پر آ نکلے -
 "یہیں رک کر سواری کا انتظار کرتے ہیں " سرسید برگد کے ایک گھنے درخت کے نیچے بنچ پر بیٹھ گئے-
"سر ...پالکی منگوائ ہے ...کہ ...شکرم " میں نے دریافت کیا-
 سرسید مسکرائے.... " بھائ....پالکی اس وقت منگواتے ہیں جب کسی بڑے عہدے دار کے پاس جانا ہو، یا کسی بڑے ھوٹل میں....جتنا بڑا افسر ....اتنی بڑی پالکی....مثلاً وائسرائے کے پاس جانا ہو تو کم ازکم چھ گھوڑوں والی پالکی چلے گی....." سرسید نے کہا-
"اور شکرم..." میں نے پوچھا
" شکرم تو خالی شکم والوں کی سواری ہے بھائ....جس پر غریب صبر شکر کے بیٹھتا ہے...."  سرسید نے جواب دیا-
" تو ابھی ہم کس کا انتظار کر رہے ہیں " میں نے پوچھا
" بس کا...بڑے شہروں میں بس چلتی ہے.. " سرسید نے بتایا
بس ؟؟؟ ..... بس چلتی ہے بمبئ میں ؟؟ " میں نے حیرت سے پوچھا-
 "جی بالکل.....اومنی بس.....کلکتہ اور کراچی میں بھی اومنی بس ہی چلتی ہے" سرسید نے ہماری معلومات میں اضافہ کیا-
 میں حیران ہوکر سوچنے لگا کہ ریل تو بھاپ پہ چل رہی ہے...بس میں کون سا رولس رائس انجن فٹ کیا ہے انگریز نے-
 جلد ہی میری حیرت دور ہوگئ- بھوپو کی آواز کان میں پڑی....دیکھا تو ایک دو گھوڑا بس خراماں خراماں بھاگی چلی آتی ہے- میری ہنسی چھوٹ گئ.....دو ہارس پاور کی بس -
یہ ایک دو منزلہ اومنی بس تھی- اس میں 24 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی- اور سیٹیں بہت آرام دہ- اس کے پہیے تانگے کے پہیوں جیسے تھے- اگلے پہیے چھوٹے اور پچھلے نسبتاً بڑے - دو صحت مند اور طاقتور گھوڑے اسے کھینچ رہے تھے- 30 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتی اس بس میں بیٹھ کر یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اسے گھوڑے بھگا رہے ہیں.....ایک خاموش اور بے دھواں بس !!!
 " ظفر میاں....آپ کے ہاں تو بہت جدید بسیں چلتی ہونگی" مرزا صاحب جو میرے ساتھ تشریف فرما تھے ، گویا ہوئے -
 "جی ہاں...ہماری بسوں کی تو بات ہی نہ کیجیے....اتنی سبک رفتارکہ کبھی کبھی مسافروں کو عالم بالا پہنچا دیتی ہیں.....مسافر ناشتہ لاہور سے کر کے چلتے ہیں.....اور لنچ جنت کے باغات میں " میں نے جواب دیا-
مرزا صاحب نے مجھے حیرت سے گھورا....اس سے پہلے کہ وہ مزید سوال داغتے....ہمارا اسٹاپ آگیا- گنیش داس کشنا جی ھنڈی والا اسٹاپ-
سرسیّد ھنڈی والا کی دکان میں گھس گئے اور ہم ان کے پیچھے پیچھے تھے-
ھنڈی ھندوستان میں روپے کی ترسیل کا سب سے قدیم ذریعہ ہے -  کسی بھی شہر میں روپیہ ھندو مہاجن کے حوالے کرکے کہیں سے بھی وصول کیا جا سکتا تھا- مہاجن روپیہ وصول کر کے متعلقہ شہر میں اپنے ایجنٹ کو تار بھیج دیتے تھے-
سرسیّد نے کچھ کاغذات کاؤنٹر پر بیٹھے اکاؤنٹنٹ کے سامنے دھرے- اکاؤنٹنٹ نے کاغذات کو الٹ پلٹ کر اچھی طرح دیکھا- پھر دکان کی بغلی دیوار میں لگا سیف کھولا اور کچھ روپے گن کر کلرک کے حوالے کرتے ہوئے کہا-
 "یہ پائسا اور کاگجات لے کر سیّد صاحب کے ساتھ سیٹھ جی کی کوٹھی پہ جائیو....ٹھینگا لگوا کے پائسا دے کے... کاگجات واپس لانے کا"
 ہم کلرک کے ہمراہ سیٹھ جی کی کوٹھی پہ پہنچے- سیٹھ جی واسکٹ دھوتی پہنے باہر آئے اور بڑے تپاک سے ملے- ھنڈی کے پیپرز پر انگوٹھے لگائے اور روپیہ سید صاحب کے حوالے کیا- اور پیشہ ورانہ عاجزی سے بولے.... " اور کیا سیوا کروں مولانا ؟ سرسید نے پوچھا " سیٹھ جی ...ہمیں پی اینڈ او ، سی ٹریول کمپنی کے دفتر جانا ہے...رہنمائ فرما دیجیے گا"
سیٹھ نے ایک بارہ تیرہ سالہ لڑکا ہمارے ساتھ کیا اور ہم پی اینڈ او ٹریول کے دفتر جا پہنچے-
 کمپنی کے مینیجر نے ہمارا خوشدلی سے استقبال کیا- سرسید نے اپنا تعارف کروایا تو اس کی خوش دلی اور بڑھ گئ- اس نے دراز سے کچھ رنگ برنگے لفافے سید صاحب کے حوالے کرتے ہوئے کہا " یہ رہی آپ کی ڈاک"
یہ کچھ خطوط تھے جو سرسید کے حلقہء احباب نے انہیں کمپنی کے ایڈریس پر بھیجے تھے-
 اس کے بعد مینیجر نے سید صاحب کو ٹکٹ تھماتے ہوئے کہا "یہ رہے آپ کے بحری جہاز کے ٹکٹ....اور یہ ہیں ریل گاڑی کے ٹکٹ"
سرسید نے ٹکٹ کوٹ کی جیب میں ڈالے اور روپیہ گن کر مینیجر کے حوالے کیا-
ہم لوگ آفس سے باہر آ گئے-
"سر .....کیا بحری جہاز سے اتر کر پھر ٹرین میں بیٹھیں گے" میں نے دریافت کیا-
 "بھائ....ایک بار کھل کے سن لو...." سرسید رک کر مجھے سمجھانے لگے- "بمبئ سے بحری جہاز پہ بیٹھ کے جائیں گے مصر،..مصر سے ٹرین پکڑ کے اسکندریہ..اسکندریہ سے پھر بحری جہاز پہ بیٹھ کے مارسیلز...مارسیلز سے پھر ٹرین پکڑ کر پیرس....دو دن وہاں قیام ...وہاں سے ٹرین پکڑ کر انگلش چینل تک جائیں گے....وہاں سے پھر بحری جہاز....پکڑیں گے....اور سیدھا لندن .....بس اتنا سا تو سفر ہے" سرسید نے کہا-
میں چکرا کے رہ گیا.....
 "سر لندن جانا اتنا مشکل....آخر کیوں....سیدھے سبھاؤ...بحری جہاز پر بیٹھ کر لندن کیوں نہیں جاتے" میں نے پوچھا-
 "بھائ....جب مصر پہنچیں گے تو وہاں نہر کھودنے والوں کو کہ دینا کہ نہر سویز زرا جلدی کھودیں....لگے ہوئے تو ہیں کئ سالوں سے.." سرسید نے کہا-
"اوہ..آئ..سی..نہر سویز ابھی نہیں کھلی..سمجھ گیا " میں نے کہا-
 "ابھی چلو..روپے بھی بدلوانے ہیں..ہمارے پاس الہ آباد کی کرنسی ہے جو بمبئ میں نہیں چلتی" سرسید نے کہا-
 "سر پاسپورٹ اور ویزہ....اس کا انتظام کون کرے گا...تین ملکوں سے گزر کر جانا ہے لندن " میں نے متفکر ہو کر پوچھا-
 " کیسا ویزہ....اور کہاں کا پاسپورٹ.... ارے پگلے....سلطنت برطانیہ پر سورج غروب نہیں ہوتا....ہر طرف ملکہء معظمہ کی بادشاہی ہے....بولو دامت برکاتھُم.." سرسید نے کہا-
 مجھے دامت برکاتھم پہ ہمیشہ ہنسی آ جاتی تھی..... لیکن سیّد صاحب کی ناراضگی بھی مانع تھی....سو....منہ پکا کر کے... مُنڈی ہلا کے بول دیا...... "دامت برکاتھم !!!! "
 Sahir Saeed
Dedh Saddi Ka Qissa....10
Based on Hayat e Javed by A. H. Haali
Musafir in London by Sir Sayyed
Hayat e Sir Sayyed by Zia ud Din Lahori
Some characters and events are fictitiouss.

No comments:

Post a Comment