DADH SADI KA QISSA Ep#16



  
  ڈیڑھ صدی کا قصہ....16....ظفرجی کے قلم سے                                         



10 اپریل 1869 کو ہم نے چھجو کی مدد سے سامان سفر پیک کرکے ایک بیل گاڑی پر لادا اور ایس ایس برودہ کے گودام تک پہنچادیا- کمپنی ایجنٹ نے سیّد صاحب کو سامان کی رسید بمعہ بوٹ کے ٹکٹ دیتے ہوئے تاکید کی کہ کل ٹھیک دوبجے میزگان پورٹ پر تشریف لے آئیے گا....تاکہ جہاز پر جانے والی بوٹ میں بروقت سوار ہو سکیں-
اس دن موسم قدرے بہتر تھا-
 سامان مال خانے پہنچا کر ہم دوبارہ بھنڈی بازار جا رہے تھے- ابھی نصف راستہ ہی طے کیا تھا کہ ایک سجی سجائ بگھی پاس سے گزری - بگھی کی فرنٹ سیٹ پر عربی عمامے میں ملبوس ایک پیرمرد تشریف فرما تھے- سرسیّد کافی دلچسپی سے انہیں مڑ مڑ کر دیکھتے رہے- میں نے پوچھا " حضرت یہ بزرگ کون ہیں ؟؟"
" حضرتِ میمن... رحمہ اللہ علیہ" سرسیّد نے جواب دیا-
" کس سلسلے کے بزرگ ہیں" میں نے تجسس سے پوچھا-
" سلسلہء شیخی خوریہ" سرسیّد نے برجستہ کہا اور میرے لیے ھنسی روکنا مشکل ہو گیا-
 "ارے بھائ.... بمبئ میں میمن اور پارسی دو ہی تو سلسلے ہیں...جن کی جیبیں بھری ہوئ ہیں...باقی تو سب خاک چھانٹ رہے ہیں...."
"یہ کرتے کیا ہیں " میں نے دریافت کیا-
 "پارسی تو پڑھے لکھے اور انگریزی کے ماہر ہیں سو اونچی اونچی پوسٹوں پر براجمان ہیں....ان کی لڑکیاں بھی فر فر انگریزی بولتی ہیں....اور میمن ...سوداگر ہیں...اور بلا کے شیخی خور....اچھی سے اچھی پوشاک پہنے گے ....سر پہ عربی عمامہ دھریں گے....نئ سے نئ بگھی پہ سوار ہو کر...ادھر اُدھر مٹکتے پھریں گے....اپنے نام اور شیخی کے پیچھے مرتے ہیں....اور قومی ترقی زیرو بٹا صفر !!!"
" اچھا.......وہ کس طرح سر ؟ " میں نے پوچھا-
 "دیکھیں ان لوگوں نے محض اپنے نام ونمود کےلیے چپے چپے پر ایک بڑھیا مسجد بنا رکھی ہے.....اور قدم قدم پر مدرسہ.....ہر مدرسے میں ایک استاد رکھا ہوا ہے اور کوئ ڈیڑھ دوسو نابالغ بچہ بٹھایا ہوا ہے - استاد صبح صبح دو لفظ پڑھا کے صدقہ خیرات مانگنے چلا جاتا ہے....اور بچے لنگر خانے سے سیر ہوکر گھر کی راہ لیتے ہیں...دو کٹ مّلا خوشامدیوں نے تعریف کردی کہ اجی آپ نے تو جنت میں موتی کا محل بنا لیا ہے................ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ....وہ لوگ چلے گئے جو موتی کا گھر بناتے تھے....ایسی باتوں سے تو پھوٹی کھپریل کا گھر نہیں بنتا بھائ...."
سرسیّد بہت پرجوش تھے- میں نے سوچا کہ آج اگر کوئ میمن ان کے ہاتھ لگ گیا تو اس کی خیر نہیں-
ہم باتیں کرتے کرتے بھنڈی بازار پہنچ گئے- بدقسمتی سے پہلی دکان ہی  رحمت اللہ سلیمان میمن سوداگر کی تھی- یہ ایک پھلوں کی دکان تھی جس پر بڑے بڑے تربوز لٹکے ہوئے تھے- سرسیّد تیر کی طرح دکان کی طرف بڑھے - میں نے سوچا اگر مباحثہ شروع ہو گیا تو ہم کبھی وقت پر میزگان پورٹ نہ پہنچ پائیں گے....
 رحمت اللہ میمن نے خوب آؤ بھگت کی اور صراحی لیمن جوس کی بھر کر لایا - ہم نے سیر ہوکر لیمن جوس پیا- سرسیّد نے حال احوال پوچھ کر گفتگو شروع کی-
"بھائ جو برا نہ مانو تو ایک بات کہوں "
"جی بابو.... اپن کائے کو برا مانیں گا؟ بولو بولو بروبر بولو " رحمت اللہ نے کہا-
بھائ یہ جو آپ میمن برادری نے چپے چپے پہ ایک مدرسہ کھول رکھا ہے...محض نام کمانے کےلیے.....اس کا کوئ فائدہ نہیں....یہاں سے جو بچے نکلتے ہیں وہ دو وقت کی روٹی کےلیے پھر ایک نئے مدرسے کا رخ کرتے ہیں....بھائ بخدا میں دین پڑھنے کا مخالف نہیں ہوں....لیکن باقی علوم بھی تو پڑھائیے جو کبھی مسلمان کی پہچان تھے...چلو سائنس حرام سہی ، انگریزی کفر سہی.....جغرافیہ تو پڑھائیے ،حساب...منطق..فلسفہ ، عربی دانی یہ علوم تو حرام نہیں....میں تو کہوں ان غیر ضروری مدارس کو موقوف کریں اور سب میمن مل کر ایک عمدہ عربی کالج بنائیں....جس میں مختلف درجات کے طلباء کو داخل کریں....اور مدرسہ کے قواعد وضوابط جاری کریں....جہاں سے پڑھے لکھوں کو سرکاری نوکری تو ملے...کوئ وکیل بنے....کوئ...ریڈر....کوئ کلرک.....یہ بوڑھے طوطے جن کا نام مدرس رکھا ہے ، کوئ بھیک مانگتا یے تو کوئ کسی کے گھر پڑھاتا ہے ، کیوں ثواب کے نام پر ان کو مفت کی روٹی کی لت لگاتے ہو....یہ روپے کا ضیاع ہے بھائ...اور علم کی بے قدری.... اس میں کچھ ثواب نہیں - یہ بچے قوم کا سرمایہ ہیں بھائ...اس سرمائے کو اپنی نمود ونمائش کی بھینٹ مت چڑھاؤ " سرسّید نے کہا-
 "تمری بات تو دل کو لاگے ہے بھائ....پر ایدر سب کے سب اپنی اپنی ڈفلی بجاوے ہے....اک دوجے کی پوچھل کِیچھ راہے سب کے سب...ثواب کا مقابلہ ہووے ہے میمڑوں کے بیچ میں....ہم کر بھی کیا سکیں ہیں بھائ " رحمت اللہ نے اپنا دکھڑا پیش کیا-
 " سچ کہتے ہو....خدا جب کسی قوم پر غضبناک ہوتا ہے تو اس کی ایسے ہی مت ماری جاتی ہے......پر تم پھر بھی میری بات کا چرچا ضرور کرنا بھائ...لوگوں کو بتانا کہ ایک آدمی الہ آباد سے آیا تھا...اور ایسی ایسی باتیں کرتا تھا " سرسیّد نے کہا اور اٹھ کھڑے ہوئے-
 رحمت اللہ سلیمان میمن نے ہمیں پرتپاک طریقے سے رخصت کیا- اور جب تک ہم اوجھل نہ ہو گئے کھڑا دیکھتا رہا......کسی پتھر کے مجسمے کی طرح....شاید یہ اس ٹیکے کا اثر تھا جو سرسیّد نے ابھی ابھی اسے لگایا تھا.....!!!
سرسیّد دل کی بھڑاس نکال کر شانت ہو چکے تھے- اس کے بعد انہوں نے میمنوں کا تذکرہ تک نہ کیا اور بھنڈی بازار سے جی بھر کر اشیائے مطلوبہ خریدیں - ڈیڑھ بجے تک ہم خریداری سے فارغ ہو گئے- ہم نے ایک پالکی کرایہ پر لی اور ٹھیک دو بجے میزگان پورٹ پر جا پہنچے- یہاں ایک چھوٹی اسٹیمر بوٹ موجود تھی- ہم سب اس میں بیٹھ گئے - ٹھیک تین بجے بوٹ چلی اور دس منٹ بعد ہم برودہ جہاز پر سوار ہو چکے تھے-

No comments:

Post a Comment