عشق_کے_قیدی --5--- ظفرجی
10 اگست .... 1952ء .... موچی گیٹ لاہور
عوام کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر میرے سامنے تھا-
کم و بیش ایک لاکھ کا مجمع تھا- کیا بچّے ، کیا بوڑھے ، کیا جوان ، ہر رنگ ، نسل اور فرقے کا مسلمان یہاں آیا ہوا تھا- لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا- تحریکِ ختمِ نبوّت ایک نئے دور میں داخِل ہو رہی تھی- فرقہ بندی کی دیواریں گر چکی تھیں اور امت مسلمہ ایک مٹھی کی صورت جمع ہو چکی تھی-
چاند پوری اور میں جلسہ گاہ سے رستہ بناتے ہوئے اسٹیج کی طرف جا رہے تھے-
" یہ عشقِ رسول ﷺ کی بازی ہے بھائ ..... کوئ جیتے یا ہارے ، کسے پرواہ ہے ..... اس سعادت سے لیکن کوئ محروم نہیں رہنا چاھتا .... دیکھو لوگ شیر خوار بچے تک اٹھا کر لائے ہوئے ہیں .... ایسے پنڈال کوئ روز تھوڑی سجا کرتے ہیں "
سامنے ہی قائدین کےلئے ایک بہت بڑا اسٹیج بنایا گیا تھا- ھم اسٹیج سے کچھ دور آلتی پالتی مار کر زمین پر بیٹھ گئے- گلدستہء نعت کی خوشبو عاشقانِ مصطفی ﷺ کے دلوں کو مشکبار کئے جا رہی تھی-
دلوں کے گلشن مہک رہے ہیں ، یہ کیف کیوں آج آرہے ہیں
کچھ ایسا محسوس ہو رہا ہے حضور ﷺ تشریف لا رہے ہیں
حاضرین وجد میں برابر جھوم رہے تھے- اس دور میں نہ تو ابھی نعت کا بٹوارا ہوا تھا ، نہ ہی پگڑیوں کی تقسیم - اختلاف کے باوجود باہمی احترام باقی تھا- فرقہ فرقہ ملّت باہم ایک کاز پر متحد ہو رہی تھی- سب جانتے تھے کہ خُدا کو راضی کرنے کے طریقوں میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن حُبِّ رسول ﷺ کی اب صرف ایک ہی کسوٹی ہے....ختم نبوّت پر غیر متزلزل ایمان:
نہ پاس ہو ں تو ہے سُونا ساون ، وہ جس پہ راضی وہی سہاگن
جنہوں نے پکڑا نبی کا دامن ، اُنہی کے گھر جگمگا رہے ہیں
سِول کپڑوں میں ملبوس سرکاری اہلکار اور مرزائ جاسوس عشق کی وہ ساندھ سونگتے پھرتے تھے جو ہمیشہ ہواؤں کے مخالف پھیلتی ہے- عجب سماں تھا- لوگ گھروں سے بستر ، مصلّے ، برتن تک اٹھا کر لے آئے تھے- کہیں نوافل کا اہتمام چل رہا تھا ، کہیں قران کی تلاوت ہو رہی تھی ، اور کہیں بڑے بوڑھے سر جوڑے آنے والے حالات کے بارے میں سرگوشیاں کر رہے تھے- :
کہیں پہ رونق ہے میکشوں کی ، کہیں پہ محفل ہے دل جلوں کی
یہ کتنے خوش بخت ہیں جو اپنے ، نبی کی محفل سجا رہے ہیں
سیّد مظفر علی شمسی کی تقریر سے جلسہ کا آغاز ہوا:
" اے فرزندانِ اسلام ------- آج چشمِ فلک عجب نظارہ دیکھ رہی ہے -------- آج امّت ایک مؤقف پر ڈٹ چکی ہے .......!!!!!
مرزائیو ------ !!! .... آؤ ------ اور آکر دیکھ لو ------- رسول اللہ ﷺ کی امّت ------ آج باہم متحد ہو کر تمہارے "الفضل" اخبار کے دعووں کی دھجیاں اڑا رہی ہے -------- تم کہتے تھے ناں ------ شیعوں اور سُنیوں میں اختلاف ہے ------- تم ہمیں مشورہ دیتے تھے ناں ------- کہ اس جھگڑے میں نہ پڑو یہ سُنیوں کا مسئلہ ہے ------- آؤ اور آ کر دیکھ لو ------- آج شیعہ اور سنّی ختم نبوّت پر کندھے سے کندھا ملائے کھڑے ہیں ------ تم خوش تھے ناں کہ امّت کی قباء تار تار ہو چکی ------ امّت باہم برسرِ پیکار ہو چکی ------ آج مایوس ہو جاؤ کہ تمہاری کوششیں خاک میں مل گئیں ------- ختمِ نبوّت کےلئے اگر شیعوں کو دیوار میں زندہ بھی چنوا دیا گیا تو خنداں پیشانی سے برداشت کر لیں گے ------ لیکن ناموسِ رسول ﷺ پر کوئ سودا نہیں کریں گے ---- !!!!! "
اس کے بعد صاحبزادہ فیض الحسن ، شیخ حسام الدین ، مولانا سعید احمد قادری ، مولانا مرتضی میکش ، مولانا غلام احمد ترنّم اور دوسرے مقررین نے تقاریر کیں-
رات گیارہ بجے اس شیر کی آمد ہوئ کہ جس کے انتظار میں لوگ بستر چھوڑ کر یہاں آئے ہوئے تھے-
امیرِ شریعت اسٹیج پر تشریف لائے تو فضاء دیر تک نعرہ ہائے تکبیر اور ختم نبوّت زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی-
صلوہ و سلام کے بعد آپ نے فرمایا :
" قادیان کے جھوٹے نبی کے امتیوں نے ----- ربوہ میں ایک متوازی حکومت قائم کر رکھّی ہے ----- ربوہ میں اسلحہ تیّار ہو رہا ہے ------- زمین دوز قلعے تعمیر ہو رہے ہیں ------ متوازی عدالتی لگ رہی ہیں ------ اور اربابِ حکومت خاموش ہیں ---؟؟
وزیرِ اعلی سوئے ہوئے ہیں -------؟؟
میں پوچھتا ہوں کیوں ------؟؟؟؟
آخر یہ ماجرا کیا ہے ------- ؟؟؟ تمہیں کیوں سانپ سونگھ گیا ہے ------- ؟؟؟
دولتانہ صاحب ----- !!! ایک آزاد ملک میں دو دو نظام چل رہے ہیں اور تم لاہور میں مزے سے بیٹھے ہو ------؟؟؟
پچھلے دنوں ایک من سترہ سیر بارود ربوہ میں گیا ہے اور آپ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ------؟؟
مرزا بشیر کہتا ہے رضاکاروں کی تربیّت ہو رہی ہے ----- ارے بھئ کون سے رضاکار -----؟؟ رضاکار کون سا بارود استعمال کرتے ہیں ------؟؟؟ مسلم لیگ کے رضاکاروں نے سن سنتالیس میں کتنا بارود استعمال کیا تھا -----؟؟؟
دولتانہ صاحب -------- !!!! ڈرو اس وقت سے جب پانی سر سے اونچا ہو جائے !!!! "
لوگ بڑی توجّہ سے امیرِ شریعت کا خطاب سُن رہے تھے- پورا پنڈال ہمہ تن گوش تھا-
" تم کہتے ہو یہ احراریوں اور احمدیوں کا مسلہ ہے --------؟؟؟
ہونہار وزیرِ اعلی صاحب ----- !!! یہ مرزائ اور کالی کملی والے کے غٌلاموں کا مسئلہ ہے -------!!!!
یہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے ---- یہ عالمِ اسلام کا مسئلہ ہے -------- !!!!
یہ جس قدر بخاری کا مسئلہ ہے اسی قدر ممتاز دولتانہ کا مسئلہ ہے ------ !!!
اور اگر تُم پھر بھی بضد ہو کہ یہ صرف احراریوں کا مسئلہ ہے تو سن لو ------ میں اسے اپنا مسئلہ کہنے میں سعادت محسوس کرتا ہوں ------ ایک ایک احراری ختم ہو جائے گا ------ مگر آلِ محمد ﷺ اور ناموسِ رسالت ﷺ پر کسی بدبخت کو انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں دے گا ----- !!!! "
اس پر نعرہ ہائے تکبیر اور ختمِ نبوّت زندہ باد کے نعروں سے پنڈال گونج اٹھا-
" تم کہتے ہو احراری فتنہ و فساد بھڑکانا چاھتے ہیں ------- ؟؟؟؟
یعنی وہ جو ڈیڑھ من بارود لیکر بیٹھے یوئے ہیں وہ امن پسند ہیں --------- اور ہم فسادی ؟؟
تم کہتے ہو احرار والے حکومت میں حصّہ چاھتے ہیں ---------- ؟؟؟
میں کہتا ہوں اگر مسئلہ ناموسِ رسالت کا نہ ہوتا تو ہم تُم لوگوں سے بات بھی نہ کرتے ------- !!!
آج اُس کملی والے ﷺ کے صدقے تمھارے آستانوں پہ جانا پڑتا ہے ------ !!!!
تمھارے سامنے جھکنا پڑتا ہے --------گڑگڑانا پڑتا ہے ------- !!!!
اس لئے کہ تم دوست اور دشمن کی پہچان نہیں رکھتے ------ !!!
اگر حکومت کرنا چاھتے ہو تو باخبر رہ کر کرو ----- ہم کبھی تمھارے رستے میں نہیں آئیں گے ------ اور اگر درویشی ہی اختیار کرنی ہے تو پھر دونوں جہانوں سے بے خبر ہو جاؤ ---- "
رات کے دوبجے کا وقت ہوا تھا اور شاہ جی فرما رہے تھے :
خواجہ ناظم الدین صاحب !!! ----- میری بات کان دھر کے سنو !!! میں تُمہیں مسلمان کی حیثیت سے نبی کریم ﷺ کا واسطہ دیتا ہوں ----- مجلس کے مطالبات مان لو ----- میں تیری مُرغیوں کو ساری عُمر دانہ ڈالوں گا ---- اور تیری جوتیاں اپنی داڑھی سے صاف کروں گا ----- ناموسِ رسالت ﷺ کا قانون بنا کر ہمیں دے دو ---- "
شاہ جی کے ان الفاظ پر مجمع ہچکیاں لے لے کر رو رہا تھا- کیا بچّے ، کیا بوڑھے ، سب کی آنکھیں برس رہی تھیں- اور عشقِ رسول ﷺ کی تجلّی سے دل موم ہو رہے تھے ---- !!!


No comments:
Post a Comment