ISHQ KY QAIDI EP#12


عشق_کے_قیدی --12--- ظفرجی

1 فروری --- 1953ء
پورا ملک علماء کی ولولہ انگیز تقاریر سے گونج اٹھّا-
 کراچی تا خیبر تحریک کی بازگشت سنائ دینے لگی- اس طوفان بلاخیز کا مقابلہ کرنے کےلئے مرزائیوں نے شہر شہر سیرت کانفرنسوں کا انعقاد کیا لیکن عوامی غیض و غضب نے یہ جعلی دکانیں الٹ کر رکھ دیں-
 میں اور چاند پوری ، پاؤں میں بھنور باندھے شہر شہر گھوم رہے تھے-
صبح آٹھ بجے ہم چک ڈگیاں پہنچے جہاں ساٹھ ہزار کے مجمع  سے خلیفہ کا خطاب جاری تھا- خطاب کیا تھا ، اونچے درجے کا سیلاب تھا !!!

" سُن لو ----- کان کھول کے سُن لو ----- !!!
اُن کا خُدا اور ہے ----- ہمارا خدا اور ہے ----- !!!
ان کا اسلام اور ہے ------ ہمارا اسلام اور ہے ------ !!!!
ان کا رسول اور ہے ------- ہمارا رسول اور ہے -------!!!!
ان کا حج اور ہے ------- ہمارا حج اور ہے ---------------!!!!
ہر بات میں ہمیں ان سے اختلاف ہے ----- ہر عمل میں اختلاف ہے ----- ہر چیز میں اختلاف ہے ----- !!!! "

نعرہء ہائے تکبیر سے ربوہ گونج رہا تھا-
 خلیفہ ایک سو بیس کی رفتار سے تقریر کر رہے تھے ، اور چاند پوُری دو سو بیس کی رفتار سے مسلسل نوٹس لئے جا رہے تھے- میں نےکچھوے کی رفتار سے ان دونوں کا پیچھا کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا- کبھی دو لفظ لکھتا ، پھر کاٹ کے چاند پوری کی نقل مارنے لگتا- پھر تھوک سے مٹانے لگتا- سوچا کیوں نہ موبائل پر ریکارڈنگ کی جائے- جیب سے موبائل نکالا تو اسے پھپھوندی لگ چکی تھی-

" احمدیوں کی غیر احمدیوں سے قوم جُدا ------ نسل جُدا ------ گوت جُدا ------ ملّت جُدا ------ !!!
خُدا کی قسم ----- !!! ہمارے اور ان کے  درمیان وہی فرق ہے جو ہندو اور مسلمان میں تھا ----!!!! "
نعرہء تکبیر ...... اللہ اکبر !!!!!!

میں نے کہا " آج تو چائے سے زیادہ کیتل گرم ہے "
" گیلی لکڑیوں کی آگ ہے  .... اثر تو دکھائے گی !!! " چاند پوری مسلسل قلم چلاتے ہوئے بولے-

" مبارک ہو ------ مبارک ہو ------ مبارک ہو ------ عالمِ رویا سے ایک اور چٹّھی آئ ہے ---- !!! "

چاند پوری مجھے کہنی مار کر بولے " لو جی پھر آمد ہو گئ !!! "

" حضرات ...... میں نے ایک گائے دیکھی ------ !!!
گائے ، جس کی لمبائ شرق تا غرب پھیلی ہوئ تھی ------ !!!
جس کے سینگ بادلوں سے اونچے تھے -------!!!
میں اس گائے پر سوار ہوا ------- وہ چلتی گئ ----- چلتی گئ ----- چلتی گئ ----- یہاں تک کہ دلّی پہنچ گئ ----- !!!"

" گائے ہو ، بھینس ہو ، بکری ہو ، کھوتی ہو ... جائے گی سیدھا دلّی" چاند پوری نے تبصرہ کیا-

" سُنو ------ سنو ------ سُنو ----- تعبیر بھی سُنتے جاؤ ----- !!!! " خلیفہ نے پانی پی کر دوبارہ اسٹارٹ پکڑا-

" پاکستان بنانا ہماری مجبوری تھی ------ تاکہ خدا کا تخت بچایا جا سکے ------- لیکن اب یہ تخت ہم سے چھینا جا رہا ہے ------ اور یہ مقدس سرزمین خونی ملاؤں کے قبضے میں دی جا رہی ہے ------ !!!
یاد رکھو ----- !!!  مسیحِ موعود کی سرزمین ----- اگر احمدیوں پر تنگ ہوئ تو دوبارہ اکھنڈ بھارت بنے گا ----- !!! "
نعرہء تکبیر .......... !!!!
فلک شگاف نعروں سے چنیوٹ کی پہاڑیاں لرز اٹھیں !!!

" اُٹھو .... چلتے ہیں .... کل یہی اکھنڈ بھارت والی ھیڈ لائن لگائیں گے .... شاید حکومت کی عقل ٹھکانے آ جائے "
 "حکومت "ڈان " اور "سول" پڑھتی ہے .... افلاک صرف عوام پڑھتے ہیں " میں نے اٹھتے ہوئے کہا-
ہم وہاں سے لاہور کےلئے روانہ ہوئے- عصر  کی نماز ہم نے جامع مسجد شیرانوالا میں پڑھی-
یہاں بھی ایک خلقِ کثیر جمع تھی-
 نماز کے بعد شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری رح کا خطاب شروع ہوا-

" پاکستان کے غیرت مند حکمرانوں ----- !!!
خون کے دریا بہا کر پاکستان بنانے والو ------!!!
تُم تو کہا کرتے تھے یہاں اسلام نافذ ہوگا --------!!!
شریعتِ محمّدی ﷺ کا نفاذ ہوگا ..... !!!
کیا پاکستان اس لئے بنایا تھا کہ اسے مرزائستان بنا دیا جائے ------ ؟؟؟
اس میں شریعتِ غُلام احمدی کا کھوٹا سکّہ چلایا جائے ------- ؟؟
کیا خواجہ ناظم الدین مرزائیّت کو ہم سے بہتر سمجھتے ہیں -------؟؟
کیا گورنر غلام محمد پاکستان کا مفتئ اعظم ہے --------؟؟
جب یہ لوگ عالم دین نہیں ہیں ، مفتی نہیں ہیں تو  مرزائیت کے متعلق ہم ان کا فیصلہ کیوں مانیں ------ !!! "

حضرتِ شیخ التفسیر کا تعلق گوجرانوالہ کے ایک صوفی گھرانے سے تھا - آپ کے والد گرامی شیخ حبیب اللہ سلسلہء چشت سے بیعت تھے- آپ مولانا عبیداللہ سندھی رح کے شاگرد تھے اور زندگی بھر انگریزی استعمار سے نبرد آزماء رہے- برٹش راج کے دوران قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے رہے-

" خُدا کا شُکر ادا کرو ------- اگر علمائے دین نہ ہوتے ------ اگر صوفیاء نہ ہوتے ----- اگر فقہا نہ ہوتے ----- تو آج سارا پنجاب مُرتد ہو چُکا ہوتا ------ انگریز دور سے آج تک علماء چٹان بن کر اس فتنے کے سامنے کھڑے ہیں ------ ان بزرگوں کی وجہ سے آج ہمارے ایمان سلامت ہیں ------- میری بات لکھ کے لے جاؤ ------- اگر ان حکمرانوں نے مسلمانوں کے مطالبات نہ مانے تو ایک برے انجام سے دوچار ہونگے ------ مستقبل کا مؤرخ ------ جب بھی پاکستان کی تاریخ لکھّے گا -----
ان حکمرانوں پر لعنت بھیجے گا -----!!!!"

مغرب کے بعد ہم موچی گیٹ پہنچے جہاں مخدومِ اہلسنّت جناب شیخ عبدالغفور ہزاروی چشتی خطاب فرما رہے تھے :

" عزیزانِ وطن ------ !!!
تقریروں کا وقت بیت گیا ------ اب عمل کا وقت ہے ---- !!!
بہت صبر کر لیا اس قوم نے ------ !!!
پانچ برس ہو گئے اس ملک کو وجود میں آئے ہوئے ----- پانچ برس ----!!!!
اور آج تک ایک ہی تماشا چلتا رہا ------ !!!
 چند پیٹ یہاں کا سارا آٹا کھاتے رہے ------- مسلمان چُپ رہا ------- !!!
 غریب ایک ایک دانے کو ترس کر رہ گیا -------- مسلمان صبر کرتا رہا ----- !!!
تُم نے کاروباری سرگرمیاں معطل کیں ----- ہم کچھ نہ بولے ----- !!!
 تم دستوری سفارشات لے کر آئے ------- ہم دیکھتے رہ گئے ---------!!!!
ارے یہ کیسا دستور لے ہو ------ ؟؟؟
نبی ﷺ کی جوتیوں کے صدقے ملا تھا تمہیں پاکستان ----- اور آج اسی پاکستان کے دستور میں نبی ﷺ کی شخصیّت ہی محفوظ نہیں ------- ؟؟؟ ناموسِ رسالت محفوظ نہیں ------ ؟؟؟ ختمِ نبوّت محفوظ نہیں ------؟؟؟ یہ ہے تمہارا دستور ------؟؟
ایک اسلامی ملک کا دستور ایسا ہوتا ہے ------- ؟؟؟؟
تم نے غریب سے روٹی چھینی ------ اس کی چھت چھینی ------- اس کا آرام و سکون چھینا ----- اور اب منصبِ رسالت پر ڈاکہ مارنے چلے ہو -------- ؟؟؟
خواجہ ناظم الدین صاحب !!!!
 یہ عہدے ------ یہ وزارتیں ------ یہ گدیاں ----- تمہیں مبارک ہوں ------!!!
ہمیں ہمارے نبی ﷺ کی ناموس رسالت لوٹا دو ------- !!!
تحفّظ ختم نبوّت کا قانون بنا کر ہمیں دے دو ------!!!!
اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو نتائج کی تمام تر ذمہ داری تمہارے سر پر ہوگی ------!!!! "

No comments:

Post a Comment