عشق_کے_قیدی --14--- ظفرجی
16 فروری .... 1953ء ..... لاہور
پورے شہر میں ہو کا عالم تھا-
ایسی ہڑتال کہ ہنستا بستا لاہور شہرِ خموشاں کا منظر پیش کرنے لگا-
دکانیں ، منڈیاں ، ریہڑیاں ، ٹھیلے سب الٹے پڑے تھے- آج وزیرِ اعظم کی لاہور آمد کا امکان تھا-
صرف ایک رات پہلے مجلس عمل کے چند علماء منڈیوں کے ٹھیکیداروں سے ملے اور ایک دن کےلئے کاروبار بند رکھنے کی درخواست کی تاکہ تحریکِ ختم نبوّت کا پیغام حکومت کے کانوں تک پہنچایا جا سکے-
عصر کے بعد ہم زمیندار کے ایڈیٹر مولانا اخترعلی خان کی گاڑی میں بیٹھ کر شہر کے حالات دیکھنے نکلے- علامّہ مظفر شمسی اور جناب ماسٹر تاج الدین انصاری ہمراہ تھے- بہار کا موسم تھا- آسمان پر بسنت کی پتنگوں کا راج تھا اور شہر میں ختمِ نبوّت کے پروانوں کا-
بیرونِ دہلی گیٹ سے ابھرتی ہوئ ، مجاھدِ ملّت عبدالستار خان نیازی کی مترنّم آواز ماحول کو مزید پرکیف بنا رہی تھی-
دُنیا تے آیا کوئ تیری نہ مثال دا
میں لبھ کے لے آواں کتھوں سوہنا تیرے نال دا
شہر میں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے جلوس نظر آئے- مولانا اخترعلی خان گاڑی روکتے اور انہیں جلد سے جلد جلسہ گاہ پہنچنے کی تاکید کرتے- سِول لائن پہنچے تو ڈی - اے -وی اسلامیہ کالج کے سامنے کچھ کشیدگی نظر آئ- مولانا صاحب کار روک کر ہارن بجانے لگے-
ایک پولیس آفیسر بھاگتا ہوا ہماری گاڑی کے قریب آیا-
"نعیم الدین کیا مسئلہ ہے؟ سڑک کیوں بلاک ہے ؟؟ " مولانا اختر نے دریافت کیا-
" حضرت .... ڈی اے وی کالج کی چھت سے کچھ لڑکوں نے مظاہرین پر پتھراؤ کیا ہے ... ہم صورتحال کو کنٹرول کر رہے ہیں "
" ایک منٹ .... میں سمجھاتا ہوں " یہ کہ کر شمسی صاحب گاڑی سے اترے اور مظاہرین کی طرف چلے گئے-
"حضرات .... میری بات سنیں .... آپ لوگ ختمِ نبوّت کے مبارک کام کےلئے آئے ہیں .... فساد کےلئے نہیں"
"ہم نے فساد نہیں کیا حضرت .... کالج کی چھت سے ہم پر پتھراؤ ہوا ہے "
"انہیں اپنا کام کرنے دو ... اور تم اپنا کام کرو ... سب لوگ جلسے میں پہنچو ... ابھی فوراً .. " شمسی صاحب نے ھدایت کی-
" کالج سے کون پتھراؤ کر رہا ہے ؟؟" میں نے پوچھا-
" قادیانی .... اور کون ..... ڈی اے وی پنجاب کا سب سے بڑا کالج ہے .... اندھیر نگری دیکھو اس کالج پر بھی مکمل طور پر مرزائ قابض ہیں "
" تو مسلمانوں کے بچّے کیوں نہیں پڑھتے یہاں ؟ " میں نے پوچھا-
" پابندی ہے بھائ .... صرف مرزائ ہی داخلہ لے سکتا ہے یہاں "
" کمال ہے .... اس ظلم پر تو سرسیّد جیسا روشن خیال بھی چیخ پڑتا !!! "
شمسی صاحب واپس پلٹے تو ہم نے شہر کا ایک لمبا چکّر لگایا- اور گھوم کر واپس باغ بیرونِ دہلی گیٹ پہنچ گئے-
یہاں ہزاروں کے مجمع سے امیرِ شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری رح کا روح پرور خطاب اپنے جوبن پر تھا :
" مرزا بشیرالدین محمود ------- 1952 گزر گیا ہے ------ !!!
آ دیکھ -------- بخاری آج بھی تیرے سامنے چٹان کی طرح کھڑا ہے ------ الحمدللہ !!!
اُنیس سو باون تیرا تھا ------------- 53 میرا ہے !!!
تیرا فرعونی تخت اُلٹا جا رہا ہے ----- انشاءاللہ یہ تخت اب نہیں رہے گا ------
تم کذاب نبی کء بیٹے ہو ---- تو میں صادق نبی کا نواسہ ہوں ---
پردے سے باہر آؤ ----- اردو ، پنجابی ، فارسی ہر زبان میں مجھ سے بحث کر لو ----- یہ جھگڑا آج ہی ختم ہو جائے -----
تم موٹر پر بیٹھ کے آؤ ----- میں ننگے پاؤں آؤں گا -----
تم ریشم حریر پہن کر آؤ ------ میں کھدّر پہن کے آؤں گا -----
تُم مزعفر ---- کباب یاقوتی ----- اور پلومر کی ٹانک وائن چڑھا کر آؤ -----
میں جو کی روٹی کھا کر آؤں گا ------
تُم اپنے ابّا کی سُنّت پوری کرو -----
میں اپنے نانا کی سنّت پوری کرونگا -------- !!!!
نعرہء تکبیر ------ اللہ اکبر !!!
تاج وتخت ختمِ نبوّت ------ زندہ باد !!!! .
امیرِ شریعت ------- زندہ باد !!!
لاہور کے درودیوار فلک شگاف نعروں سے گونج رہے تھے-
اس دوران اسٹیج کی داہنی طرف مولانا اختر علی خان ایک ضعیف العمر شخص کو سہارا دے کر اسٹیج کی طرف آتے دکھائ دیے- امیرِ شریعت رح نے تقریر ادھوری چھوڑی ، اسٹیج سے اُترے اور اس بزرگ کے استقبال کو دوڑے .... !!!!"
" کون ہیں یہ بزرگ ؟؟ " میں نے چاند پوری سے دریافت کیا-
" مولانا ظفر علی خان .... زمیندار اخبار کے بانی ...... مولانا اور شاہ صاحب 1920ء میں چلنے والی تحریکِ خلافت کے رفیق تھے- مسلمانانِ برّصغیر نے ایک الگ وطن کی جدّوجہد شروع کی تو راستے جُدا ہو گئے"
" لیکن زمیندار تو تحریک کا ساتھ دے رہا ہے " میں نے حیرت کا اظہار کیا-
" ہاں وہ تو ہے .... لیکن ظفر علی خان اور حضرت بخاری کے بیچ مسجد شہید گنج واقعہ کے بعد مخاصمت تھی ...... جو آج دور ہو گئ ...... الحمد للہ !!! "
امیر شریعت نے مولانا کا ماتھا چوما ، سینے سے لگایا اور سہارا دیکر اسٹیج تک لائے-
مولونا ظفر علی خان مائک پر آئے اور کپکپاتے لہجے میں احوالِ دِل سنایا:
زکوة اچھی ، حج اچھا ، روزہ اچھا ، نماز اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہء یثرب کی عزت پر
خدا شاھد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
امیرِ شریعت ڈائس پر آئے اور مجمع سے نعرے لگوائے-
"تحریک خلافت کا شہسورا ----- مولانا ظفرعلی خان ----- زندہ باد !!
تحریکِ آزادی کا بے باک سالار -------- مولانا ظفر علی خان ---------- زندہ باد !!!
مرزائیت کے سر پر کاری وار ------- مولانا ظفر علی خان ---------زندہ باد !!!!
مجمع میں شاید ہی کوئ آنکھ ہو جو پُرنم نہ ہوئ ہو-
شاہ صاحب دوبارہ تقریر کرنے لگے تو فضاء میں سائرن کی گونج سنائ دی-
وہ تقریر روک کر کھڑے ہو گئے-
پورا مجمع مُڑ کر شاھراہ کی طرف دیکھنے لگا جہاں سے ہوٹر بجاتی سرکاری گاڑیوں کا ایک قافلہ گُزر رہا تھا- وزیرِ اعظم سرگودھا میں شکار کھیل کر واپس آ رہے تھے-
مجمع سے کسی نے کہا:
" خواجہ صاحب لاہور پہنچ گئے ہیں"
شاہ صاحب پر وجدانی کیفیّت طاری ہوگئ- انہوں نے اپنی ٹوپی سر سے اتاری اور گرجے:
" سُنو ----- سُنو ----- سُنو ----- چھوڑو ساری باتیں ----- لاہور والو ------ !!!!!
کوئ ہے ------؟؟؟ کوئ ہے جو میری یہ ٹوپی خواجہ ناظم الدین کے پاس لے جائے -------؟؟"
مجمع سے سسکیوں کی آوازیں آنے لگیں-
" ہاں ----- ہاں ----- جاؤ میری یہ ٹوپی خواجہ ناظم الدین کے قدموں میں ڈال دو ------ !!!
یہ ٹوپی آج تک کسی کے سامنے نہیں جھُکی ------ کسی انگریز کے سامنے کسی لارڈ کے سامنے نہیں جھکی -----!!!
جاؤ اسے خواجہ کے قدموں میں ڈال دو ----- !!!
جاؤ جاؤ اسے بتا دو ------ ہم تیرے سیاسی حریف نہیں ہیں ----- !!!
ہم تیرے رقیب نہیں ہیں ------ ہم الیکشن نہیں لڑیں گے ------تُجھ سے اقتدار نہیں چھینے گے ----- !!!!
.ہاں ہاں ------ جاؤ ------ میری یہ ٹوپی اس کے قدموں میں ڈال کر یہ بھی کہو کہ سرکاری خزانے میں اگر سؤروں کا کوئ ریوڑ ہے تو بخاری وہ بھی چرانے کو تیّار ہے ----- !!!!
مگر شرط صرف یہ ہے ----- شرط صرف یہ ہے کہ سرورِ کونین فداہ ابی و امی ﷺ کی ختم رسالت کا قانون بنا دے ----- !!!
کوئ میرے آقا ﷺ کی توہین نہ کر سکے ------ !!!!
دستارِ ختمِ نبوّت پر کوئ ہاتھ نہ ڈال سکے ----------- !!!!"
شاہ صاحب بول رہے تھے اور مجمع بے قابو ہو کر دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا-


No comments:
Post a Comment