ISHQ KY QAIDI EP#13


عشق_کے_قیدی --13--- ظفرجی

5 فروری .... 1953ء .... موچی گیٹ لاہور...!!!
ہم دربار پیر مراد شاہ کے سامنے کھڑے تھے-
یہاں اچھی خاصی رونق تھی- 
 " چکڑ چھولے ----- مرغ چھولے ------ گرم انڈے ------ گجک ----- چائے ----- نئے آنے والے مہاجرین کا دھندا عروج پر تھا-
 چاند پوری ایک ایک ٹھیلے کی زیارت کرتے آگے بڑھتے جا رہے تھے- وہ کہیں سے مُٹّھی بھر چنّے اٹھاتے ، کہیں سے تھوڑی گجگ اور کہیں سے ریوڑی پھانکتے- میں مناسب فاصلہ رکھ کر ان کی تقلید کئے جا رہا تھا-
 " حضور کہیں جم کے کھانا بھی ہے یا یونہی گائے کی طرح چرنا ہے" میں نے آواز لگائ-
وہ چلتے چلتے رک کر بولے:
" ہائے کیا یاد دلا دیا .... اللہ کا شکر جس نے ہمیں پاکستان دیا .... لُدھیانہ میں ہم گائے ذبح نہیں کر سکتے تھے .... جب کہ سؤر سرعام بکتا تھا ..... چلو یار آج گائے کے پائے کھاتے ہیں "
 ہم نے ایک ہاکر سے صبح کا باسی اخبار خریدا - پھر ایک طویل چکّر کاٹ کر شاہ عالمی کے قریب "غوثیہ سری پائے والا" کے پاس جا پہنچے- بابا غوث کو سلام کر کے ہم ریہڑی کے پاس میلی کچیلی صف پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے-
" 17 دن باقی ہیں !!! ... حکومت کےلئے کڑا امتحان " میں نے زمیندار کی سرخی پڑھی-
" افسوس یار ..... "ڈان" اور "سول" پڑھنے والے حکمران .... اس آتش فشاں سے بے خبر سو رہے ہیں جو چند ہی روز میں پھٹنے والا ہے" چاند پوری نے کہا-
اس دوران بابا غوث ڈبل روٹی اور  دو لبالب پیالے لے آیا جن میں پائے غوطہ زن تھے- میں اخبار بچھانے لگا تو وہ بولا:
" پُت  ... ٹُکّر کھانے کےلئے "زمیندار" نہیں بچھاتے ... یہ لو انگریجی اخبار !!! "
 " بابا .... یہ چوٹ کیسے لگی " میں نے بابا غوث کے بازو کو دیکھا جس پر چاقو کا تازہ گھاؤ نمایاں تھا-
" چوٹ نہیں پُتّر خون دے کر آیا ہوں "
"یہ کون سا طریقہ ہے خون دینے کا ؟" میں بڑبڑایا-
 " میں بتاتا ہوں ..... بابا ختمِ نبوّت کا فارم اپنے خون سے بھر کے آیا ہے ... کیوں بابا ؟ " چاند پوری نے کہا-
 " کیا کرتا پُتّر ... جس دیس کےلئے گھربار چھوڑا ... دو گبھرو پُتّ ذبح کروائے ... اُسے مرزائ کے حوالے کر دوں ؟؟ کل رب پوچھے گا کہ غوث ممدا ...کالی کملی والے ﷺ کے تخت پر قبضہ ہو رہا تھا ... اور تُو نان پاؤ بیچتا رہا ...!!! "
" صرف غوث محمد ہی نہیں ......  ہر مسلمان کا یہی جزبہ ہے ...... مجلسِ عمل آج کل تحریک کےلئے رضاکار بھرتی کر رہی ہے ..... کیمپوں کے سامنے عوام کے ٹھٹھ لگے ہوئے ہیں .... لوگ کلائیوں پر گھاؤ لگا کر خون سے فارم پُر کر رہے ہیں .... قطرے قطرے سے دریا بن رہا ہے بھئ ..... اور یہی خون کا وہ دریا ہے .... جس نے فتنے کی اس آگ کو ٹھنڈا کرنا ہے "
 نمازِ عصر کے بعد جلسے کا آغاز ہوا- آج بے پناہ حاضری تھی- موچی باغ بھر گیا تو سڑک کے کنارے لوگوں کے سروں کی قطار نظر آنے لگی- تاحدِّ نگاہ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا-
 کرسیء صدارت پر ابوالحسنات سیّد احمد قادری تشریف فرماء تھے- ہم جلسے میں پہنچے تو مجلسِ احرار کے ماسٹر تاج الدین انصاری کا خطاب عروج پر تھا:
 " ختمِ نبوّت کے پروانو ------ !!!!
 آج سے ہم ملک بھر میں مرزائیوں کے سوشل بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں ----- !!!!
آئیے اور ہمارا ساتھ دیجئے ------- اس بیمار وجود کو جسم سے کاٹ پھینکئے جو امّت کےلئے سرطان بن چُکا ہے ----- !!!
مجلس اپنا پروگرام بنا چکی ------ ہم صف آراء ہو چُکے ----- اب دنیا کی کوئ طاقت ہمیں بڑھنے سے نہیں روک سکتی -----!!!
اور جو ہمارے راستے میں آئے گا خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا ----- !!!
ہمارا ایمان ہے کہ حق فتح یاب ہوگا اور باطل کو شکست ہو گی انشاءاللہ ----- !!!
اللہ ہمارے ساتھ ہے ----- محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی امّت ہمارے ساتھ ہے ---- !!!
کس کی جراءت ہے کہ ہمارے راستے کی دیوار بنے ----- ؟؟؟
کون کم بخت ایسا ہے جو اس طوفان کا راستہ روکے ----- ؟؟؟
کون جہنمّی ایسا ہے جو ہماری راہ میں کانٹے بچھائے ------ ؟؟
حُکمرانوں سُن لو ----- !!! ہتھکڑیاں پُرانی ہو چُکیں  ----- بیڑیوں کو زنگ لگ چُکا ----- !!!!
ہم پھر وہی جھنکار سننا چاہتے ہیں -----  پھر وہی زیور پہننا چاہتے ہیں ----- !!!!
تم نے کیا سمجھا انگریز چلا گیا تو مجلسِ احرار بیٹھ گئ ------ ؟؟
ہرگز نہیں ----- جس ملک میں مرزائی حاکم ہوں اور مسلمان غلام ہوں ----- وہاں احراری خاموش نہیں بیٹھ سکتے ----- !!!
ہمیں قید خانوں میں رہنا منظور ہے ---- لیکن ختمِ نبوّت پر کوئ سمجھوتا منظور نہیں -------
ہم تیّار ہیں .... تیّار ہیں .... تیّار ہیں :

تو ذرا چھیڑ تو دے تشنہء مضراب ہے ساز
نغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کےلئے"

رات گئے جلسہ ختم ہوا تو بھوک سے انتڑیاں سکڑ رہی تھیں- ہم بھوک مٹانے سداکراں بازار کی طرف چلے گئے-
یہاں ایک طرف کھلے میدان میں بہت بڑا خیمہ اورقناتیں لگا کر ہوٹل بنایا گیا تھا- دور دور تک اشتہا انگیز خوشبو پھیلی ہوئ تھی-
 یہ ہوٹل شاید نیا کھٌلا ہے .... آؤ ذرا اس کا ذائقہ بھی چکھتے ہیں" چاند پوری نے کہا-
"خوشبو تو لاجواب ہے ... دیکھیں پکوان کیسا ہو "
پنڈال کے اندر بہت سے لوگ کھانا تناول کر رہے تھے-  ہم بھی ایک دستر خوان پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے-
ایک خشخشی داڑھی والا نوجوان ہماری طرف آیا اور بولا:
 " جناب آپ اس طرف تشریف لے آئیں .... شرفاء کےلئے وہاں کرسیاں لگائ گئ ہیں"
 چاند پوری پھڑک کر بولے "کمال کرتے ہو صاحب ... ہوٹل میں شرفاء اور غرباء کی تقسیم ؟"
 "یہ ہوٹل نہیں جناب .... مرزا کلیم بیگ کا احمدی دسترخوان ہے .... فی سبیل اللہ "
چاند پوری ایک دم کھڑے ہو گئے اور کہا :
 "آپ کو پہلے بتانا چاھئے تھا ... اللہ کا شکر ہے ہم نے کچھ کھا پی نہیں لیا ...."
 " کیا ہو گیا حضرت ؟ ہم بھی اسی رسول کا کلمہ پڑھتے ہیں ... آپ کی طرح نماز ادا کرتے ہیں ... قران و حدیث پڑھتے ہیں "
 " مسلیمہ کذاب کی امت بھی یہ سارے افعال انجام دیتی تھی .... شکریہ ہم چلتے ہیں ... "
 " چلیں آپ کی نظر میں ہم کافر ہی سہی .... مذھبِ انسانیت کا رشتہ تو ہے .... آخر ھندو مشرک کا پکا ہوا حلوہ بھی تو مسلمان کھا لیتے تھے ... یہ تو پھر بھی حلال پکوان ہے ... غیراحمدی قصاب سے گوشت لاتے ہیں ہم "
" بات حلال حرام کی نہیں مرزا صاحب  ... اصول کی ہے .... قادیانیوں نے اسلام کے مقابلے میں ایک ڈپلیکیٹ مذھب ایجاد کیا ہے .. دن دہاڑے ڈاکہ مار کر ختم نبوّت کا تالہ توڑا ہے .... اور بجائے اپنے اس فعل پر شرمندہ ہونے کے فخر کرتے ہیں ..... گوشت بھلے حلال جانور کا ہو .... ذبیحہ بے شک مسلمان کے ہاتھ کا ہو .... لیکن جب وہ ایک ڈاکو کے دسترخوان پر سجتا ہے تو ازخود حرام ہو جاتا ہے .... "
مرزا کلیم مونہہ دیکھتے رہ گئے اور ہم پنڈال چھوڑ کر باہر نکل آئے-
رات 1 بجے ہم بابا غوث کی ریہڑی پر پہنچے-
"بابا دو پیالے سری پائے دینا " چاند پوری نے آرڈر کیا-
 "پُت سری پائے تے ختم ہو گئے .... چکڑ چھولے آ بس " بابا نے عاجزی سے کہا-
"ٹھیک ہے .... وہی لے آؤ"
" احمدی دسترخوان کی خوشبو یہاں تک آ رہی ہے ....  ؟" میں نے ٹھنڈی ڈبل روٹی توڑتے ہوئے کہا-
چاند پوری ایک ٹھنڈی سانس لیکر بولے :
" جدید دور کے یہ سبائ  پہلے دسترخوان پر بٹھاتے ہیں .... پھر شادی نوکری اور اچھے مستقبل کا جھانسہ دیتے ہیں .... پھر مرزا کی مسیحت کا قائل کرتے ہیں .... پھر مہدویت کی دلدل میں اتارتے ہیں .... اور جب بندہ گلے گلے تک دھنس جاتا ہے تو مرزا کی نبوّت کا اقرار کروا کے نبی ﷺ کی محبّت بھی چھین لیتے ہیں .... جو ایک گنہگار ترین مسلمان کی آخری پونجی ہے .... اس لئے .... قسطوں میں ایمان لٹوانے سے بہتر ہے بندہ غوث محمد کے چکڑ چھولے ہی کھا لے !!! "
محمد فیصل شہزاد

No comments:

Post a Comment