ISHQ KY QAIDI EP#17


عشق_کے_قیدی --17--- ظفرجی

25 / 26 فروری .... 1953ء .... کراچی
پورا دِن افواہوں اور چہ میگوئیوں میں گزر گیا-
 حکومت آخری چارے کے طور پر "مولویوں" کو توڑنے کی جدوجہد کرتی رہی جو کسی بانڈ کی طرح آپس میں جُڑ چُکے تھے- کچھ روز پہلے ہی مولانا لال حسین اختر کی کوششوں سے مولانا احتشام الحق تھانوی اور مولانا مفتی محمد شفیع کی صلح ہوئ تھی- اب حکومت پورا زور لگا کر اہلِ تشیع کو تحریک سے الگ کرنے کی کوشش کر رہی تھی- پہلے سیّد مظفرعلی شمسی صاحب کو اکیلا وزیرِ اعظم ہاؤس طلب کیا گیا- ڈرایا دھمکایا گیا- پھر ریڈیو پر وزیر اعظم کا یہ بیان سُنا گیا:
" با اثّر علماء ہمارے ساتھ ہیں !!! "
" شمسی صاحب اور مودودی صاحب تو گئے !!!  " میں نے خیال ظاہر کیا-
 " شمسی صاحب ایسا نہیں کریں گے .... ہاں مودودی صاحب کے بارے میں کہ سکتے ہیں کہ وہ عوامی مظاہروں کے حق میں نہیں .... وہ اس جنگ کو قانونی طریقے سے لڑنا چاھتے ہیں .... البتہ عوامی مزاج کچھ اور ہے"
ہم آرام باغ کے مخملی گھاس پر بیٹھے سموسے کھا رہے تھے-
کچھ  ہندو خاکروب باغ کی صفائ میں مصروف تھے- رات کو یہاں مجلس عمل کا جلسہ ہونے والا تھا-
 " یہ وہی جگہ ہے جہاں کبھی رام اور سیتا نے اپنے دن بتائے تھے " چاند پوری بول اُٹّھے-
" ایک نئ افواہ !!! " میں نے کہا-
 "یقین کرو .... اس کا نام " رام باغ " تھا .... جو بگڑ کر آرام باغ ہو گیا "
"واہ !!! بڑی تاریخی جگہ ہے .... اچھا  اور کیا کیا ہوا تھا اس باغ میں ؟ " میں نے سموسے کھاتے ہوئے چاندپوری کو مصروف رکھنے کی کوشش کی-
"جنگِ آزادی 18577ء کے مجاھدین کو توپوں سے باندھ کر اُڑایا گیا تھا اسی باغ میں " انہوں نے انکشاف کیا-
 " اللہ اکبر .... اس لحاظ سے تو اس کا نام " خونی باغ " ہونا چاھئے تھا "
"19477ء میں ہزاروں مہاجرین آ کر ٹھہرے تھے اسی باغ میں .... تب سے اسے آرام باغ کہا جانے لگا"
"سبحان اللہ .... پھر تو آرام باغ ہی ٹھیک رہے گا-"
ایک ہاکر ہمارے پاس سے گزرا تو میں نے شام کا اخبار خریدا-
 " یہ ہمارے وزیرِ اعظم جانے کس دھرم کے ہیں .... پل میں تولہ پل میں ماشہ ... " میں نے کہا-
"کیوں کیا فرماتے ہیں ...؟؟ "
ا "فرماتے ہیں کراچی ہماری راجدھانی ہے ....  باہر سے آنے والے چند مُلاں یہاں قبضہ نہیں کر سکتے "
 " دیکھو دوست .... سیاسی ، سائنسی اور سنیاسی کا کوئ دھرم نہیں ہوتا .... یہ اپنی سوچ کے خود خُدا ہوتے ہیں"
"واہ کیا بات کہی !!!  .... سبحان اللہ !!! " میں نے آخری سموسہ لپیٹتے ہوئے کہا-
رات ہوتے ہی جہانگیر پارک میں سرفروشوں کا میلہ سج گیا-
 تین روزہ ختمِ نبوّت کانفرنس کا آج آخری جلسہ تھا- شام ہوتے ہی لوگوں کے ٹھٹھ لگ گئے- پارک میں تِل دھرنے کو جگہ نہ رہی تو لوگ ادھر ادھر عمارتوں کی چھتّوں پر چڑھ گئے-کم و بیش ایک لاکھ کی حاضری تھی- جلسے کا نظم وضبط اور حاضرین کا جوش و خروش مثالی تھا- اور اس جوش و خروش کی سب سے بڑی وجہ کراچی کے دو بڑے علماء کے بیچ ہونے والی صلح تھی-
 مولانا احتشام الحق تھانوی اور مولانا شفیع پہلی بار ایک اسٹیج پر ظاہر ہوئے تو متحارب فرقوں کے پرجوش کارکنوں بے اختیار اٹھ کر ایک دوسرے کو گلے لگا لیا-
 علامہ مظفّر علی شمسی اسٹیج پر نظر آئے تو عوامی نعروں سے پورا باغ گونج اُٹھا :
" شمسی صاحب جواب دو .... آپ کس کے ساتھ ہو !!! "
 لوگ اس پروپیگنڈے کا توڑ چاھتے تھے جو ان کی وزیراعظم سے تنہا ملاقات کے بعد پیدا ہوا تھا-
 شمسی صاحب بھی دن بھر کے دباؤ کی وجہ سے خوب تاؤ میں تھے مائک پر آئے تو جوش و جزبات کے سمندر بہا دیے:
 "خواجہ صاحب فرماتے ہیں .... کراچی میری راجدھانی ہے اور ہم باہر سے آئے ہوئے چند بے قیمت مُلاں ہیں ...؟؟
کراچی والو !!! بتاؤ ... کراچی کس کی ہے ؟؟؟ خواجہ ناظم الدین کی ؟؟ "
مجمعے سے شور اُٹھا "نہیں ... نہیں "
" یا فدایانِ ختمِ نبوّت کی ؟؟ .... بتاؤ بتاؤ !!!! "
" آج تاریخ اپنے آپ کو دُہرا رہی ہے ..... کیا حسین رض کے نانا کا دین یتیم ہو گیا ہے ؟؟
کیا کراچی ہمارے لیے کوفہ بن گیا ہے ؟؟
 خواجہ صاحب سن لیجئے !!! ہم یہاں سوداگری کرنے نہیں آئے .... نہ ہی تمہاری کرسی چھننے آئے ہیں ... سرکارِ مدینہ ﷺ کا تاجِ نبوّت خطرے میں گھرا ہے ... ہم حکومت سے ناموسِ رسالت کی یقین دھانی مانگنے آئے ہیں .... ہمیں وزارت نہیں چاھیے ، دولت نہیں چاھیے ، ہم اسلام کے بنیادی مسئلے کی خاطر تمہارے پاس آئے ہیں اور تُم کہتے ہو کراچی میری راجدھانی ہے ؟؟؟ وزیرِ اعظم صاحب !!!!.... ذرا ہاؤس سے باہر آئیے .... اور آ کر دیکھئے کہ کراچی کس کی راجدھانی ہے ؟؟؟ "
ہر شخص دیوانہ و مستانہ ہوا جاتا تھا- لوگ اسی وقت جیل جانے کو تیّار تھے- جب شمسی صاحب نے پوچھا کہ ناموسِ رسالت کےلئے کون کون جیل جانا چاھتا ہے تو مجمع بے قابو ہو کر اسٹیج پر ٹوٹ پڑا-
 اس موقع پر ماسٹر تاج الدین نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا:
 "ہم خواجہ صاحب سے التجاء کرتے ہیں .... کہ وہ عوام کے مطالبات پر کان دھریں ... ابھی رات باقی ہے .... صبح ہمیں بلوا لیجئے .... تسلّی سے سوچئے .... ایک بار پھر غور کر لیجئے .... اور قوم کو نیک فیصلے سے سرفراز کیجئے .... ہم آپ سے الجھنے نہیں آئے .... نہ ہی شہر کا امن تباہ کرنا چاھتے ہیں .... ہماری اب بھی دلی دعا ہے ... کہ کل کا سورج کسی سمجھوتے کی نوید بن کر ابھرے .... خدارا قوم کے متفقہ مطالبات مان لیجئے .... اللہ آپ کو اس کی توفیق دے ..... امین ... ثم امین !!!"

⊙------------⊙

حضرت امیرِ شریعت نے جزبات سے بھرپور تقریر کی اور عشقِ مصطفی کا حق ادا کر دیا- کوئ آنکھ نہ تھی جو عشقِ مصطفی میں پرنم نہ تھی-اور کوئ دل ایسا نہ تھا جو عشق رسول میں تڑپ نہیں رہا تھا:

" قُل اِنّ صلاتیِ ----- وَ نُسُکیِ ----- وَ مَحیَایَ ----- وَ مَمَاتیِ ----- لِلّہِ ----- رَبِ العالمین ----- بے شک ----- میری نماز ----- میری قربانی ----- میرا جینا ----- میرا مرنا ----- اللہ کےلئے ہے ----- جو سارے جہانوں کا رب ہے -----
لا نبی بعد محمد ﷺ ----- لا امت بعد امت محمد ﷺ ----- کراچی والو !!!! یاد رکھّو ----- یہ نماز ، یہ روزہ ، یہ حج ، یہ زکوہ ، یہ شریعت ، یہ طریقت ، یہ حقیقت ، یہ تہذیب ، یہ تمدّن ، یہ اخلاق ، یہ مذھب ، یہ پُورا دینِ اسلام حضور ﷺ کی ختم المرسلینی کے گرد طواف کر رہا ہے ----- !!!
’مسلمانو ----- !!! ختم نبوت کے عقیدہ کو یوں سمجھو جیسے یہ ایک مرکزِ دائرہ ہے ----- جس کے چاروں طرف توحید، رسالت، قیامت، ملائکہ کا وجود، صحف سماوی کی صداقت، قرآنِ کریم کی حقانیت و ابدیت، عالم قبر و برزخ، یوم النشور یوم الحساب گردش کرتے ہیں۔ اگر یہ اپنی جگہ سے ہل جائے تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ دین نہیں بچے گا، بات سمجھ میں آئی -----؟؟
 مزید سمجھیے ----- !!! جس طرح روشنی کے تمام مراتب عالم اسباب میں آفتاب پر ختم ہو جاتے ہیں ----- اسی طرح نبوت و رسالت کے تمام مراتب و کمالات کا سلسلہ بھی حضور رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجودِ مسعود پر ختم ہو جاتا ہے ----- آپ کی نبوت و رسالت وہ مہر درخشاں ہے جس کے طلوع کے بعد اب کسی روشنی کی مطلق ضرورت نہیں رہی ----- سب روشنیاں اسی نور اعظم صلی اللہ علیہ وسلم میں مدغم ہو گئی ہیں ----- جبھی تو مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر آج موسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں زندہ ہوتے تو انھیں بھی بجز میری اتباع کے چارہء کار نہ ہوتا ------ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو آخر زمانہ میں تشریف لائیں گے تو نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ ابوبکرؓ و عمرؓ کی طرح امتی اور خلیفہ کی حیثیت سے --------
حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص بھی ختم نبوت کے تخت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا، ہم اس پر قہر الٰہی اور صدیق اکبرؓ کا انتقام بن کر ٹوٹ پڑیں گے ------ !!""‘‘

صاحبزادہ سیّد فیض الحسن تقریر کےلئے اسٹیج پر آئے تو کسی مُرید نے ان کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈال دیا- انہوں نے وہ ہار نوچ پھینکا اور کہا " یہ وقت ہار پہننے کا نہیں میرے عزیز !!! ... سرکارِ دوعالم ﷺ کی آبرو کو خطرہ ہو اور میں پھولوں کے ہار پہنتا پھِروں ؟؟ ہتھکڑیاں پہننے کا موسم ہے .... بیڑیاں پہننے کا موسم ہے .... ہمیں پابہ زنجیر کر کے دیکھو .... ہمیں زندانوں میں پھینکو .... ہمارے جسم کو ادھیڑ کے رکھ دو .... پھر دیکھو ہمارے ماتھے پہ شکن بھی آتی ہے کہ نہیں !!!!"
آرام باغ کی فضاء فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی-
نعرہء تکبیر .... اللہُ اکبر !!!!
تاج وتخت ختم نبوّت .... زندہ باد!!!!
 رات گیارہ بجے ایک نیلے رنگ کی کار بندر روڈ سے آرام باغ کی طرف مُڑی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئ جلسہ گاہ کے قریب آ گئ-
 سیاہ شیشوں والی اس گاڑی میں اسٹیبلشمنٹ کے دو شاطر کھلاڑی سوار تھے-
ڈیفینس سیکرٹری اسکندر مرزا اور کیبنٹ سیکرٹری مسٹر جی-احمد !!!

متمنی شرکت:
محمد فیصل شہزاد
محمد عرفان السعید
Haider Jee
Yousuf Khan
 Riayatullah Farooqui

No comments:

Post a Comment