ISHQ KY QAIDI EP#15



عشق_کے_قیدی --15--- ظفرجی

16 فروری .... 1953ء گورنر ہاؤس لاہور

ٹھنڈی سیاہ رات میں ہم گورنمنٹ ہاؤس کا دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے-
 کافی دیر بعد بغلی چیک پوسٹ کی کھڑکی سے ایک اردلی نے سر باہر نکالا-
" کِنّوں مِلناں جے ؟"
"وزیراعظم صاحب کو " مولانا ابوالحسنات نے کہا-
"خیریت اے ؟ ایس ویلے ؟"
"وزیراعظم کو بتا دیں کہ مجلس کا وفد آیا ہے"
 سنتری کھڑکی بند کر کے اندر گیا- تقریباً دس منٹ بعد کھڑکی دوبارہ کھُلّی-
"اپنا اپنا ناں تے سیاسی وابستگی دسّو ؟"
" میں جمیعت علمائے پاکستان سے ہوں .... اور باقی لوگ  مجلسِ احرار سے "
" سوری چاچا .... احراریاں واسطے منع کیتا PM ساب  نے " اردلی نے کہا-
 " میں اپنے وفد کے بغیر اندر نہیں جاؤں گا .... آپ وزیرِ اعظم سے بات کریں" ابوالحسنات نے جواب دیا-
 اردلی کچھ ردّوکد کے بعد اندر چلا گیا- ہم گورنمنٹ ہاؤس کے باہر ٹھٹھرتے رہے- سردی کی وجہ سے ہمارے مونہوں سے بھاپ اٹھ رہی تھی-
تھوڑی دیر بعد وہ ہانپتا کانپتا واپس آگیا:
"آ جاؤ چاچا .... گیٹ کھُلا جے ..."
گورنمنٹ ہاؤس کے وسیع وعریض لان سے گزر کر ہم ایک شاندار اور پُرتکلف لاؤنج میں پہنچے- اردلی ہمیں نرم صوفوں پر بٹھا کر وزیرِاعظم کو اطلاع دینے چلا گیا- کمرے کی تزئین و آرائش لاجواب تھی- دیواروں پر خوبصورت نقش و نگار ، قد آدم قیمتی پینٹگز ، دیدہ زیب رنگ و روغن ، بیش قیمت طغرے ، گُلدان ، خوبصورت قالین ، انگیٹھی میں جلتے کوئلے کی حدّت -
 عین اسی وقت نسبت روڈ پر رات کے جلسے کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں- عاشقانِ ختم نبوّت سردی میں ٹھٹھرتے کانپتے قائدین کا خطاب سننے کےلئے جمع ہو چکے تھے-
 کچھ ہی دیر میں اچکن اور جناح کیپ پہنے وزیر اعظم کمرے میں داخل ہوئے- ہم سب نے اُٹھ کر استقبال کیا- وہ ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کر کے سامنے والا ٹیبل گھیر کر بیٹھ گئے-
" جی ... ملونا ساؤب .... سنا ہے لہور میں کوئ ہڑتول وگیرہ ہوا  ہے؟" انہوں نے بظاہر پر سکون نظر آنے کی کوشش کی-
 " جی ہاں .... اب خود ہی فیصلہ کیجئے کہ عوام کیا چاھتی ہے" ابوالحسنات بولے-
" ہم تو  اوٹھتے بیٹھتے ، چُلتے پُھرتے ، اب ایک ہی دُعا کرتا ہے .... یا اللہ !!! ہم کو اُٹھا لے .... یا جفراللہ کو اوپر بلا لے " وزیراعظم نے کہا-
 "اللہ آپ دونوں کو عُمرِ خِضر عطا کرے .... کسی کے مرنے سے مسائل حل ہوتے تو اس وقت نسبت روڈ پر مجمع کے ہاتھ میں پتھّر ہوتے .... "
" پبلک ہمارے بارے میں کیا سوستا ہو گا ؟؟" وزیرِ اعظم نے پُوچھا-
" پبلک اپنے نیک وزیرِ اعظم کےلئے اچھّا سوچتی ہے  اور نیک امید رکھتی ہے- آپ فی الحال صرف سرظفراللہ کو برخواست کردیں ... عوام بھی شانت ہو جائے گی اور آپ کا سیاسی قد بھی بڑھ جائے گا" ابوالحسنات نے کہا-
 " یقیناً ... یہ کانٹا نکل جائے تو قوم کا درد نصف رہ جائے گا" ماسٹر تاج الدین نے تصدیق کی-
" ماسٹر سوب .... تم سے ہمارا بات نئیں ہے .... ہم تو  ملونا سے بات کُرتا ہے " وزیرِ اعظم نے انتہائ ناگواری سے کہا- ان کے لہجے میں وہی مخاصمت تھی جو مسلم لیگ اور تحریک احرار میں تیس برسوں سے چلی آ رہی تھی-
" بُہت بہتر جناب !!! " ماسٹر صاحب بولے- " میں اب خاموش رہوں گا"
 " وزیرِ اعظم صاحب !!! بخُدا ہم آپ کی مشکلات بڑھانے نہیں ، ان کا مداوا کرنے آئے ہیں .... " ابوالحسنات رح نے کہا " ہمیں آپ سے ھمدردی ہے .... آپ نیک آدمی ہیں .... فرمائیے تو سہی آخر مُشکل کیا ہے ... تاکہ ہم اس مشکل کا کوئ حل نکالیں ؟؟ "
" آپ کو ہمارا مُسکل کا احساس ہوتا تو پھر کیا مُسکل  تھا " وزیراعظم ایک ٹھنڈی سانس لیکر بولے-
" پوری قوم آپ کی پشت پر کھڑی ہے وزیراعظم صاحب !!! ..... آپ قدم تو بڑھائیں ..... آج اگر آپ ہمارے مطالبات مان لیں ، یقین کریں آپ کے نام کے ڈنکے بج اٹھیں گے .... پھر کسی کو جُرات نہ ہو گی کہ آپ کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھ سکے "
" ہم زانتا ہے " وزیرِ اعظم کُرسی سے پُشت لگا کر بولے " زانتا ہے ہم کہ آج آپ کا ڈیمانڈ مان لے تو پبلک بوہت خُوس ہوگا ... ہمارے غلّے میں فُولوں کے ہار ڈالے گا ..... جِندہ باد کا نعرہ لگائے گا .... زانتا ہے !!! "
" تو پھر بسم اللہ کیجئے .... دیر کس بات کی .... قوم  آپ سے کپڑا نہیں مانگتی .... روٹی نہیں مانگتی .... رہنے کو ٹھکانہ نہیں مانگتی .... ختم نبوّت کا قانون ہی تو مانگ رہی ہے .... لوگ باہر سردی میں آپ کے فیصلے کے منتظر کھڑے ہیں .... !!!! "
" دیکھو ملونا ساب .... ہم آپ کو سمزاتا ہے .... کُس باتیں بوہت تلخ  ہوتا ہے .... پنجاب کا پارٹیسن ہوا .... برؤبر ؟؟ .... اب بھارت نے کیا کرا کہ تینوں درزاؤں کا پانی بُند کر دیا .... ایک دم مُولک میں سوُکھا پڑ گیا ..... بروبر ؟ ... پاکستان کی آجادی کو پاؤنس سال ہوا اور بھارت ہماری سہ رگ پکڑ کے بیٹھ گیا ہے .... نہ مُجاکرات کرتا ہے .... نہ کُس سننے کو ریڈی ہے ... ہم ورلڈ بینک گیا .... وہ بھی ہمارا بات نئیں سُنا .... اب کوئ لُنگی اٌٹھا کے چوک میں کھڑا ہو جائے تو آدمی کیا بولے ؟؟ یہ مؤسلہ ہے ہمارا ..... بھارت ہمیں بنجر کرنے پہ تُلا ہے !!! "
کچھ دیر کےلئے کمرے میں سکوت سا چھا گیا-
 " لیکن اس مسئلے کا سر ظفراللہ خان سے کیا تعلق ہے؟" کچھ توقّف کے بعد ابوالحسنات بولے-
" آپ کو مُلک کی  گجائ صورتحال کا علم نئیں ...." وزیرِ اعظم نے دراز سے ایک فائل نکالتے ہوئے کہا- " یہ محکمہ خوراک کا پھائل ہے .... جتنا غندم اشٹاک میں تھا .... سب کھلاس ہو گیا ہے .... کال ہمارے سر پہ کھڑا ہے .... پبلک گندم کے دانے دانے کو ترسنے والا ہے ...." وزیر اعظم کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گئے-
ایک اردلی چائے اور پانی کی ٹرالی دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا- کمرے کی بوجھل فضاء میں چائے کی خوشبو پھیلنے لگی-
" بوہت مُسکل وقت  ہے" وزیرِ اعظم نے خاموشی توڑی- " اس ناجک وقت میں .... سرجفراللہ خان اپنے جاتی تعلقات استعمال کر کے امریکی کانگریس سے ایک بِل منجُور کروانے کا کوسس کر ریا ہے .... اگر یہ کام ہو گیا تو امریکہ ہم کو سات لاکھ پچاس ہزار ٹن گندم فری میں دے گا .... یہ کام صرف جفراللہ خان ہی کر سکتا ہے .... اگر آپ کر سکتا .... تو ہم جفراللہ کو ہٹا کے کل ہی آپ کو وجیر خارزہ بنا دیتا "
 " آپ بے فکر ہو جائیں .... نہیں پڑے گا قحط " ابوالحسنات پیالی رکھتے ہوئے بولے " رزق دینے والی ذاتِ بابرکت اللہ تعالی کی ہے ، ہم سب دُعا کریں گے ، نمازِ استسقاء پڑھیں گے ، ختمِ نبوّت کے صدقے رب ہماری ضرور سنُے گا "
" آسمان سے آٹا برسنے  سے تو رہا " وزیر اعظم نے کہا " پبلک روٹی مانگتا ہے ..... پیٹ نئیں بھرے گا تو سور کرے گا ... ہمارا غریبان پکرے گا .... قوم کا مجاج بدلتے کون سا دیر لگتا ہے ..... جِندہ باد سے مردہ باد ہونے میں صرف ایک روٹی کا پھرق ہے .... ایک روٹی کا پھرق ...... کیا بولے گا ؟؟ "
" اجازت ہو تو ایک بات کہوں ؟" ماسٹر تاج الدین بول ہی پڑے-
"جی بولیے " وزیرِ اعظم فائل دراز میں رکھتے ہوئے بولے-
 " خواجہ صاحب !!! قوموں کی زندگی میں بعد گھڑیاں انتہائ فیصلہ کن ہوتی ہیں ..... عوام کا مقدر کسی ایک شخص کی مُٹھی میں دے دینا بدترین غلامی ہے ..... جب لیڈر ملک سے زیادہ اہم ہونے لگے تو بربادی قوم کا مقدّر بن جاتی ہے .... کیوں نہ چند دن صبر کر کے .... روکھی سوکھی کھا کے .... گزارا کیا جائے .... اور قوم کو سرظفراللہ سے آزاد ہی کرا لیا جائے .... کہیں ایسا نہ ہو وہ گندم کے بدلے قوم امریکہ کے پاس گروی رکھ آئیں .... اور ہماری آنے والی نسلیں آٹے کےلئے ہمیشہ امریکہ کی طرف دیکھتی رہیں .... شاید یہی ہماری اصل آزادی کا نقاّرہ ہو"
 وزیرِ اعظم خاموش ہو کر چھت کے فانوس کو دیکھنے لگے-

No comments:

Post a Comment