ISHQ KY QAIDI EP#9


عشق_کے_قیدی --9--- ظفرجی

16 جنوری .... 1953 .... نسبت روڈ لاہور
تاحدِ نظر انسانوں کا سمندر تھا-
 ہر طرف سر ہی سر نظر آ رہے تھے- علماء کرام کے خطاب کے لئے ایک اونچا پلیٹ فارم بنایا گیا تھا- اسٹیج کی داہنی جانب کچھ آبادی تھی- ہم جلسہ گاہ پہنچے تو لوگ جلسہ چھوڑ کر گیس بتیاں اٹھائے آبادی کی طرف دوڑتے دکھائ دیے- کچھ دور ایک مکان کے قریب بتیاں ہی بتیاں نظر آئیں- لوگ ادھر ہی جمع ہو رہے تھے -
" اُدھر کیا ہوا ہے بھائ ؟ " چاند پوری نے ایک لڑکے سے پوچھا
 "پھڈّا ہو گیا اے.... پھڈّا " یہ کہتے ہوئے اس لڑکے نے بھی آبادی کی طرف دوڑ لگا دی-
"یا الہی خیر" میرے مونہہ سے نکلا-
اس طرف واقعی کچھ گڑبڑ تھی- ہم بھی ادھر لپکے ، تاکہ بلوے کی وجہ معلوم کر سکیں-
" بابا جی کیا ہوا ہے ادھر ؟؟  رش کیوں ہے ؟؟" میں نے ایک بزرگ کو متوجّہ کیا-
 " پُت .... کُاکی دا سر پھوڑ دِتّا کسے نے .." بابا نے مُختصرا جواب دیا-
" سر پھوڑ دِتّا ؟؟ کِس نے ؟؟"
"کسّے مرجئ ملُون نے وٹّا ماریا ..... "
 ہم مجمع سے ٹکراتے ، دھکّے کھاتے آخر میں جائے وقوعہ تک پہنچ ہی گئے-
یہاں ایک بزرگ پھول سی بچّی اٹھائے کھڑے تھے جس کے سر سے مُسلسل خُون بہہ رہا تھا- بچّی کی دلدوز چیخیں لرزا دینے والی تھیں-
" استغفراللہِ العظیم .... توبہ توبہ !!!" میں زیرِ لب بڑبڑایا-
 "بھائ صاحب ... کیا ہوا بچّی کو ؟؟" چاند پوری ایک شخص نے صورتِ حال جاننا چاہی-
 " سامنے مرزائیوں کا گھر ہے .... وہاں سے جلسے پر پتھراؤ ہوا ہے .... ایک پتّھر بچّی کو لگ گیا ہے" آدمی نے مختصر روئیداد سنائ-
تحریکِ ختمِ نبوّت 1953ء میں بہنے والا یہ پہلا خون تھا-
میں حیران تھا کہ اتنا بڑا مجمع ابھی تک شانت کیوں کھڑا ہے ؟  صبح سے شام تک تحریک کے فلک شگاف نعرے لگانے والے کارکن اس بربریّت پر خاموش کیوں ہیں ؟ مرزائیت کے خلاف لاکھوں کا جلسہ ہو ، جلسہ گاہ کے قریب ایک مرزائ کا مکان ہو ، اس مکان سے شرکائے جلسہ پر پتھراؤ کیا جائے اور مسلمان مونہہ میں گُھگھنیاں ڈالے خاموش کھڑے رہیں ؟؟؟
 صرف پانچ منٹ میں اس مکان کو مکینوں سمیت ملیا میٹ کیا جا سکتا تھا- میں حیرت سے سوچنے لگا کہ ان لوگوں کا اسلام کتنا "کمزور" ہے اور ہمارا کتنا طاقتور !!!!
 جن کے سروں پر عطاء اللہ شاہ بخاری رح جیسا شعلہ بیاں مقّرر کالے بادل کی طرح گرجتا ہو ، ، ابوالحسنات رح جیسا ولی جنہیں نمازِ عشق پڑھاتا ہو ، عبدالستار نیازی جیسا مجاھدِ ملّت " غلامئ رسول (ص) کا درس دیتا ہو ، احمد علی لاہوری رح جیسا سالار جن کے شانے تھپتھپاتا ہو ، مظفّر علی شمسی رح ، محمد علی جالندھری رح ، مولانا ترنّم اور تاج الدین انصاری جیسے خطیب جن کا لہو گرماتے ہوں ، مودودی رح جیسا صاحبِ قلم جن کےلئے الفاظ تراشتا ہو ، اختر علی خان جیسا صحافی جن کی روئداد چھاپتا ہو ، وہ ہماری طرح کے سرپھرے مسلمان کیوں نہ بن سکے ؟؟؟
 زخمی ہونے والی بچّی اپنے بوڑھے باپ کے کندھے پر سر دھرے خاموش ہو چُکی تھی- شاید بے ہوش تھی یا شہادت کا جام پی چُکی تھی- اس کے سر سے بہتا ہوا خون باپ کی سفید قمیض کو رنگین کر چُکا تھا- اور وہ بزرگ راہ عشق میں اپنی کل متاع لُٹا کر بڑے اطمینان سے مجمع سے باہر جا رہا تھا-
 اتنے میں ابوالحسنات رح اور علامہ حافظ کفایت حسین صاحب بھیڑ کو چیرتے ہوئے پلیٹ فارم تک آن پہنچے- مجھے خیال ہوا کہ مجمع شاید قائدین کا ہی انتظار کر رہا تھا- مجھے قوّی امید تھی کہ سالارانِ ختمِ نبوّت آج اپنی تقریر میں اس خون ناحق کے انتقام کا ضرور اعلان کریں گے اور آج کی رات ذریّت مرزا پر بہت بھاری ہوگی-
اسپیکر پر ابولاحسنات رح کی آواز گونجی:
"تمام لوگ مکان کا گھیراؤ چھوڑ کر یہاں آ جائیں  ....... میں سیّد احمد قادری ختمِ نبوّت کے صدقے ..... آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ ادھر تشریف لے آئیں .... طائف میں پتھّر کھا کر دعا دینے والے نبی ّﷺ کی امّت .... یہاں آ جائیے .... ختمِ نبوّت کے پروانوں ... غُصّے اور ذاتی اشتعال پر چلنے والی تحریکیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں .... یہ بہت جلد حکمرانوں کا کھلونا بن جاتی ہیں .... یہ کوئ جائیداد یا اقتدار کا جھگڑا نہیں ہے .... اصول کی جنگ ہے .... اصول سے ہی لڑی جائے گی .... عاشقانِ رسول ﷺ پتھر مارتے نہیں ، پتھر کھاتے ہیں .... خُدا کی قسم اس تحریک کے سب علماء کا مشترکہ فیصلہ ہے .... کہ کسی مرزائ کی نکسیر بھی پھُوٹی .... تو ہم اسی وقت یہ تحریک ختم کر دیں گے .... شانت ہو جائیے .... یہاں آ جائیے .... اسٹیج کے پاس تشریف لے آئیے !!!! "
لوگ آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کرتے ہوئے اسٹیج کی طرف آنے لگے- میں اس قافلہء عشق و مستی کی صبر و رضاء دیکھ کر حیرت کے سمندر میں ڈوب گیا- کیا یہی ہمارے اکابرین تھے ؟؟ یا ہم جرمن نازیوں کی بھٹکی ہوئ وہ بدروحیں ہیں جو مسلمان کا شناختی کارڈ بنوا کر ان بزرگوں سے چمٹی ہوئ ہیں ؟؟ انہیں کس بات کا ڈر تھا ؟ پوری قوم ان کی پُشت پر کھڑی تھی- عجب صابر لوگ تھے- چاہتے تو ایک پھونک مار کر مرزائیت کا بُت پاش پاش کر سکتے تھے- جن کی ہڑتال پر لاہور کے پرندے بھی گھونسلوں میں دُبک کر بیٹھ گئے ، وہ کس برتے پر فاختہ کی طرح پر سمیٹے بیٹھے تھے ... ؟؟
 شاید اس لئے کہ یہ سچّے عاشق تھے- دنیا کا چلن اور ہے اور عِشق کی سج دھج کچھ اور- دنیا کے ضابطے اور ہیں اور عشق کے قواعدو ضوابط کچھ اور- دنیا کچوے لگا کر خوش رہتی ہے اور عاشقانِ صادق زخم کھا کر پھولے نہیں سماتے !!!
 عشق سینہ زوری کا نہیں ، صبرو رضاء کا نام ہے- یہاں ہر گھڑی نگاہیں درِ یارکی طرف ہی اٹھتی ہیں ، یار راضی تو ستّے خیراں ، محبوب روٹھ گیا تو کچھ بھی باقی نہ بچا-
 مجاھدِ ملّت مولانا عبدالستار نیازی صاحب پلیٹ فارم پر تشریف لا چکے تھے اور رب کے سچّے محبوب ﷺ کے سامنے احوالِ دردِ دِل پیش کر رہے تھے- لاہور کی اس سرد رات میں عشق کی حرارت سے مجمع پگھل رہا تھا اور آنکھیں اشکبار ہو رہی تھیں:

یا شفیعِ امم ، لِلّہ کر دو کرم ، شالا و سدا رہوے تیرا سوہنا حرم
ہم غلاموں کا رکھنا خدارا بھرم ، شالا و سدا رہوے تیرا سوہنا حرم

کس کو جاکر کہیں تاجدارِ حرم ، گھیرا ڈالے ہوئے ہیں زمانے کےغم
دور ہو جائیں غم یا شہہ محترم ، شالا وسدا رہوے تیرا سوہنا  حرم

No comments:

Post a Comment