عشق_کے_قیدی --10--- ظفرجی
22 جنوری .... 1953ء .... کراچی
آج پھر گورنمنٹ ہاؤس کے سامنے رونق تھی-
مختلف اخباری نمائیندے ادھر ادھر سرگوشیاں کرتے پھرتے تھے-
بہت سی افواہیں گردش کر رہی تھیں-
ہم وزیرِ اعظم ہاؤس کے باہر کھڑے تھے-
" سنا ہے کہ مجلس عمل آج کوئ الٹی میٹم دینے والی ہے" ایک دبلے پتلے صحافی نے مجھ سے سرگوشی کی-
" دیکھئے 1952ء گزر چکا ..... ایک سال سے تحریک چل رہی ہے ..... ظاہر ہے مجلس عمل وزیراعظم صاحب کو پھولوں کا ٹوکرا دینے سے تو رہی .... الٹی میٹم ہی دے سکتی ہے !!!! "
" ویسے ایک بات تو ماننی ہی پڑے گی ...." وہ چشمہ درست کرتے ہوئے بولا- " مجلس کی تشکیل کے بعد خلیفہ نے پاکستان میں مرزائیت کا جھنڈا گاڑنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیا ہے "
" ظاہر ہے ... جب خلیفہ سوئے گا نہیں .... تو خواب کیسے دیکھے گا " میں نے جواب دیا-
"سنا ہے آج ایک بہت بڑی شخصیّت وزیرِ اعظم سے ملنے آ رہی ہے ؟ کون ہو سکتا ہے ؟ " وہ کچھ اور قریب ہو کر بولا-
" چاند پوری ...." میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا-
"کون چاند پوری ؟ " وہ مجھے حیرت سے دیکھنے لگا-
" میرا مطلب ہے چاند پوری ہی اس سوال کا بہتر جواب دے سکتے ہیں ... وہ لکّی اسٹار تک گئے ہیں سموسے لینے"
"یہ دیکھئے ... الفضل میں اشتہار چھپا ہے .... خونی مُلاّ کے آخری دن " اس نے جیب سے ایک پرچہ نکال کر دکھایا-
" یہ کہاں سے ملا تمہیں ؟ "
" ایک مرزائ سے منگوایا ہے"
" مجھے دے دو .... اس میں سموسے ڈال کر کھائیں گے-
اتنے میں چاند پوری آ گئے-
" آج پیر صاحب آف سرسینہ شریف تشریف لا رہے ہیں .... " انہوں نے دور سے اعلان کیا- " بنگال کی ایک مقتدر مذھبی شخصیّت .... خواجہ ناظم الدین بھی بنگالی ہیں .... سو لوہے کو لوہا کاٹنے آ رہا ہے بھائ .... سموسہ لیجئے"
کچھ ہی دیر بعد علماء کا وفد بھی پہنچ گیا-
وفد اندر گیا تو اخباری نمائندگان بھی پیچھے پیچھے ہولئے-
وزیرِ اعظم وفد کے ہمراہ پیر صاحب کو دیکھ کر پریشان ہو گئے اور کہا:
" پیر ساب ؟؟ کیا بنگال تک مرزوئیت پونس گیا ؟؟"
" اگر آپ کی شفقت رہی تو مرزائیت کاشغر تک بھی پہنچے گی" پیر صاحب نے وزیرِ اعظم سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا-
" اللہ نہ کرے .... حکومت مجلس عمل کے مطالبات کی روسنی میں اہم اقدامات اٹھانے پر گور کر رہی اے"
" کون سے اقدامات وزیراعظم صاحب ...." ابوالحسنات بول پڑے- "ہم کئ بار آپ کے پاس آ چکے ہیں ... آپ کو بتا چکے ہیں کہ خدارا آفس سے نکل کر باہر دیکھئے .... ملک میں کیا ہو رہا ہے .... مرزائیت ملک کی رگ رگ میں بیٹھ چکی ہے .... سرظفراللہ کلیدی آسامیاں ریوڑیوں کی طرح قادیانیوں میں بانٹ رہے ہیں .... ہم آپ کے سامنے کئ بار احتجاج کر چکے .... فریاد کر چکے .... مگر آپ کہ جیسے سنتے ہی نہیں .... "
" دیکھئے .... ہم آپ کو بار بار بتا سُکا ہے کہ جفراللہ کو فی الفور ہٹانا ملکی مفاد میں نئیں ہے .... کیا بولے گا ؟ امریکہ سے گندم کا بات سَل ریا ہے .... مؤسئلہ کسمیر پر سلیوسن آنے والا ہے .... جفراللہ کو ہٹایا گیا تو پاکستان کو نقصان ہوئے گا ... کیا بولے گا ؟" وزیرِ اعظم نے کہا-
"لیکن اگر آپ نے سرظفراللہ کو برخواست نہ کیا توملک پر اس سے بھی بڑی آفت آئے گی" وفد نے کہا-
" وہ کائیسے ؟؟ "
" حُضور امتِ مرزائیہ کی تار ربوے سے ہلائ جاتی ہے .... کل کلاں ملک پر کوئ کڑا وقت آگیا تو بطور وزیرِ اعظم آپ کی کوئ نہیں سُنے گا .... سب ربوہ کے خلیفہ کی طرف دیکھیں گے "
" دیکھو .... یہ ایک دم فجول بات ہے .... مجوسی مت پھیلائیے" وزیرِ اعظم نے کہا-
" حُضور ہم کاہے کو مایوسی پھیلائیں گے ... ابھی کل ہی کا واقعہ ہے .... آپ کی راجدھانی میں مرزائیوں کا جلسہ ہوا ... آپ کا حکم تھا ظفراللہ خان کراچی نہ آئیں .... آپ کے احکامات ہوا میں اُڑا دیے گئے .... خلیفہ کی مان لی گئ .... اب آپ ہی بتائیے .... اس ملک کا اصل حاکم کون ہوا؟ آپ یا خلیفہ ؟" علماء نے سوال کیا-
" دیکھئے .... پالیٹیکس میں اونچ نیچ سب سَلتا ہے .... جیادہ ٹینسن لینے کا نئیں ہے !!! "
" کیوں نہ لیں ٹینشن ؟؟ .... ایک آزاد اسلامی مملکت میں وزارتِ خارجہ کا قلمدان مرزائیت کی نشرو اشاعت کےلئے وقف ہے اور ہم ٹینشن نہ لیں ؟؟ گریڈ سترہ سے بائیس تک کی ہر آسامی پر ایک قادیانی بیٹھا ہے ، ہم ٹینشن نہ لیں ؟؟ بیوروکریسی ، مقنّنہ ، عدلیہ ، انتظامیہ کے ہر تبادلے پر ظفراللہ خان کی مہر لگتی ہے ، ہم ٹینشن نہ لیں ؟؟ .... بلدیہ سے لیکر ریلوے تک کا ہر ملازم چھوٹے چھوٹے مفاد کےلئے مرزائ افسروں کے سامنے ایمان گروی رکھے بیٹھا ہے .... اور ہم ٹینشن نہ لیں !!!"
وزیرِ اعظم کچھ دیر سوچتے رہے ، پھر بولے:
" دیکھو .... جب تک اس کرسی پر ایک پنجابی وجیرِ اعجم بیٹھا تھا .... سب ایک دم بڑھیا تھا .... مولوی بھی خُس تھا .... اور مرزؤئ بھی خاموس .... ایک بنگاؤلی وجیرِ اعجم کیا بنا ... سب اُٹھ کھڑے ہوئے "
" کیا مطلب ؟؟ .... ہم کچھ سمجھے نہیں ؟؟ " پیر صاحب سرسینہ شریف نے پُوچھا-
" پیر صاحب !!! یہ سازس ہے .... ہم بتاتا ہے .... میرا کھلاف سازس سُروع ہو گیا ہے .... اور اس سازس کے پیچھے پنجاب کا وجیرِ اعلی ہے .... ممتاج دولتانہ .... اب مولبی لوگ کو یہ بات سمجھ نئیں آتا "
"آخر کیوں ؟؟ دولتانہ آپ کے خلاف کیو ں سازش کرنے لگے ؟؟ "
" وہ کیا ہے کہ ہم بنگاؤلی ہے .... اور بنگال کے مساوی حقوق کا بات کرتا ہے .... دولتانہ مولبی کو استعمال کر ریا ہے ... تا کہ میرے پہ دباؤ ڈال کے اپنا کرسی مجبوط کرے .... کیا بولے گا ؟؟ "
پیر صاحب سرسینہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہا " خواجہ صاحب !!!! خُدا کےلئے .... سازش کوئ اور کر رہا ہے .... اور آپ کی نظریں کہیں اور ہیں .... ہم فی الحال آپ کو صرف تیس دن کا الٹی میٹم ہی دے سکتے ہیں"
وزیر اعظم نے پریشان ہوکر کہا " الٹی میٹم .... کائیسا الٹی میٹم ....؟؟"
" یہ میرا نہیں آل مسلم کنوینشن کا فیصلہ ہے .... 22 فروری تک اگر مجلس کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو ڈائریکٹ ایکشن ہو گا .... بہتر ہے مان لیجئے .... ورنہ دنیا و آخرت دونوں میں خسارا ہی خسارا ہے"
وزیرِ اعظم میز کے پیچھے سے چل کر پیر صاحب کے سامنے آ گئے اور کہا :
" میرے ساتھ تسریف لائیے .... ہم آپ کو اندر کا بات بتاتا ہے "
اس کے بعد وہ پیر صاحب کا ہاتھ پکڑ کے ایک کونے میں لے گئے اور بنگالی زبان میں کچھ سمجھانے کی کوشش کرنے لگے لیکن پیر صاحب مسلسل انکار میں سر ہلاتے رہے-
وزیرِ اعظم واپس آئے تو کافی مایوس تھے-
انہوں نے کرسی پر بیٹھتے ہی کہا :
" مُسکل تو یہ ہے کہ کوئ ہمارا بات سمجھنے کو تیّار نہیں ..... نہ تو مولوی ساب .... نہ دولتانہ ..... ٹھیک ہے .... کوئ بات نہیں ...... ہم بھی دولتانہ کو ٹینسن دے گا ..... ہم سرگودھا جائے گا .... اور دولتانہ کے سیاسی حریف خضرحیات خان کے ساتھ تیتر کا سکار کھیلے گا .... سکار کا فوٹو اخبار میں لگے گا تو دولتانہ کو بھی تھوڑا ٹینسن ہو گا .... اگر وہ مولویوں کے ذریعے ہمیں ٹینسن دے سکتا ہے .... تو ہم بھی اس کو بروبر ٹینسن دے گا "
آج پھر گورنمنٹ ہاؤس کے سامنے رونق تھی-
مختلف اخباری نمائیندے ادھر ادھر سرگوشیاں کرتے پھرتے تھے-
بہت سی افواہیں گردش کر رہی تھیں-
ہم وزیرِ اعظم ہاؤس کے باہر کھڑے تھے-
" سنا ہے کہ مجلس عمل آج کوئ الٹی میٹم دینے والی ہے" ایک دبلے پتلے صحافی نے مجھ سے سرگوشی کی-
" دیکھئے 1952ء گزر چکا ..... ایک سال سے تحریک چل رہی ہے ..... ظاہر ہے مجلس عمل وزیراعظم صاحب کو پھولوں کا ٹوکرا دینے سے تو رہی .... الٹی میٹم ہی دے سکتی ہے !!!! "
" ویسے ایک بات تو ماننی ہی پڑے گی ...." وہ چشمہ درست کرتے ہوئے بولا- " مجلس کی تشکیل کے بعد خلیفہ نے پاکستان میں مرزائیت کا جھنڈا گاڑنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیا ہے "
" ظاہر ہے ... جب خلیفہ سوئے گا نہیں .... تو خواب کیسے دیکھے گا " میں نے جواب دیا-
"سنا ہے آج ایک بہت بڑی شخصیّت وزیرِ اعظم سے ملنے آ رہی ہے ؟ کون ہو سکتا ہے ؟ " وہ کچھ اور قریب ہو کر بولا-
" چاند پوری ...." میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا-
"کون چاند پوری ؟ " وہ مجھے حیرت سے دیکھنے لگا-
" میرا مطلب ہے چاند پوری ہی اس سوال کا بہتر جواب دے سکتے ہیں ... وہ لکّی اسٹار تک گئے ہیں سموسے لینے"
"یہ دیکھئے ... الفضل میں اشتہار چھپا ہے .... خونی مُلاّ کے آخری دن " اس نے جیب سے ایک پرچہ نکال کر دکھایا-
" یہ کہاں سے ملا تمہیں ؟ "
" ایک مرزائ سے منگوایا ہے"
" مجھے دے دو .... اس میں سموسے ڈال کر کھائیں گے-
اتنے میں چاند پوری آ گئے-
" آج پیر صاحب آف سرسینہ شریف تشریف لا رہے ہیں .... " انہوں نے دور سے اعلان کیا- " بنگال کی ایک مقتدر مذھبی شخصیّت .... خواجہ ناظم الدین بھی بنگالی ہیں .... سو لوہے کو لوہا کاٹنے آ رہا ہے بھائ .... سموسہ لیجئے"
کچھ ہی دیر بعد علماء کا وفد بھی پہنچ گیا-
وفد اندر گیا تو اخباری نمائندگان بھی پیچھے پیچھے ہولئے-
وزیرِ اعظم وفد کے ہمراہ پیر صاحب کو دیکھ کر پریشان ہو گئے اور کہا:
" پیر ساب ؟؟ کیا بنگال تک مرزوئیت پونس گیا ؟؟"
" اگر آپ کی شفقت رہی تو مرزائیت کاشغر تک بھی پہنچے گی" پیر صاحب نے وزیرِ اعظم سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا-
" اللہ نہ کرے .... حکومت مجلس عمل کے مطالبات کی روسنی میں اہم اقدامات اٹھانے پر گور کر رہی اے"
" کون سے اقدامات وزیراعظم صاحب ...." ابوالحسنات بول پڑے- "ہم کئ بار آپ کے پاس آ چکے ہیں ... آپ کو بتا چکے ہیں کہ خدارا آفس سے نکل کر باہر دیکھئے .... ملک میں کیا ہو رہا ہے .... مرزائیت ملک کی رگ رگ میں بیٹھ چکی ہے .... سرظفراللہ کلیدی آسامیاں ریوڑیوں کی طرح قادیانیوں میں بانٹ رہے ہیں .... ہم آپ کے سامنے کئ بار احتجاج کر چکے .... فریاد کر چکے .... مگر آپ کہ جیسے سنتے ہی نہیں .... "
" دیکھئے .... ہم آپ کو بار بار بتا سُکا ہے کہ جفراللہ کو فی الفور ہٹانا ملکی مفاد میں نئیں ہے .... کیا بولے گا ؟ امریکہ سے گندم کا بات سَل ریا ہے .... مؤسئلہ کسمیر پر سلیوسن آنے والا ہے .... جفراللہ کو ہٹایا گیا تو پاکستان کو نقصان ہوئے گا ... کیا بولے گا ؟" وزیرِ اعظم نے کہا-
"لیکن اگر آپ نے سرظفراللہ کو برخواست نہ کیا توملک پر اس سے بھی بڑی آفت آئے گی" وفد نے کہا-
" وہ کائیسے ؟؟ "
" حُضور امتِ مرزائیہ کی تار ربوے سے ہلائ جاتی ہے .... کل کلاں ملک پر کوئ کڑا وقت آگیا تو بطور وزیرِ اعظم آپ کی کوئ نہیں سُنے گا .... سب ربوہ کے خلیفہ کی طرف دیکھیں گے "
" دیکھو .... یہ ایک دم فجول بات ہے .... مجوسی مت پھیلائیے" وزیرِ اعظم نے کہا-
" حُضور ہم کاہے کو مایوسی پھیلائیں گے ... ابھی کل ہی کا واقعہ ہے .... آپ کی راجدھانی میں مرزائیوں کا جلسہ ہوا ... آپ کا حکم تھا ظفراللہ خان کراچی نہ آئیں .... آپ کے احکامات ہوا میں اُڑا دیے گئے .... خلیفہ کی مان لی گئ .... اب آپ ہی بتائیے .... اس ملک کا اصل حاکم کون ہوا؟ آپ یا خلیفہ ؟" علماء نے سوال کیا-
" دیکھئے .... پالیٹیکس میں اونچ نیچ سب سَلتا ہے .... جیادہ ٹینسن لینے کا نئیں ہے !!! "
" کیوں نہ لیں ٹینشن ؟؟ .... ایک آزاد اسلامی مملکت میں وزارتِ خارجہ کا قلمدان مرزائیت کی نشرو اشاعت کےلئے وقف ہے اور ہم ٹینشن نہ لیں ؟؟ گریڈ سترہ سے بائیس تک کی ہر آسامی پر ایک قادیانی بیٹھا ہے ، ہم ٹینشن نہ لیں ؟؟ بیوروکریسی ، مقنّنہ ، عدلیہ ، انتظامیہ کے ہر تبادلے پر ظفراللہ خان کی مہر لگتی ہے ، ہم ٹینشن نہ لیں ؟؟ .... بلدیہ سے لیکر ریلوے تک کا ہر ملازم چھوٹے چھوٹے مفاد کےلئے مرزائ افسروں کے سامنے ایمان گروی رکھے بیٹھا ہے .... اور ہم ٹینشن نہ لیں !!!"
وزیرِ اعظم کچھ دیر سوچتے رہے ، پھر بولے:
" دیکھو .... جب تک اس کرسی پر ایک پنجابی وجیرِ اعجم بیٹھا تھا .... سب ایک دم بڑھیا تھا .... مولوی بھی خُس تھا .... اور مرزؤئ بھی خاموس .... ایک بنگاؤلی وجیرِ اعجم کیا بنا ... سب اُٹھ کھڑے ہوئے "
" کیا مطلب ؟؟ .... ہم کچھ سمجھے نہیں ؟؟ " پیر صاحب سرسینہ شریف نے پُوچھا-
" پیر صاحب !!! یہ سازس ہے .... ہم بتاتا ہے .... میرا کھلاف سازس سُروع ہو گیا ہے .... اور اس سازس کے پیچھے پنجاب کا وجیرِ اعلی ہے .... ممتاج دولتانہ .... اب مولبی لوگ کو یہ بات سمجھ نئیں آتا "
"آخر کیوں ؟؟ دولتانہ آپ کے خلاف کیو ں سازش کرنے لگے ؟؟ "
" وہ کیا ہے کہ ہم بنگاؤلی ہے .... اور بنگال کے مساوی حقوق کا بات کرتا ہے .... دولتانہ مولبی کو استعمال کر ریا ہے ... تا کہ میرے پہ دباؤ ڈال کے اپنا کرسی مجبوط کرے .... کیا بولے گا ؟؟ "
پیر صاحب سرسینہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہا " خواجہ صاحب !!!! خُدا کےلئے .... سازش کوئ اور کر رہا ہے .... اور آپ کی نظریں کہیں اور ہیں .... ہم فی الحال آپ کو صرف تیس دن کا الٹی میٹم ہی دے سکتے ہیں"
وزیر اعظم نے پریشان ہوکر کہا " الٹی میٹم .... کائیسا الٹی میٹم ....؟؟"
" یہ میرا نہیں آل مسلم کنوینشن کا فیصلہ ہے .... 22 فروری تک اگر مجلس کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو ڈائریکٹ ایکشن ہو گا .... بہتر ہے مان لیجئے .... ورنہ دنیا و آخرت دونوں میں خسارا ہی خسارا ہے"
وزیرِ اعظم میز کے پیچھے سے چل کر پیر صاحب کے سامنے آ گئے اور کہا :
" میرے ساتھ تسریف لائیے .... ہم آپ کو اندر کا بات بتاتا ہے "
اس کے بعد وہ پیر صاحب کا ہاتھ پکڑ کے ایک کونے میں لے گئے اور بنگالی زبان میں کچھ سمجھانے کی کوشش کرنے لگے لیکن پیر صاحب مسلسل انکار میں سر ہلاتے رہے-
وزیرِ اعظم واپس آئے تو کافی مایوس تھے-
انہوں نے کرسی پر بیٹھتے ہی کہا :
" مُسکل تو یہ ہے کہ کوئ ہمارا بات سمجھنے کو تیّار نہیں ..... نہ تو مولوی ساب .... نہ دولتانہ ..... ٹھیک ہے .... کوئ بات نہیں ...... ہم بھی دولتانہ کو ٹینسن دے گا ..... ہم سرگودھا جائے گا .... اور دولتانہ کے سیاسی حریف خضرحیات خان کے ساتھ تیتر کا سکار کھیلے گا .... سکار کا فوٹو اخبار میں لگے گا تو دولتانہ کو بھی تھوڑا ٹینسن ہو گا .... اگر وہ مولویوں کے ذریعے ہمیں ٹینسن دے سکتا ہے .... تو ہم بھی اس کو بروبر ٹینسن دے گا "


No comments:
Post a Comment