ISHQ KY QAIDI EP#18


عشق_کے_قیدی --18--- ظفرجی

26 فروری ---- 1953

رات نصف سے زیادہ بیت چُکی تھی-
نیلے رنگ کی پراسرار کار جلسہ گاہ سے قریب آکر رُک گئ-
 کراچی کے عوام نہایت اشتیاق سے صاحبزادہ فیض الحسن کی تقریر سن رہے تھے جو شب کی جولانی میں ساون بھادوں کی طرح گرج برس رہے تھے-

" انگریز چلا گیا ----- اور اپنی باقیات چھوڑ گیا ------- !!!
ہم نے انگریز کو بھی بھگت لیا --------  تمہیں بھی بھگت لیں گے ------- !!
انگریز کی قید بھی برداشت کی ------- تمہاری بھی برداشت کر لیں گے ------- !!!
 تمہیں آزادی مبارک ہو ----- تم تو پہلے بھی آزاد تھے ------ اب بھی آزاد ہو ------ ہماری آزادی کا سورج تب طلوع ہو گا جب ناموسِ رسالت کا قانون بنے گا ------ جب منکرانِ ختم نبوّت کا فیصلہ ہوگا ------- جب مسلمان کو انصاف ملے گا ---- !!!"

" او مین ہیئر وی گو اگین ..... کون ہے یہ مُلا .... ؟؟ " گاڑی میں بیٹھے سکندر مرزا نے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا-
"احراری ہے .... صاحبزادہ فیض الحسن  ..... تیس ہزار مرید ہیں اس کے ... جہاں جاتا ہے مکھیوں کی طرح پہنچ جاتے ہیں" مسٹر جی احمد نے ونڈ اسکرین سے پار جھانکتے ہوئے کہا-
" مقرّر بھی تو کمال کا ہے .... "
 " میں تو کہتا ہوں واپس چلیں .... ان مُلاؤں کی تقاریر سے مجھے سخت کوفت ہوتی ہے" جی احمد نے مونہہ بنایا-
" نہیں یار .... جلسہ دیکھ کر جائیں گے "  سکندر مرزا نے شیشہ سرکاتے ہوئے کہا-
" ارر...ارے ... شیشہ بند کر بھائ ... سردی آ رہی ہے"  مسٹر جی-احمد جھنجھلا کر بولے-
" کیا تقریر کرتا ہے یہ لڑکا .... ایک دم مست "
"چل پھر اس مستی میں تھوڑی اور مستی بھی شامل ہو جائے !!! "
"کیا ارادے ہیں ؟؟ "
 " زاھد شراب پینے دے جلسے میں بیٹھ کر ... ..." جی- احمد ڈیش بورڈ سے بوتل نکالتے ہوئے بولا-
" مروائے گا باسٹڈ .... کسی مُولوی نے دیکھ لیا تو ؟؟ "
" کم آن یار ... شیشہ اچھی طرح چڑھا دے"  جی-احمد پیگ بناتے ہوئے بولا-
" یار ایک لاکھ بھیڑ بکریاں کیسے کھینچ لاتے ہیں یہ لوگ  .... وِد آؤٹ پبلسٹی .... یاد ہے 14 اگست کو ہم لوگ پرائم منسٹر کی تقریر کےلئے پندرہ سو بندہ مہیّا نہیں کر سکے تھے !!!"
" اسٹریٹ پاور اِز ناٹ اتھارٹی"  جی- احمد نے گھونٹ بھرتے ہوئے زہریلا سا منہ بنایا- " لوگ رات بھر بخاری کی اسپیچ سنتے تھے اور ووٹ صبح جناح کو دے آتے تھے ... یہی پبلک کا مزاج ہے !!! "
 " لیکن اس بار حالات کچھ اور ہیں یار ...." سکندر مرزا سگریٹ جھاڑتے ہوئے بولا " لگتا ہے یہ لوگ مرزائ کو کافر کرا کے ہی دم لیں گے ... تم ابھی سے اپنا کوئ اچھا سا نام سوچ لو .... کھڑک سنگھ کیسا رہے گا ؟؟ "
" ھاھاھاھاھا .... کھڑک سنگھ .... اور تم بھی سوچ لو ....  اسکندر ناتھ !!! "
" کیوں بھائ .... آئ ایم ناٹ کافر !!! "
 " موت سے کس کو رستگاری ہے ... آج ہم کل تمہاری باری ہے .... !!! " جی-احمد نے کہا-
" کیا مطلب ؟ "
"پہلے ایک پیگ لگا.... بتاتا ہوں ... "
"یار تو بھی ناں .... مروائے گا .....  چل اب بتا .... میں کیسے کافر ہوا " اسکندر جام چڑھاتے ہوئے بولا-
" دیکھ ....... آج اگر مرزائ کافر قرار دے دیا گیا ناں .... تو کل اگلا نمبر شیعہ کا ہو گا !!!! "
" امپاسبل .... شیعہ از ناٹ اے کوئسچن  ... !!! " سکندر سگریٹ مسل کر بولا-
" دی گیم وِل اِینڈ سُوون اینڈ کوئسچن وِل رائز .....  یہ عارضی گٹھ جوڑ ہے بھائ ..... آج احمدی کے خلاف سب ایک ہیں .... کل شیعہ کے خلاف ایک ہونگے"
" شیعہ کے خلاف کیوں ؟؟ "
" دیکھ ..... جب جنگل میں سوکھا پڑتا ہے ناں ....  تو شیر ، چیتا اور نیل گائے ایک تالاب پر راضی ہو جاتے ہیں .... اسے واٹر ٹروس کہتے ہیں .... برسات میں یہ ٹروس جب ٹوٹتا ہے تو شیر چیتا مل کر نیل گائے کا شکار کرتے ہیں .... سمجھے یا کوئ اور مثال دوں ؟؟ "
" شیعہ از اے سیکٹ آف اسلام .... وہ احمدی کی طرح لوکل آئٹم تھوڑی ہے بھائ !! " سکندرمرزا نے کہا-
" ارے مرے برانڈڈ آئٹم دیکھ .... وہابی ، سُنّی  میں لاکھ اختلافات سہی ... لیکن جب بھی کڑا وقت آتا ہے .... ایک اُمّت بن جاتے ہیں ... کیوں ؟؟ .... اس لئے کہ سواد اعظم ایک ہے .... جبکہ شیعہ ایک اقلیّت ہے .... وِد ریسپیکٹ ٹو سوادِ اعظم !!! "
" شیعہ کیسے اقلیّت ہو گیا ؟؟ .... ہی از پارٹ آف گیم یار !! "
" ہاں ... لیکن اندر کی گیم کچھ اور ہے .... مولوی اپنا کام نکالنے کےلئے شیعہ کو استعمال کر رہا ہے .... کام نکل جائے گا تو اختلافات شروع !!!"
" اختلافات تو سب فرقوں میں ہیں پھر .... "
"بات اختلافات کی نہیں سوادِ اعظم کی ہے .... "
"یہ قائد اعظم کہاں سے آ گئے یار بیچ میں ؟؟ "
" لگتا ہے کچھ زیادہ ہی چڑھ گئ ہے .... قائد اعظم نہیں مائ  لارڈ .... سوادِ اعظم .... سپریم اتھارٹی آف مُسلم میجارٹی ... حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی .... یہ سب ایک سوادِ اعظم ہے .... بَٹ .... شیعہ اِز اے کوائِٹ ڈِفرنٹ ریلیجئس چین !!! "
 "مطلب ... ان حالات میں شیعہ کو کیا کرنا چاھئے؟؟ "سکندر مرزا پریشان ہو گئے-
 "مرزائیت کا ساتھ دینا چاھئے ... اور کیا کرنا چاھئے ؟ آج سوادِ اعظم ہمارے خلاف ایک ہے .... کل شیعہ کے خلاف ایک ہوگا .... آج احمدی اکیلا ہے .... کل شیعہ تنہا ہوگا .... ایک ایک کرکے کُفر کے گڑھے میں دفن کریں گے ہمیں !!! " جی احمد نے کہا-
" آئ ڈونٹ بیلیو آن اِٹ !!! " سکندر مرزا نے کہا-
 " اسی لئے تو کہتا ہوں کارل مارکس کو چھوڑ .... اور مذھبی کتابیں پڑھا کر .... یقین آ جائے گا "
" اوہ مائ گوش !!! اس کا مطلب ہے  شمسی اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے چلا ہے .... " سکندر مرزا کی آواز ڈگمگانے لگی-
" آف کورس !!!!  ...... شمسی از اے میڈ !!! .... وہ اسی شاخ کو کاٹ رہا ہے جس پر خود بیٹھا ہے !!! "
"ویری ڈینجرس !!! " سکندر مرزا نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی-
" ناٹ اونلی ڈینجرس .... اٹس سوسائیڈل  !!! ..... آج ہی ان سب کو اریسٹ کرو .... صبح ہونے سے پہلے پہلے ..... بہت ہو چکا تماشا .... اسی میں ہم سب کا بھلا ہے .... باقی رہی پبلک .... جب لیڈر اندر ہونگے .... تو پبلک خودبخود شانت ہو جائے گی ... چلو اب نکلو یہاں سے ..... "
"کہاں ؟؟ "
"وزیراعظم ہاؤس ..... اور کہاں ؟؟
"اس وقت ؟ گیارہ بج رہے ہیں یار !!! "
" گیارہ نہیں میرے یار .... ایک بجا ہے رات کا  .... وقت بہت کم ہے !!! "
"لیکن .... پلان کیا ہے ؟؟ "
" سمجھاتا ہوں .... سمجھاتا ہوں ... "
 "اچھا ...... یہ .... قائدِ اعظم والی بات ...... بھی .... مجھے .... ذرا .... پھر سے .... سمجھا دینا ... " اسکندر مرزا بڑبڑایا-
"قائداعظم نہیں لارڈ ماؤنٹ بیٹن ......... سوادِ اعظم !!! "
 یہ کہ کر جی احمد نے گاڑی ریورس کی اور گورنمنٹ ہاؤس کی طرف بڑھا دی-

No comments:

Post a Comment