قصّہ حاتم طائ --25-- ظفرجی
مسجد کے حُجرے میں مولوی نزیر کے علاوہ نمبردار صاحب ، سرُو سرگانڑاں ، بالوُ گجّر ، مہر خورشید اور حیاتا چوکیدار میرے منتظر تھے-
میں سلام کر کے خاموشی سے بیٹھ گیا-
مولوی نزیر نے دفعات پڑھ کر سنائیں:
مولوی نزیر نے دفعات پڑھ کر سنائیں:
" بھائیو ... گَل یہ ہے کہ یہ بندہ ناں جس کا صلاح الدین ہے ، پورے پِنڈ کا دین ایمان بگاڑنے پہ تُلا ہے-
اس نے پہلے ووہٹی کو طلاق دی ... فیر مجھ سے مسئلہ دریافت کیا ... یہ تو ہو گیا پہلا گُناہ ...
دوجی چوّل اس نے یہ ماری کہ مجھ سے طلاق کی تصدیق کرواکے مطلقہ کو واپس گھر لے آیا ... اسے کہتے ہیں رستہ پوُچھ کے کھڈّے میں گرنا !!!
تِیجا گُناہ ... یہ جھاواں .... اپڑیں مسلک کو چھوڑ کے ... وہابیوں کے پنڈ گیا ... اور مولی بشیر سے اِک غلط فتوی لے کے آ گیا ... مطبل کُڑ کُڑ کتّھے ... تے انڈے کِتّھے !!!"
چوتھا گُناہ ... اب اسی مُطلقہ کو گھر میں بٹھا کے نہ صرف شرع کا مذاق اڑا رہا ہے ... بلکہ زناء بالرضاء کا مرتکب بھی ہو رہا ہے .... !!!
اب ڈھٹائ ویکھو .... میں نے اسے خوفِ خدا دلایا .... سمجھانڑیں کی کوشش کی تو بجائے شرمندہ ہونے کے ... آگے سے اوکھا ہونے لگا .... اب سارا دِن اس عورت کے ساتھ کبھی اِدھر مٹک رہا ہے ... کبھی اُدھر جا رہا ہے .... کوئ حیاء نئیں ... کوئ خوفِ خدا نئیں ... یا تو آپ لوگ اس بندے کو سمجھاّؤ ... یا پِھر .... میں ہی پِنڈ چھوڑ کے چلا جاتا ہوں ... جب شرع کی کوئ عزّت ہی نئیں ... تو امامت کس کام کی ... بند کرو یہ مسیتیں ... تالے لگاؤ مدرسوں کو ... !!! "
نمبردار صاحب نے کہا:
" ایک منٹ مولی صاب ... کیوں بھئ صلّو .... کیا مسئلہ ہے ؟؟ یار اچھّے خاصے عزّت دار بندے ہو ... مسیت کے کوارٹر میں رہتے ہو ... اسلامی کیسٹیں ، قیدے سپارے بیچتے ہو ... اپڑاں نئیں تو ہماری ہی عزّت کا کچھ خیال کر لو ... ھم بیٹیوں والے لوگ ہیں یار ... !!! "
میں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ مولوی نزیر نے "تاریخِ فرشتہ" پڑھنی شروع کر دی :
" مسیت کے سامنے مسکواکیں بیچتا تھا یہ .... میں نے اسے اسلامی کیسٹ ہاؤس پہ بٹھایا .... یہ ووھٹی لے کے پِنڈ آیا ... سگے چاچے نے عاق کر دِیا ... سر چھپانے کی جاء نہ تھی .... مسیت کے کوارٹر میں تھاں دی اسے .... اور اب یہ فتوے دکھاتا ہے مُجھے ؟؟ .... وہ بھی مولی بشیر کے .... اب بتاؤ .... رہنڑاں حنفیوں کی مسیت میں ، فتوے سلفیوں کے دکھانڑاں ... ہے کوئ کَرن آلی گَل؟؟ "
میں نے کہا:
" سب سے پہلے میں آپ ہی کے پاس آیا تھا مولوی صاحب .... آپ نے کوئ رستہ دکھایا مُجھے ؟؟ "
وہ بولے:
" کون سا رستہ دکھاتا ؟؟ حلالہ کرواتا تیرا ؟؟ "
اس پر سرگانڑیں نے مفت مشورہ دیا:
" اپڑاں .... ارشاد شاہ صاحب حلالہ کردے نیں ... اِک چک والے ... !!! "
چوکیدار صاحب اور مہر خورشید نے "آہو آہو" کہ کر ان کی تصدیق کی مگر مولوی صاحب پھِر کوُد پڑے :
" لیکن شاہ صاحب ... ست روز دا وعدہ کر کے ... عورت نُوں سٹھ دِن گھر وِچ وی رکھدے نیں ... وہ طیفے سنیار کی بیوی تو اج تک واپس ای نئیں کی ... "
اس پر بالُو گُجّر نے دفاع کیا:
"جرنل ضیاء صاب 3 مہینے دا وعدہ کر کے گیارہ سال ٹپا سکدے نیں ... تے شاہ صاب نوُں کوئ حق نئیں ... !!! "
میں نے تڑپ کر کہا:
" نہیں کرانا مجھے حلالہ ولالہ ... میں عالیہ کا نام بھی کسی اور کے ساتھ نئیں سننا چاھتا .... اسی لئے اپنے مسلک کا پگڑ اتار کر مولبی بشیر کے پاس گیا ہوں .. گِدڑ پنڈی ..اس فتوے کو مان لینے میں آخر مسئلہ کیا ہے ؟؟ "
مولوی صاحب بولے:
" بہت وڈّا مسئلہ ہے ... صلاح الدین پُتّر .... مسلک لگام کی طرح ہوتا ہے ... لگام نکل جائے تو گھوڑا بھی اڑیل ہو جاتا ہے .... مالک کی پرواہ چھوڑ دیتا ہے .... گلے میں پٹّا نہ ہو تو کُتّے کو آوارہ سمجھ کر مار دیتے ہیں ... ہم تو پھر بھی انسان ہیں ... اشرف المخلوقات ہیں ... مسلمان ہیں ... اہلِ سُنّت ہیں ... حنفی ہیں ... ہمارا ایک مسلک ہے .... ایک امام ہے .... مولی بشیر کا کون امام ہے ؟؟ "
میں نے کہا:
" وہ خوُد امام ہے .... اک مینارہ مسجد میں .... عالم فاضل بندہ ہے .... !!! "
اس پر مولوی صاحب تڑپ اُٹھے:
" عالم فاضل ؟؟ ... پُتّر سَت مناظرے جِتّے میں نے مولی بشیر سے .... ہر واری کنڈ لائ اوس کھسّم دی ..... پر توُں ..... توُں میری کنڈ لوا دِتّی اوس گُستاخ اگّے ... !!! "
بالُو گُجر نے تیل چھڑکا:
" صرف تواڈی نئیں مولی صاب .... پوُرے پِنڈ دی کنڈ لوا دِتّی اس منحوس نے ... !!!"
میں نے کہا:
" یعنی آپ لوگ صرف اپنی کَنڈ بچانے کےلئے میرا گھر توڑنے چلے ہو ... ؟؟ کمال ہے ؟؟ سوچو .... میں تو مرد ہوں ... اوکھی سوکھی گزار لوں گا .... عالیہ کا کیا ہوگا ؟؟ ... غریب ماں باپ کی بیٹی ہے ... مر جائیں گے وہ لوگ ... اگر بوہت ہی وڈّا گُناہ ہو گیا ہے تو مجھے سنگسار کر دو .... 80 دُرّے لگا لو ... میں سی بھی نئیں کرونگا ... لیکن میرے گناہ کی سزا اُس غریب کو مت دو ... محض اپنے مسلک کی ناک اونچی رکھنے کےلئے .... مسلک کو کچھ دیر الماری میں رکھنے سے سِوّی نئیں لگ جائے گی .... ایک فتوی لے ہی آیا ہوں تو اسے مان لو !!! "
مولوی صاحب تاؤ کھا کر بولے:
"او پائ کیسے مان لیں .... جس کا کوئ امام ہی نئیں .... کوئ اگّا پِچھا نئیں ... ... اس کا فتوی مان لیں ؟؟ ... کمال ہے وئ !!!"
میں نے کہا:
" اگر اس کا کوئ امام نہیں تو آپ کا امام بھی صرف آپ کی ضِد ہے .... اور اس ضد میں پِس رہے ہیں ہم غریب عوام .... جائیں تو کہاں جائیں؟؟ ... ہر رستے پر ایک کھڈّا کھود رکھا ہے .... پھر جب کوئ غریب اس کھڈّے میں گرتا ہے ... تو اسے نکالنے کی بجائے ... اور مٹّی ڈالنے لگتے ہو آپ .... مانتا ہوں مجھ سے طلاق کا گناہ سرزد ہوا ... یہ بھی مانتا ہوں کہ میں نے بارڈر پار جا کر وہابیوں کا دروازہ کھٹکایا ... میرا خیال تھا کہ میرا گھر بس جائے گا .... اللہ کے دین میں توبہ کا کوئ دروازہ کھُل جائے گا ... مگر دروازہ کھُلا بھی تو سامنے آپ لوگ ہی کھڑے تھے ... ایک نیا کھڈّا کھود کر .... معاف کر دو بھائیو .... بخش دو مجھے .... تھک چُکا ہوں میں بھاگ بھاگ کر .... "
مہر خورشید نے کاروائ سمیٹے ہوئے ارشاد کیا:
" عالیہ کو اُس کے پِنڈ چھوڑ آؤ صلّو ... نہ خود گنہگار ہو .... نہ ھم سب کو گنہگار کرو ... یہی دین داری کا تقاضا ہے ... اگر دین دار لوگ ہی شرع کا خیال نئیں کریں گے تو باقی پِنڈ والے تو دھوتی موڈھے پہ رکھ لیں گے ... !!!"
مولوی صاحب بولے:
" اور جے ووھٹی نئیں چَھڈنی .... فیر مسلک بدل لے .... گِدڑ پنڈی جا کے غیر مُقلّد ہو جا ... فیر بھاویں دھوتی موڈھے تے دَھر ... یا شلوار پُٹھّی پاء لے .... اسی نئیں پُچھّاں گے تینوں .. !!! "
میں نے جیب سے چابیوں کا گُچھّا نکال کر پھینکتے ہوئے کہا:
" یہ رہی کوارٹر اور دوکان کی چابی .... مسلک کی اجلی چادر پر لگا یہ داغ کل سویرے مِٹ جائے گا .... چھوڑ آؤں گا اس کرماں سڑی کو اس کے پِنڈ میں ... اور واپس میں بھی نہیں آؤں گا ...
اللہ حافظ !!! "
اللہ حافظ !!! "


No comments:
Post a Comment