DADH SADI KA QISSA Ep#15



ڈیڑھ صدی کا قصہ....15....ظفرجی 

جہاز پر چڑھتے ہی طبیعت باغ باغ ہو گئ......
خوبصورت میز اور کرسیاں...بہترین نقش نگاری.... جگہ جگہ نصب شیشے کی خوبصورت لالٹینیں....ضروری سامان سے سجے آراستہ پیراستہ کمرے.....قد آدم آئینے....غرض کہ کسی شیش محل کا گمان ہوتا تھا-
 سرسیّد اس آرائش و کشاوت سے خوب لطف اندوز ہو رہے تھے- الہ آباد میں مٹی کا دیا جلا کر "اسباب بغاوت ھند " لکھنے والا مصنف لالٹین کو اسی اشتیاق سے دیکھ رہا تھا...جس وارفتگی سے ہم آئ فون 5 کو دیکھتے ہیں-
مجھے سامان آرائش سے زیادہ برودہ کے سٹریکچر سے  دلچسپی تھی - اس کے درودیوار مجھے جہازرانی کی پوری تاریخ سنا رہے تھے-
1874 ٹن وزنی ایس ایس برودہ ایک دخانی جہاز تھا- جو 1864ء میں تیار ہوا- یہ سٹیمر شپ برٹش انڈیا نیویگیشن کمپنی کی ملکیت تھا اور بمبئ سے مصر تک چلتاتھا- 1881 میں اسے ختم کیا گیا-
بھاپ سے چلنے والے بحری جہاز جنہیں دخانی جہاز یا اسٹیمر کہا جاتا ہے 18000ء کے اوائل میں پہلی بار منظر عام پر آئے- اس سے پہلے سطح سمندر پر بادبانوں کا راج تھا- ابتدا میں بھاپ سے چلنے والی پیڈلربوٹس بنائ گئیں جن میں دوطرفہ پیڈل لگے ہوتے تھے- بعد میں بڑے جہازوں کو بھی پیڈلر کیا گیا، لیکن کھلے سمندر میں پیڈلر شپس کی کارکردگی ناقص تھی- کثیرالوزن ہونےکی وجہ سے جہاز کے دونوں پیڈلز ڈوب جاتے ....اور رفتار سست ہو جاتی-
 اس مسئلے کو اہل یورپ نے "پنکھے " یعنی پروپلر کی ایجاد سے حل کیا- برطانیہ کا ایس ایس ارشمیدس پروپلر سے چلنے والا پہلا جہاز تھا- اسے 1835ء میں سمندر میں اتارا گیا- پروپلر ، جہاز کے عقب میں نصب ایک چار پروں والا بھاری پنکھا ہوتا ہے جو بزریعہ شافٹ جہاز کے گئیر باکس سے متصل ہوتا ہے- پروپلر شپس ، شعبہء جہازرانی میں انقلاب لے آئے البتہ ثانوی محرک کے طور پر بادبان بھی برقرار رکھے گئے- گہرے سمندر میں انجن بند کرکے بادبان کھول دیے جاتے - ہوا ناموافق ہوتی تو بادبان سمیٹ کر دوبارہ انجن چلا لیا جاتا-
18400ء میں مختلف جہازران کمپنیاں میدان میں اتریں اور دھڑا دھڑ سٹیم پروپلڈ جہاز بنائے جانے لگے- وقت کے ساتھ ساتھ اسٹیمرز بین البراعظمی معاشیات اور سفر کا بہترین ذریعہ بنتے چلے گئے-
شام گہری ہو چلی تھی اور دھندلکا پھیل رہا تھا-  ایس ایس برودہ کی لالٹینیں جلا دی گئیں- ہم سب اس نظارے میں اس قدرمحو تھے کہ وقت کا احساس تک نہ رہا- معاً مرزا صاحب نے یاد دہانی کرائ کہ تعارفی پروگرام ختم کریں....نیچے بوٹ والا آوازیں دے رہا ہے-
 روانگی دودن بعد تھی- ہم سب سیڑھیوں سے نیچے اترے تو راجیش ملاح کو اسی کشتی میں اپنا منتظر پایا جسے سرسیّد بادام کا چھلکا کہتے تھے-
 واپسی پر ہواخاصی تیز اور بر مخالف ہوگئ- ہم نے راجیش کو بادبان کی بجائے چپو چلانے کا مشورہ دیا- اس ظالم نے یہ کہ کر بادبان کھول دیے کہ چپو چلائے تو دیر ہو جائے گی ، ابھی ایک چھوٹا سا چکر کاٹ کر پہنچا دیتا ہوں-
 بادبان کھلنے کی دیر تھی کہ کشتی نے شدید ہچکولے کھانے شروع کر دیے- راجیش بادبان کے ساتھ گتھم گتھا ہو گیا اور ہم دائیں بائیں لڑھکنے لگے- یوں لگتا تھا کہ اب ڈوبے کہ تب ڈوبے-
 اس اتھل پتھل کے باوجود ہم میں سے کوئ بھی خوف زدہ نہ تھا-اور ھنسی مذاق عروج پہ تھا - جب کشتی ٹیڑھی ہوتی تو ھنس کر کوئ "اوووو" کہتا کوئ بسم اللہ تو کوئ اللہ اکبر !!!
"سر آپ ڈوب گئے تو ھندوستان کے مولوی کل مٹھائیاں بانٹیں گے" میں نے سرسیّد کو چھیڑا -
"ہم تو کب کے تاریخ کے سمندر میں ڈوب چکے بھائ ....مسئلہ تو آپ کا ہے ....جو نہ  ڈوبتے ہو نہ تیرتے ہو.... بادام کے چھلکے کی طرح ھچکولے کھاتے پھرتے ہو" سرسیّد نے ہنستے ہوے کہا-
" بے فکر رہیں..." راجیش ملاح کی آواز آئ " کشتی الٹ بھی گئ...تو ڈوبنے والی نہیں..."
" سر میری طرف سے راجیش نے جواب دے دیا " میں نے ہنس کر کہا-
 غرض کہ چھ سات میل کا ایک طویل چکرکاٹ کر ملاح نے کمال ھوشیاری سے کشتی کو گھاٹ کی طرف سیدھا کیا اور بالاخر باحفاظت کنارے پر لے آیا-
مرزا صاحب نے اترتے ہی اسداللہ غالب کی نذر اتاری-
" سفینہ جب کنارے پہ آ لگا غالب
خدا سے جورو ستم کیا اے ناخدا کہیے"
 میں نے پوچھا " مرزا صاحب....لندن سے واپسی پر مرزا غالب صاحب سے تو ملوائیے گا....بہت اشتیاق ہے ملاقات کا"
" دیر سے یاد کرایا بھائ....دوماہ پہلے ہی انتقال ہوا ہے....15 فروری 18699" مرزا صاحب نے جواب دیا-
10 اپریل 18699 کو ہم نے چھجو کی مدد سے سامان سفر پیک کرکے ایک بیل گاڑی پر لادا اور ایس ایس برودہ کے گودام تک پہنچادیا- کمپنی ایجنٹ نے سیّد صاحب کو سامان کی رسید بمعہ بوٹ کے ٹکٹ دیتے ہوئے تاکید کی کہ کل ٹھیک دوبجے میزگان پورٹ پر تشریف لے آئیے گا....تاکہ جہاز پر جانے والی بوٹ میں بروقت سوار ہو سکیں-
Dedh Saddi Ka Qissa....15
By: Zafar Gee
Based on Hayat e Javed by A. H. Haali
Musafir in London by Sir Sayyed
Hayat e Sir Sayyed by Zia ud Din Lahori
Wikipedia free Incyclopedia
Some characters and events are fictitiouss.

No comments:

Post a Comment