QISSA HATIM-TAI EP#30



قصّہ حاتم طائ --30 -- ظفرجی
حمام بارگرد  4

میں نے ہاتھ باندھ کر کہا:
"آقا .... جان بھی حاضر ہے !! حکم کیجئے !!!"
وہ بڑی ملائمت سے بولا:
" آپ بھلے آدمی معلوم ہوتے ہیں ... آپ سے کیا پردہ .... ساتھ والی بستی میں ایک شخص نے میرا کچھ زرِ نقد دبا رکھا ہے .... ڈیرے پر جاتا ہوں تو دور سے ہی کار دیکھ کر کماد میں چھُپ جاتا ہے ، ایک ترکیب ذھن میں آئ ہے ، کیوں نہ آپ کی سائیکل پر جاؤں اور اس عہدشکن کو بے خبری میں ہی گدی سے جا پکڑوں ... !!! "
میں نے عرض کی:
" ہرچند کہ سواری لائق مزاجِ شاہانہ کے نہیں ... مگر آپ کےلئے جان بھی حاضر ہے .... کہو تو میں بھی ساتھ چلوں ؟؟"
وہ بولا:
" اس میں گناہ کا اندیشہ ہے .... ایک تو اس بدبخت کا پردہ فاش ہو گا ، دوسرا آپ سے بلاوجہ خائف بھی ہو جائے گا ... میں بس گیا اور آیا ... !!!"
غرض کہ میں نے نئ نکور سائیکل جھاڑ پوُنچھ کر درست کی اور حوالے اس رئیس زادے کے کر دی-
صبح سے شام ہو گئ ، لیکن وہ سخی لوٹ کر نہ آیا- رات گئے جب فروش گاہ بند ہونے لگی تو سائیکل کا خیال ہوا- سوچا ابھی دو ماہ پہلے ہی قسطوں پر خرید کی تھی- پانچ ہزار زرِ نقد بقایا ہے- خُدا خیر ہی کرے-
شب گیارہ بجے تک وہ نہ لوٹا تو میں نے دکان بڑھائ اور پیدل ہی موُسی ورک روانہ ہو گیا- راستہ بھر خود کو دلاسہ دیتا رہا کہ بھلا آدمی تھا- نوسرباز تو کسی صورت دکھائ نہ پڑتا تھا- شاید صحبتِ یاراں میں مشغول ہو گیا ہو یا ارادہ شب بسری کا فرما لیا ہو-
اگلے روز میں سویر مونہہ اندھیر ہی دکان کی طرف روانہ ہوا- حمام کھولا مگر کام میں جی نہ لگ سکا- آہٹ بھی ہوتی تو دُکان کھول کر دیکھتا کہ شاید آ گیا ہو- مگر شام تک ایسا کوئ شعبدہ رونماء نہ ہو سکا !!!
رات گئے میں نے سراج بھائ کو ، جو کہ اسی فروش گاہ میں حمام کرتا تھا بپتا سنائ- وہ بولا بہتیرے نوسرباز پھرتے ہیں- دُکان پر بکرے کی سرّی رکھ کر کتے بیچ رہے ہیں- تو پھِر بھی خوش قسمت ہے کہ صرف کھوتا ہی کھایا ہے- اب صبر و شکر سے ہضم کر"
اس قصِّے کو ایک ماہ بِیت گیا- میں سمجھ گیا کہ وہ شخص کوئ ٹھگ بہروپیا تھا جو امیرانہ حلیے میں آیا اور میرے تلے سے گدی کھینچ کے ہوا ہو گیا- چنانچہ صبرو شکر سے سائیکل کی ماہانہ قسط ادا کرنے لگا کہ اس کے سوا چارہ بھی کیا تھا-
کوئ دو مہینے بعد ایک روز جب میں سویرے سویرے دکان پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی امیر زادہ میری دُکان کے سامنے کھڑا بے تابی سے میرا انتظار کر رہا ہے-
.  میں ششدر وہیں کا وہیں کھڑا رہ گیا-


STORY: Qissa Hatim Tai (Episode 30)
SUB STORY: Hammam Bargurd. 4
Theme: Deception & Fraud
 Based on a real stor

No comments:

Post a Comment