ISHQ KY QAIDI EP#11



عشق_کے_قیدی --11--- ظفرجی

25 جنوری 1953ء ... گورنمنٹ ہاؤس لاہور !!!
 اسٹیورڈ نے سر پر لمبے طُرّے والی پگڑ پہنی اور خود کو آئینے میں اچھّی طرح دیکھا-
 اس کے بعد وہ بار ٹرالی دھکیلتا گورنر ہاؤس کے خُفیہ میٹنگ روم میں داخل ہو گیا- 
یہاں اسٹیبلشمنٹ سر جوڑے بیٹھی تھی-
 کمرے میں سگریٹ اور ولائتی شراب کی مہک پھیلی ہوئ تھی- ایک بڑا سا ایگزاسٹ فین ماحول کی حبس دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا-
" دیکھو....  کیا ہے یہ ؟؟" گورنر جنرل غلام محمد نے ایک اخبار لہراتے ہوئے کہا-
" اخبار ہے سر.... " ایک مُچھّل وردی پوش بولا-
 " فردوس شاہ .... مُجھے بھی پتا ہے اخبار ہے .... اس پر کُچھ لکھّا ہوا بھی ہے .... پڑھو اسے"
 " یس سر !!!" ڈی ایس پی فردوس شاہ بیلٹ درست کرتا ہوا اُٹھا اور گورنر کے پاس جاکر اخبار میں جھانکنے لگا:
"امریکہ سے ایک لاکھ پچھتّر ہزار ٹن گندم کی کھیپ ......"
 " او نالائق آدمی .... یہ نہیں .... یہ پڑھو " باس نے ایک چوکٹّھے پر انگلی دھر دی-
" سر ...سر ...سر...." فردوس شاہ اخبار پر پورا جھُک گیا:
" پچیس .... دِن .... باقی ہیں ... "
 " کچھ آیا سمجھ شریف میں ؟" گورنر نے سگار کا دھواں چھوڑتے ہوئے کہا-
"یس سر .... پچیس دن باقی ہیں"
" کس چیز میں ؟" گورنر نے پوچھا
" امریکہ سے گندم آنے میں !!! "
" ہمیشہ پیٹ سے سوچتے ہو فردوس شاہ !!!  سوال چنّا جواب گندم .... یہ الٹی میٹم کی خبر ہے"
"الٹی میٹم ؟؟ "
 "ہاں الٹی میٹم .... اگر پولیس کی یہ حالت ہے تو باقی ادارے کس حال میں ہونگے .... بیٹھو !! " گورنر نے ڈانٹتے ہوئے کہا-
" یس سر ... یس سر " ڈی ایس پی واپس کرسی ہر جا بیٹھا"
 "مولویوں کی ایک تحریک چل رہی ہے آجکل .... کچھ علم ہے اس بارے میں" گورنر نے کہا-
"یس سر .... اینٹی احمدی موومنٹ "
"جی ہاں ....  اور اس تحریک نے ایک الٹی میٹم دے رکھّا ہے .... تیس دن کا الٹی میٹم .... جس میں پچیس دن باقی ہیں .... زمیندار میں روزانہ یہ چوکٹّھا چھُپتا ہے ..... دیکھا ہے کبھی زمیندار ؟؟"
" نو سر ..... " فردوس شاہ نے معصومیت سے کہا-
" اسی لئے تم نے ابھی تک ترقّی نہیں کی !!! "
" آج کی یہ میٹنگ انتہائ غیر معمولی حالات مں بلائ گئ ہے .... مولویوں کی اس تحریک کو طاقت سے کُچلنا ہے .... نو تھرڈ آپشن .... تاکہ یہ لوگ دوبارہ اکٹھے نہ ہو سکیں ..."
اسٹیورڈ گلاسوں میں شراب انڈیلنے لگا-
" لیکن فی الحال تو وہ لوگ پرامن ہیں سر ،  انتظامیہ سے بھرپور تعاون کر رہے ہیں" ڈی آئ جی نے کہا-
 " ڈی آئ جی صاحب .... لگتا ہے آپ کو پروموشن سے کچھ لگاؤ نہیں ؟؟"
"یس سررر .... نو سر .... آئ وانٹ پروموشن سر " ڈی آئ جی  بوکھلا گیا-
" مُلا جب مسیت سے نکل کر سڑک پر آ جائے تو ریاست کے پاس دو ہی رستے بچتے ہیں .... یا تو سفید ٹوپی اوڑھ کر اللہ اللہ شروع کردے یا پھر ڈٹ کر مقابلہ کرے .... نو تھرڈ آپشن !!!
 " یس سر .... یس سر !!!" ڈی آئ جی نے ڈائری میں نوٹس لیتے ہوئے کہا-
" مولوی مسجد سے نکل چکا .... اب جو کچھ کرنا ہے ریاست نے کرنا ہے .... اب وہ صرف تقریریں نہیں کرے گا .... ایجیٹیشن کرے گا .... گرفتاریاں دے گا .... اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھائے گا .... "
" یس سر .....یس سر .... "
ان لوگوں کو پہلے خوب برانگیختہ کرو .... تشدّد پر اکساؤ .... پھر تشدّد کرو .... یہ ہے اصل طریقہ !!!"
"یس سر ... انڈراسٹینڈ سر !!!! "
" آپ کو اڑھائ سو رضاکار مل جائیں گے .... احمدی کمیونٹی سے  ... " گورنر نے ساغر میں شراب انڈیلتے ہوئے کہا-
" یس سر .... !!! "
 " یاد رکھّو .... اگر ایک بار بھی .... اس مُلک میں .... مولوی قابض ہو گیا .... تو شراب کے ایک ایک قطرے کو ترس جاؤ گے تم لوگ .... تمہارے یہ سب رنڈی خانے ویران ہو جائیں گے .... یہ چہل پہل سب برباد ہو جائے گی .... بڑی مشکل سے ایک آزاد ریاست حاصل کی ہے .... جہاں شرفاء آزادی کا سانس لے سکیں .... اور یہ مولوی ...... پہلے پارٹیشن کی مخالفت میں کھڑا تھا .... اب آزاد ملک کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے ...."
 "سر میں تو کہتا ہوں کل ہی سب کو اریسٹ کر کے اندر کر دیں .... نہ رہے گا بانس ، نہ رہے گی بنسری" چیف سیکرٹری نے کہا-
"  معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہے چیف سیکرٹری صاحب .... پبلک کو مطمئن کرنا پڑتا ہے .... جنہیں اسلام کا نعرہ دیکر ہم نے یہ ملک بنایا .... امتِ مسلمہ کی طرف دیکھنا پڑتا ہے .... جن سے اسلام کے نام پر ہم امداد وصول کر رہے ہیں ... ریاست کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں ...."
" میں آج ہی جوانوں کو الرٹ کر دیتا ہوں سر !!! " ڈی آئ جی نے کہا
" دیکھو ...... پہلے تھوڑا بلوہ کراؤ .... دوچار لاشیں گراؤ ....  عوام خود ان کے خلاف ہو جائے گی .... اس کے بعد ہم انہیں فوجداری مقدمات میں باندھ لیں گے .... یوں سانپ بھی مر جائے گا .... اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی "
" بے فکر رہیں سر .... موقع ملتے ہی ہم مظاہرین پر ٹوٹ پڑیں گے "
 " یاد رکھو !!!! یہی پہلا اور آخری موقع ہے .... اگر آج مولوی بچ گیا تو یہ اور طاقتور ہوگا ... ڈرو اس وقت سے جب یہی مولوی تمہارے سرپر سوار ہو کر تمہارے مونہہ سونگھ رہا ہوگا .... تم سے نکاح نامے طلب کر رہا ہوگا .... فحاشی فحاشی کا راگ الاپ رہا ہوگا .... اگر ملک کو ترقّی دینی ہے تو اس تحریک کا وہ حشر کرو .... کہ آئیندہ سو سال تک یہ لوگ اُٹھ نہ سکیں ...."
 " لیکن سر .... اتنے بڑے ایجی ٹیشن کو روکنا اکیلے پولیس کا بس نہیں .... اگر ملٹری ایڈ میسر ہو جائے ... "
 " ہم کوشش کر رہے ہیں .... بارڈر پولیس منگوانے کی .... خان بہادر سے رابطہ ہے میرا .... مسجد شہید گنج تحریک میں اس نے بہترین کارکردگی دکھائ تھی .... اسے مولوی کو مارنے کا پرانا تجربہ ہے .... "
"ٹھیک ہے سر !!!"
" ایڈیٹر حضرات .... آپ کو یہاں بلانے کا مقصد یہ ہے کہ " ڈان" اینڈ " سول" اخبارات کا کردار بہت اہم ہے .... اس آگ پر اتنا تیل چھڑکو کہ شُعلے آسمانوں کو چھونے لگیں .... تاکہ ہمیں گولی چلانے کا لاجک مل سکے .... دِس از اے وار اگینسٹ اسٹیٹ !!!"
 "یس سر .... یس سر !!!"

No comments:

Post a Comment