قصّہ حاتم طائ --26-- ظفرجی
30 برس بِیت گئے عالیہ کو چھوڑے ہوئے- لکڑ والے بوہے پر اس کا زاروقطار رونا مجھے آج بھی یاد ہے-
میں نے اس کا دِل رکھنے کو کہا تھا:
" میں تجھے چھوڑ تھوڑی رہا ہوں پگلی ... بس ایک گُناہ سرزد ہو گیا ہے مجھ سے .... اسی کی قید کاٹنے جا رہا ہوں میرا نوٹ جعلی نکل آیا تھا ناں .... بس اتنی سی بات پہ پوُرا پِنڈ خلاف ہو گیا ہے .... مولوی صاب بھی ... رب کی پکّڑ ہو تو بندہ استغفار کرے ... مولوی کی پکّڑ کا کیا علاج ...؟؟ میں اپنا گناہ بخشوانے بابا شاہ عنایت کے مزار پر جا رہا ہوں .... چِلّہ کروں گا .... رب سوھنے نے چاھا تو سب ٹھیک ہو جائے گا .... تو فِکر نہ کر ... اور امّاں کے گلے لگ کر رونا مت ... ورنہ سارا چِِلّہ خراب ہو جائے گا .... تیرے لئے بیٹا مانگوں گا میں ... تو ہر جمعراتے دودھ چڑھانے آتی رہنا بس .... !!! "
مگر وہ جانتی تھی کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں ... یارُو بدبخت نے اسے سب کچھ بتا دیا تھا- فتوے والی بات سے لے کر جرگے والی رات تک ... سب کُچھ-
چنانچہ وہ روتی رہی اور میں اسے جھوٹی تسلیاں دیتا ہوا بابا شاہ عنایت کے مزار پر چلا گیا-
چنانچہ وہ روتی رہی اور میں اسے جھوٹی تسلیاں دیتا ہوا بابا شاہ عنایت کے مزار پر چلا گیا-
وقت یونہی گزرتا گیا اور میں صلاح الدین سے سائیں صلّو بن گیا- مُلّاں پور کا سائیں- من کی آگ بجھانے کو بُوٹی گھوٹ گھوٹ کر پینے والا سائیں- لمبا سا چوغہ پہن کر شب بھر ڈھول کی تاپ پر ناچنے والا سائیں .... !!!
عالیہ ہر جمعرات کو وہاں دودھ چڑھانے آتی رہی- میں ہی بھاگ کر سب سے پہلے اس کے ہاتھ سے گڑوی لیتا- پھر زائرین کی بھیڑ چیرتے ہوئے ، اس کا ہاتھ پکڑے بابا کی قبر تک لے جاتا- واپسی پر اسے ڈیڑھ دو سو کے سِکّے تھما کر کہتا :
"دیکھ عالی .... فقیر بن کر کتنا پیسہ ملتا ہے ... دکان پر تو اتنا نہیں کماتا تھا ناں ... !!! "
اس کے چہرے پر ایک اداس سی مسکراہٹ اُبھرتی- بڑی دِل گُردے والی عورت تھی وہ- چادر کا پلّو مونہہ پر ڈال کر بولتی:
" توں فقیر ایں تے دَس ... پُتّر ہوسی کہ دِھی ؟؟ "
میں جانتا تھا وہ امید سے ہے فوراً کہتا :
" پُتّر ہو گا عالی ... دیکھ لینا .... بابا شاہ عنایت نے وعدہ کیا ہے مجھ سے ... !!! "
وہ آنکھوں میں اُمید کے چراغ لیے رُخصت ہوتی اور میں دور تک جاتا ہوا اسے دیکھتا رہتا :
جس نار دا کوَنت فقیر ہویا
ترٹّی اُس دی چوڑ تھی گئ جے نی
گلیاں وِچ دیوانڑیں بھوگ پِھردی
سینے گھاہ فراق سہہ گئ جے نی
ترٹّی اُس دی چوڑ تھی گئ جے نی
گلیاں وِچ دیوانڑیں بھوگ پِھردی
سینے گھاہ فراق سہہ گئ جے نی
پھر اس کا آنا کم ہو گیا- کئ ماہ بعد وہ نظر آئ- چاچی زینت کے ساتھ - اس کی گود میں ایک ننھّا سا پھول تھا- صلاح الدین صلّو کا بیٹا-
میں نے آگے بڑھ کر اپنے پُتّر کو اٹھا لیا- پچاس کا نوٹ اس کی مٹھّی میں دیا- دربار کی خاک چٹائ اور کہا :
میں نے آگے بڑھ کر اپنے پُتّر کو اٹھا لیا- پچاس کا نوٹ اس کی مٹھّی میں دیا- دربار کی خاک چٹائ اور کہا :
"عالی .... میں نے اس کا نام عنایت رکھا ہے ... عنایت صلاح الدین !!!
وہ چھ سال تک برابر آتی رہی- ہر جمعراتے دودھ کی گڑوی لے کر-
پھر اس کا آنا کم ہو گیا- شاید گھر کے جھمیلوں میں پھنس گئ تھی- مہینوں بعد نظر آتی- ہماری آخری ملاقات 1994ء میں سردیوں کی ایک شام کو ہوئ- وہ مزار پر چادر چڑھانے آئ تھی- کافی کمزور لگ رہی تھی- گلاب سا چہرہ کملا سا گیا تھا-
پھر اس کا آنا کم ہو گیا- شاید گھر کے جھمیلوں میں پھنس گئ تھی- مہینوں بعد نظر آتی- ہماری آخری ملاقات 1994ء میں سردیوں کی ایک شام کو ہوئ- وہ مزار پر چادر چڑھانے آئ تھی- کافی کمزور لگ رہی تھی- گلاب سا چہرہ کملا سا گیا تھا-
میں نے پوُچھا:
" تمہیں کیا ہو گیا عالی ؟؟ بیمار ہو ؟؟"
وہ بولی:
"توں کیہو جیا فقیر ایں .... جیہڑا دِل دی بیماری ای نئیں بُجھدا .... !!! "
میں آنسو پی کر چُپ ہو گیا-
پھر وہ چلی گئ اور کبھی واپس نہ آئ- میں مہینوں انتظار کرتا رہا تڑپتا رہا- مزار پر عورتوں کی بھیڑ میں اسے تلاش کرتا رہا- تنہائ میں اس کے خیالوں سے لڑتا رہا- مگر وہ تو جیسے گم ہی ہو گئ تھی- ہمیشہ کےلئے گُم-
دھوبیاں پِنڈ والے عموماً بابا بودے شاہ پر جاتے تھے- شاہ عنایت کا دربار کافی دور 1 چک میں واقع تھا- کافی عرصہ بعد گاؤں سے آنے والی ایک عورت نے بتایا کہ عالی کو فوت ہوئے مہینہ ہو چلا ہے- جِگر کی بیماری نے اسے کھا لیا تھا-
یہ خبر سنتے ہی میں دھاڑیں مار مار کر رویا اور آٹھ پہر تک روتا رہا- بھنگ کا نشہ ایسا ہے کہ رونے والا نشہ ٹوٹنے تک روتا ہی رہتا ہے- پھر جب ہوش آیا تو بابا شاہ عنایت کی قبر پر جا بیٹھا اور کہا:
" بابا .... ماتھے پر لگے ایک داغ کو چھُپائے یہاں بیٹھا تھا .... مسلک بدلتا تو تو دوسرا لگ جاتا ... کیا کرتا ... دُنیا والے بھی تو سارا جسم چھوڑ کر ہمیشہ داغ ہی دیکھتے ہیں .... تیرے مزار پر لوگ کُڑیاں سیٹ کرنے آتے تھے .... مگر قسم اُٹھوا لو .... میں نے صرف ایک ہی کُڑی پر نظر رکھی ... وہی .... جسے مولوی نے میرے لئے حرام کر رکھا تھا .... مجھے معاف کر دینا .... جس کےلئے یہاں بیٹھا تھا ... وہ تو چلی گئ ... میں اب یہاں کیا کروں گا .... بیٹھا رہا تو اُس کرماں سڑی کی یاد آتی رہے گی .... تیرے مُرید بہتیرے .... اور مجھے بھنگ کی کمّی نہیں .... مل جائے گی کہیں نہ کہیں سے .... اب چلتا ہوں ... !!! "
عنایت کچھ بڑا ہوا تو صادق سیکلوں والے نے اسے اپنی دکان پر بٹھا لیا- مجھے یقین تھا کہ صادق کی ڈانٹیاں کھا کر وہ ضرور ایک اچھا مستری بنے گا- اب گبھرو ہو چُکا ہے ماشاءاللہ- اڈّہ دھوبیاں پر اپنی دکان کرتا ہے-
مُلاں پور آج بھی آباد ہے- بس چٹّی مسیت کا امام بدل گیا ہے- آج کل وہاں مولوی نزیر کا سب سے نالائق شاگرد یارو بیٹھا ہوا ہے !!!
گدڑ پنڈی والوں سے آج بھی اس کا ایک آٹھ کا آکڑا ہے- کئ مناظرے جیت چُکا ہے- غریبوں کےلئے نئے سے نئے کھڈّے کھودتا جا رہا ہے - سچ کہتا تھا ماسٹر خداداد کہ ہر مولوی اپنے مسلک کا بادشاہ ہوتا ہے-
-
اور رہ گیا میں .... تو یہاں راوی کنارے "کِلیاں والی" میں بیٹھا ہوں- " بابا مُسافر" کے دربار پر- یہاں ایک ٹیلے پر بیٹھ کر کبھی میں نے ایک اصلی نوٹ راوی میں پھینکا تھا- دنیا جسے جعلی ثابت کرنے پر تُلی تھی-
میرا نکاح نامہ !!!
-
اور رہ گیا میں .... تو یہاں راوی کنارے "کِلیاں والی" میں بیٹھا ہوں- " بابا مُسافر" کے دربار پر- یہاں ایک ٹیلے پر بیٹھ کر کبھی میں نے ایک اصلی نوٹ راوی میں پھینکا تھا- دنیا جسے جعلی ثابت کرنے پر تُلی تھی-
میرا نکاح نامہ !!!
صبح شام دریا کنارے پھِرتا ہوں اور نعرہ لگاتا ہوں ... شادی کر دریا میں ڈال .... بھلا کیا فائدہ کاغذ کے اس ٹُکڑے کا جسے پانے کےلئے سو جتن کرنے پڑیں اور کھونے کےلئے محض تین لفظ درکار ہوں - طلاق طلاق طلاق !!!
END OF THIS SESSION
Thanks All who support
Technical Assistance
Saleem Wardak
Saeed Asif Goursi Gujjar
Art Work: Haider Jee
Story: QISSA HATIM TAI
Sub Story: Mullan Pur Ka Sain
Region: A Village near Kamalia Toba Tek Sing
Era: 1980,s
Theme: Religion & Society
A classical factious novel based on true story.
Names and places are not real.


No comments:
Post a Comment