عشق_کے_قیدی --16--- ظفرجی
25فروری .... 1953ء .... کراچی
الٹی میٹم کی معیاد ختم ہوگئ-
ہم حاجی گھسیٹا خان حلیم شاپ" پر لنچ اڑا رہے تھے کہ بندر روڈ کی طرف سےایک سفید رنگ کی موٹرکار آتی دکھائ دی- لوگ امڈ امڈ کر اس کار کا استقبال کر رہے تھے- جس کا بس چلتا موٹرکار کو چومتا ، کوئ ہاتھ لگا کر نہال ہو جاتا ، کوئ رومال مس کرتا- غرض کہ عجب منظر تھا- ان حالات میں کار رینگتی ہوئ گورنمنٹ ہاؤس روڈ کی طرف مُڑ گئ-
"کون آیا ہے اس گاڑی میں" میں نے چاند پوری سے پوچھا-
"وہی جن کی دنیا دیوانی ہے بھیّا .... ختمِ نبوّت والے .... اب چھوڑو حلیم اور نکلو " انہوں نے اٹھتے ہوئے کہا-
لکّی اسٹار پر ایک خلقتِ کثیر کھڑی تھی- لوگ پروانوں کی طرح رہنماؤں پر ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے- کراچی والوں کا جوش و خروش دیدنی تھا-
میں بمشکل اتنا ہی دیکھ پایا کہ چھوٹی سی اس کار میں دو بریلوی ، دو دیوبندی ، اور ایک شیعہ عالم سوار ہیں- ابوالحسنات سیّد احمد قادری اگلی سیٹ پر جلوہء افروز تھے- شاید اسی لئے بنا ڈگمگائے چل رہی تھی-
عوام جوش وخروش سے نعرے لگا رہے تھے .... تاج و تختِ ختمِ نبوّت .... زندہ باد !!!
گورنمنٹ ہاؤس پہنچتے پہنچتے ہمیں ایک گھنٹہ لگ گیا-
علماء کا یہ وفد اتمامِ حجّت کےلئے آخری بار وزیرِ اعظم خواجہ ناظم الدین سے ملنے آیا تھا- وفد کی قیادت مولانا عبدالحامد بدایونی کر رہے تھے اور وفد میں ابوالحسنات ، ماسٹر تاج الدین انصاری ، مولانا لال حسین اختر اور مظفّرعلی شمسی شامل تھے-
وزیرِ اعظم بھی شاید وفد ہی کا انتظار فرما رہے تھے- سردار عبدالرب نشتر بھی موجود تھے- وزیرِ اعظم نے حسبِ معمول علماء کا پُرتپاک استقبال کیا اور نہایت ادب و احترام اور عاجزی سے پیش آئے-
" اختر علی خان نظر نہیں آ رہے " وزیرِ اعظم نے ملتے ہی پوچھا-
"وہ بہاولپور میں ہیں ... آج وہاں APNSS کا قیام عمل میں آ رہا ہے" مولانا بدایونی نے وضاحت کی-
" ان کو بلاؤ یار .... سیکرٹری !!! وائ کنگ طیّارہ .... بھِجواؤ " وزیر اعظم نےکہا-
"یس سر !!! " سیکرٹری ڈائری میں نوٹس لینے لگا-
میں نے سرگوشی کی " واقعی وائ کنگ جائے گا مولانا کو لینے ؟ "
چاند پوری آنکھ مارتے ہوئے بولے " ارے نہیں یار .... بادشاہ سلامت کچھ باتیں حالتِ جذب میں بھی کیا کرتے ہیں"
حال احوال پُوچھنے کے بعد وزیرِ اعظم نے کہا:
" امید ہے کہ آپ حجرات دارالحکومت کی عجّت و وقار کا بروبر کھیال رکھے گا "
"ہمٰن اب بھی امید ہے کہ آپ ہمارے مطالبات پر ضرور غور فرمائیں گے" بدایونی صاحب نے کہا-
"دیکھئے .... پائلا بات تو یہ ہے کہ .... میں آپ حجرات کو یہ سمجا دے کہ ختمِ نبوّت کو ہم ایک دم بروبر مانتا ہے .... کیا بولے گا؟؟ لیکن کیا ہے کہ ہم وجیراعجم ہے .... ہمیں بوہت کُس دیکھنا پڑتا ہے .... ملکی سیچوئسن ایسا نئیں ہے کہ کوئ نیا ٹینسن لیا جائے .... پائلے ہی بوہت ٹینسن ہے ... کیا بولے گا ....؟؟ "
" خواجہ صاحب !!! اگر آپ ... اس وفد سے وعدہ ہی کرلیں کہ مسلم لیگ مرزائیت کو دائرہء اسلام سے خارج کرنے کےلئے کابینہ میں قرارداد لائے گی تو ہم اپنی تحریک کو نرم رکھ سکتے ہیں" ابوالحسنات نے کہا-
" دیکھو .... یہ جو مِرجَئ قادیانی کو سرکاری طور پر کافر بنانے کا مؤسئلہ ہے .... یہ تھوڑا کامپلیکیٹڈ ہے .... مطلب ..... سیدھا نئیں ہے .... کیا سمزا ؟ "
" خواجہ صاحب !!! .... یہ مسئلہ تو تکلے کی طرح سیدھا ہے" مولانا لال حسین نے کہا-
وزیراعظم نے کرسی سے پشت لگائ اور بولے:
"دیکھو ملونا .... مرجوئیوں کا دو سیکٹ ہے .... کیا بولے گا ؟؟
ایک سیکٹ جس کو ہم ایمدی بولتا ہے ، وہ مِرجا کو پروفٹ مانتا ہے .... بروبر ؟؟
دوسرا سیکٹ جو ہے ..... لہوری گروپ .... وہ مِرجا کو پروفٹ نئیں بولتا .... امام بولتا ہے .... کیا سَمزا ؟؟
اب کُس کیا بولتا ہے .... کُس کیا بولتا ہے !!!
اب مُسکل یِہ ہے کہ لہوری گُروپ کو کائسے کافر بنایا جائے گا ؟؟ .... اور اس سے بھی بڑا مُسکل جو ہے .... وہ یہ ہے کہ معلوم کیسے پڑے گا کہ فلوں سُسرا مِرجا کو امام مانتا ہے .... اور فلوں پروفٹ .... !!!
اب ریاست جو ہے ..... کیا ایک ایک مرجئ کا لُنگی اٌٹھا کے پُوسے گا کہ تٌم مِرجا کو پروپٹ مانتا ہے .... امام مانتا ہے یا کُس اور مانتا ہے ؟؟ .... مطلب اس میں تھوڑا کامپلیکیسن ہے ... کیا بولے گا ؟؟ "
" دیکھئے خواجہ صاحب " مولانا ابوالحسنات نے کہا- " کریلا صرف کریلا ہوتا ہے ، کچّا ہو ، نیم چڑھا ہو یا پورا پکّا .... لاہوری گروپ جس شخص کو امام مانتا ہے ، اس نے ڈھکے چھپے الفاظ میں نہیں ، ببانگِ دہل نبوّت کا دعوی کیا ہے- اور جو شخص جھوٹے مدعی نبوّت سے عقیدت رکھّے ، اس کےلئے نرم گوشہ اختیار کرے، اسے امام کا درجہ دے یا اصلاح کار سمجھے ، بہرصورت کافر ہے"
" ایک دم بروبر .... ہم صرف یہ بات بولتا ہے کہ بہرحال یہ ایک ناجِک مؤسلہ ہے .... "
اس پر مولانا بدایونی بول اٹھے:
" جناب ہم ہر بار آپ کو مسئلے کی نزاکت ہی تو سمجھانے آتے ہیں .... باہر اگر کوئ شخص سڑک پر کھڑا ہوکر وزیر اعظم پاکستان ہونے کا اعلان کردے ... تو پانچ منٹ میں آپ کی پولیس اسے اور اس کے پیشروؤں کو اریسٹ کر لے گی .... یہاں مسئلہ دعوئ نبوّت کا ہے .... یہ ہم سب کے ایمان کا سوال ہے .... کل ہمیں اپنے رب کے سامنے پیش ہونا ہے .... جواب دینا ہے .... کیا اللہ ہم سے پوچھے گا نہیں کہ میرے نبی ﷺ کے تختِ نبوّت پر ڈاکہ مارنے والوں کو آپ نے وزارتوں کے تاج پہنا رکھے تھے ؟؟ یہ صرف چند مولویوں کا نہیں ... ہر مسلمان کے ایمان کا مسئلہ ہے"
اس دوران سردار عبدالرب نشتر بولے:
" دیکھئے مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے میں ایک اور خسارا بھی ہے غیر مسلم قرار دینے کے بعد ان کے حقوق تسلیم کرنا ہونگے .... اور انہیں باقاعدہ ایوانِ بالا میں سیٹیں دینا پڑینگی"
" ہم مرزائیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے نہیں آئے...." مولانا بدایونی نے وضاحت کی " ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ محمد عربی کا پیروکار اور مرزا قادیانی کا پیشرو ایک خانے میں نہ لکھا جائے .... ان کےلئے الگ الگ خانے ہوں .... تاکہ صحیح معنوں میں جداگانہ انتخابات ممکن ہو سکیں ...."
" آپ کا سب بات ایک برؤبر ہے .... اللہ جانتا ہے کہ ہم بھی مرجوئ کو کافر ہی سمجزتا ہے .... بروبر ؟؟ قانونی بات بھی تُم نے سب سمزا دیا .... لیکن ہمارا مزبوُری ہے .... کاس ہم آپ کا بات مان سکتا .... ہم کو بروبر افسوس ہے .... فی الحال ہمارا ایسا پوزیسن نئیں ہے کہ آپ کا بات مان سکے "
"آپ کی مجبوریاں ہونگی .... " مولانا بدایونی اٹھتے ہوئے بولے- "ہماری کوئ مجبوری نہیں .... ہم تو بس اپنا فرض ادا کرنے آئے تھے .... آپ کے پاؤں میں اگر دنیا داری کی بیڑیاں ہیں .... تو عشقِ رسول ﷺ نے ہمارے بھی ہاتھ باندھ رکھّے ہیں .... فصیلِ ختمِ نبوّت کی حفاظت کےلئے ہم سو بار بھی آپ کے پاس چل کے آنے کو تیّار ہیں .... لیکن ایک قدم پیچھے ہٹنا ہمارے بس کی بھی بات نہیں رہی"
" کیا کریں .... ہمیں اپنا جِمّہ داری بھی تو نبھانا ہے !!! " وزیراعظم نے زچ ہو کر کہا-
" آپ اپنی ذمّہ داری نبھائیں ... ہم اپنا عشق نبھائیں گے " ابوالحسنات نے صوفیانہ وقار سے جواب دیا-
وزیرِ اعظم وفد کے ساتھ چلتے ہوئے گیٹ تک آئے پھر موٹرکار کا دروازہ کھول کر کھڑے ہو گئے- بڑے ادب واحترام سے مولاناابوالحسنات کو سوار کرایا- اکاابرین بھی گاڑی میں بیٹھ گئے- موٹرکار اسٹارٹ ہوئ اور دھواں چھوڑتی ہوئ نظروں سے اوجھل ہو گئ-
وزیرِ اعظم نے جیب سے رومال نکال کر آنکھیں صاف کیں اور نشتر صاحب کو ساتھ لئے تھکے قدموں سے واپس دفتر کی طرف چل دیے-
ہم سڑک ناپ کر سیدھا لکّی اسٹار پہنچے اور ایک کھوکھے پر بیٹھ کر چائے پینے لگے-
ریڈیو پاکستان کراچی مذاکرات کی جھوٹی سچّی خبریں دے رہا تھا- عوام کو مذاکرات میں پیش رفت کی گھاس کھلائ جا رہی تھی- شرپسندوں پر کڑی نظر رکھنے کی تاکید کی جا رہی تھی اور ملک میں امن و امان اور شانتی کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا تھا-
خبروں کے بعد محسن بھوپالی کی غزل نشر ہوئ تو میری بھی آنکھیں بھیگ اُٹھیں :
چاھت میں کیا دنیا داری ، عشق میں کیسی مجبوری
لوگوں کا کیا سمجھانے دو ، ان کی اپنی مجبوری
میں نے دل کی بات رکھی اور تونے دنیا والوں کی
میری عرض بھی مجبوری تھی ان کاحکم بھی مجبوری
روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
کچّی مٹّی تو مہکے گی ہے مٹّی کی مجبوری


No comments:
Post a Comment