قصّہ حاتم طائ --31--ظفرجی
حمام بارگرد ---5
کچھ دیر تو یقین ہی نہ ہوا کہ یہ وہی روُسیاہ ہے جس کی وجہ سے شام پگاہ آبلہ پاء پھِرتا ہوں- بارے قریب ہوا اور دیدے پھاڑ پھاڑ کر زیارت اس نامسعود کی کرنے لگا-
وہ زاغ صِفت بازو کھولے آگے بڑھا اور بڑے چاؤ سے بولا:
" مجھے یقین ہے آپ بہت خفاء ہونگے ... جمع خاطر رکھیے ، آج میں آپ کی تمام رنجش دور کر دونگا"
میں نے کہا:
" رنجیدہ خاطر تو میں اپنے آپ سے ہُوں جس نے آپ پر بھروسہ کیا- اب کس نیّت سے تشریف لائے ہیں ....؟؟ "
وہ بولا:
"تم بھلے جو کہو- خُدا شاھد ہے میں کلاہ بردار نہیں- اپنی بیگناہی کا یقین نہ دلا سکا تو بھلے روُ سیاہ کر کے فروش گاہ میں پِھرانا- میں اُف تک نہ کہونگا"
پھر وہ میرا ہاتھ پکڑے حمام کے اندر چلا آیا اور مجھے بیٹھنے کو کہا- میں نے بے تابی سے پوُچھا :
"بس ایک بات کا تشفی بخش جواب دے دو .... سائیکل کہاں ہے ؟؟"
وہ کہنے لگا:
" دیکھو.... اُس روز میں تم سے سائیکل لے کر ایک قرضدار کی تلاش میں نکلا تھا- سائیں والے کھوُہ پر میں نے اسے جا لیا- اس نے میری خوب آؤ بھگت کی- سامانِ ضیافت تیّار کیا اور شب بسری پر اصرار کرنے لگا- میں نے سائیکل وہیں کھڑی کی اور اس کے ڈیرے پر چلا آیا- شب گئے خیال ہوا تو اسی وقت نوکر کو بھگایا- لیکن کوئ سارق اسے پہلے ہی اڑا چُکا تھا-
اگلے یوم اس قرضدار نے میری رقم لوٹا دی- لیکن درخواست گزار ہوا کہ میرے ساتھ میانچنوں کچہری چلو- زمین کا تنازعہ ہے- آپ کی رفاقت سے شاید کچھ صورت بہتری کی نکل آئے-
ھم کچہری پہنچے تو مخالف جماعت کے لوگ بھی آن موجود ہوئے- بدقسمتی سے دونوں جتھوں میں جھگڑا ہوگیا اور بات ہاتھا پائ تک جا پہنچی- اس بلوے میں جس کے ہاتھ جو آیا خصم کے سر مارا- قریب ہی کوتوالی تھی- کوتوال بھاگا چلا آیا اور سب کو بُز گاؤ کی طرح ہانکتا بخشی خانہ لے گیا-
تقریباً ایک ماہ تک بخشی خانے میں پڑا رہا ہوں- بمشکل زرِ ضمانت دے کر رہائ ہوئ ہے- سیدھا یہاں آ گیا ہوں- اگر میں دروغ گو یا کلاہ بردار ہوتا تو دوبارہ آپ کے روُبرو ہوتا ؟؟؟ "
میں نے کہا:
" ہرچند کہ معاملہ بعید از قیاس نہیں ، مگر وہ دوچرخہ میں نے قسطوں پر خرید کیا تھا ... تمہارا قرض تو چُکتا ہوا مگر اب میں قرضدار ہوا پھِرتا ہوں "
وہ بولا:
" جو کرب تم نے اٹھایا ہے مجھے اس کا احساس ہے- اسی کے مداوا کےلئے یہاں آیا ہوں- ابھی میرے ہمراہ میانچنّوں چلو- تمہیں من پسند سائیکل خرید کر دیتا ہوں- "
میرا دل اس کی طرف سے کچھ نرم ہوا- سوچا بے خبری میں بھلے مانس کو کوستا رہا ہوں- انسان بھی کتنا ناشکرا ہے ، خواہ مخواہ بدگمانی پال لیتا ہے-
غرض کہ اس نیک طینت نے سواری منگوائ- پھر مجھے ہمراہ کئے میاں چنّوں چلا آیا اور فروش گاہِ دوچرخہ کا رُخ کیا- وہاں پہنچ کر سائیکلوں کے انبار کی طرف اشارہ کر کے کہا:
" اپنی من پسند کا دوچرخہ اٹھا لو اور خبردار جو روپوں کا خیال بھی کیا"
میں نے خوب گھوم پھِر کر سیاہ رنگ کی ایک سھراب پسند کی- اس نے سائیکل نکلوائ اور دوزانو بیٹھ کر اس کا معائنہ کرنے لگا- پھر سائیکل فروش سے کہا کہ کاٹھی ذوقِ سلیم کے مطابق نہیں- وہ بیچارہ دوڑا دوڑا کسی دوسری دکان سے ولائتی کاٹھی پکڑ لایا- پھر دستہ پر لگانے کو نئے آئینے منگوائے- دونوں پہیوں کے بیچ رنگین پھولداریاں لگوائیں- پھر مجھ سے کہا کیوں نہ دستے پر ایک لالٹین برقی بھی نصب کروا دی جائے ، شب گردی میں سہولت ہو گی-
میں جو مارے التفات کے گڑا جا رہا تھا ، کیا کہ سکتا تھا بجز اس کے کہ آقا کیوں فضول خرچی کرتے ہیں آپ نے سائیکل بخش دی ، یہی غنیمت ہے!!"
وہ بولا:
" بدگمانی شیطان کا ہتھیار ہے- اس سے وہ بھائ کو بھائ سے جُدا کرتا ہے- تمہارا دِل جو مجھ سے مکدّر ہوا شاید اس لالٹین سے روشن ہو جائے "
اس کے بعد وہ دکاندار کو ہزار کا نوٹ تھما کر بولا:
" بازار سے ولائتی نسل کی برقی لالٹین منگوا دیجئے ... ڈیمنو سمیت !!!"
دکاندار پیسے پکڑے بازار کو دوڑا- وہ شخص سائیکل کے پاس بیٹھ کر رکابی گھمانے لگا- پھر قدرے تشویش سے بولا-
" لگتا ہے زنجیر میں کسی قدر اکڑاؤ ہے اور سگانِ دوچرخہ بھی آوارہ ہوئے پھرتے ہیں- ذرا چلاؤں تو اطمینان ہو "
میں نے کہا:
"آقا ضرور .... شوق سے سواری فرمائیے ... باعثِ تکریم و افتخار ہو گا "
غرض کہ وہ گدّی پر تشریف فرماء ہوا- پھِر کچھ دیر کو وہیں کھڑا گھنٹی بجاتا رہا- پھر پاؤں رکاب پر دھرا اور یوُں گیا ... یوُں گیا کہ آج تک لوٹ کر نہیں آیا-
STORY: Qissa Hatim Tai (Episode 31)
SUB STORY: Hammam Bargurd.5
Written By: Zafar Gee
Theme: Deception & Fraud
Based on real stories


No comments:
Post a Comment