ISHQ KY QAIDI EP#6


عشق_کے_قیدی --6--- ظفرجی

14 اگست .... 1952ء .... چک ڈگیاں

صبح آٹھ بجے ہم چک ڈگیاں پہنچ گئے-
 دریائے چناب کے کنارے ضلع چنیوٹ کا یہ چھوٹا سا گاؤں اپنی ظاہری خوبصورتی اور محل وقوع کے لحاظ سے بہت خوبصورت تھا- سبزے کی بہار اور پسِ منظر میں بلندو بالا کوہسار نے اسے جنّت نظیر بنا رکھا تھا- پانچ سال پہلے سرظفراللہ کی "برکت" سے اسے "ربوہ" بنایا گیا تھا- ان دنوں ملک بھر میں ربوہ کے ڈنکے بج رہے تھے-
 داخلی چوکی پر تعیّنات پولیس والوں کو چاند پوری نے ایک سفارشی چٹّھی دکھائ ، جو کسی "ماجد شریف سرامکی والے" کی طرف سے لکھی گئ تھی- پولیس والوں نے ہماری جامعہ تلاشی لی- اور ایک گول کمرے میں چھوڑ آئے- یہاں ایک گورا چٹّا جوان کیمرہ لگائے بیٹھا تھا- ہمیں باری باری ایک اسٹول پر بٹھایا گیا- فوٹو کشی کے بعد ہماری تصاویر ڈیویلپ ہونے تک ہمیں بغلی کمرے میں دھکیل دیا گیا-
کمرے میں لگے ایک قد آدم پورٹریٹ کو دیکھ کر میں چونک اٹھا-
"یہ بزرگ کون ہیں ؟؟ " میں نے سرگوشی کی-
 "یہی تو ہیں خلیفة القادیان جو اب خلیفہُ پاکستان بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں"
 تصاویر تیار ہو گئیں تو ہمیں ایک تیسرے روم میں لے جایا گیا ، یہاں ہمارے فنگر پرنٹس لیکر ایک فارم ہمارے حوالے کیا گیا جسے لیکر ہم ایک چوتھے کمرے میں آ گئے- یہاں ایک سرسری انٹرویو کے بعد ہمارے کاغذات پر ربوہ کی انٹری اسٹیمپ لگا کر ہمیں پاس مہیا کر دیے گئے-
ربوہ کا "ویزا" لے کر اب ہم قصبے میں آزاد گھوم رہے تھے-
 یہاں کی ترقّی دیکھ کر میری آنکھں خیرہ ہو گئیں-قصبے میں ایک مکان بھی کچّا نہ تھا- یہاں کے ساٹھ فیصد لوگ سرکاری ملازم تھے اور ہر برسرروزگار شخص پر لازم تھا کہ وہ اپنی کمائ کا دس فیصد انجمن کےلئے ضرور وقف کرے-
"پہلے باغ بہشت سے نہ ہو آئیں" چاند پوری نے تجویز پیش کی-
"باغِ بہشت ؟؟ "
 "مرزائیوں کا قبرستان جہاں تحریک کو چندہ دینے والے دفن کئے جاتے ہیں"
 ہم نام نہاد بہشتی مقبرے میں داخل ہوئے - سرسبزو شاداب ہونے کے باوجود یہاں ایک عجیب سی ویرانی تھی- تحریک کو عمر بھر زرتعاون مہیا کرنے والے یہاں دفن کئے جاتے تھے ، دوسری طرف ایک اجاڑ سا ویرانہ تھا جہاں تحریک کے باغی یا موافقت نہ کرنے والے گاڑے جاتے تھے-
 چاند پوری نے عین قبرستان کے بیچ جا کر دعا کےلئے ہاتھ آٹھا دیے- میں نے پہلے تو انہیں حیرانی سے دیکھا .... پھر دعا کے الفاظ سن کر آمین آمین کرنے لگا:

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
 اے ہمارے رب ھدایت کے بعد کہیں ہمارے دلوں کو کجّی میں مبتلا نہ کر دیجئو ، ہمیں اپنے خزانہء فیض سے رحمت عطاء کر کہ تو ہی فیاضِ حقیقی ہے-
دعا کے بعد وہ نمّدار آنکھوں سے بولے:
 " یار دیکھو کتنے ہی نادان لوگ سیدھی راہ سے بھٹک کر اس رستے پر چل نکلے جو سوائے جہنّم کے اور کہیں نہیں جاتا- آخرت کی منازل میں سے پہلی منزل قبر ہے ، جہاں تین سوالات میں سے ایک سوال خاتم النبیّن ﷽ کے بارے میں بھی ہوگا- کیا جواب دیں گے ؟ ھدایت ملنے کے بعد بھٹک جانا انسان کی سب سے بڑی کم نصیبی ہے"
سامنے ایک چاردیواری میں کچھ قبریں تھیں- چاردیواری پر لکھا تھا:
 " یہاں جو لوگ مدفون ہیں انہیں موقع ملتے ہی قادیان کے قبرستان میں منتقل کر دیا جائے گا"
 دیوار پر ایک ٹیلی فون بھی نصب تھا - جو اس ویرانے میں یقیناً بڑا عجیب لگ رہا تھا-
" حضرت یہ ٹیلی فون یہاں کس لئے لگایا گیا ہے ؟"
 " ہو سکتا ہے یہاں کے مُردوں کا قادیان کے مُردوں سے فون پر رابطہ ہو" چاندپوری نے جواب دیا-
 اتنی دیر میں انگریزی کوٹ پہنے خشخشی داڑھی والا ایک شخص بغل میں رجسٹر دبائے ہماری طرف چلا آیا اور بڑے اخلاق سے جھک کر بولا :
" نوُر مرزا .... مہتمم بہشتی مقبرہ ..... کتھوں آئے او سرکار ؟؟"
"لاہور سے" چاند پوری نے جواب دیا-
"ماشاءاللہ .... سبحان اللہ .... احمدی مسلک آ ؟؟"
 " نہیں جناب .... فی الحال تو مسلمان ہیں .... آگے چل کر حکومت جانے کیا بنا دے"
" دیکھو جی .... دین وچ تے اختلافات چلدے ای رہندے نیں ...  اسی بحث نئیں کردے .... اے دسّو کہ .... بہشتی مقبرہ ویکھ کے تُسّی کی محسوس کیتا ؟؟"
"ہم نے کچھ سوالات محسوس کئے ہیں ... اگر ناراض نہ ہوں تو ..... "
" ہاں جی .... بسم اللہ .... ضرور پُچھو !!! " وہ بڑی چاپلوسی سے بولا-
"آپ کو کیسے یقین ہے کہ یہاں دفن ہونے والے سب جنتی ہیں"
نُور کچھ دیر تک سوچتا رہا پھر میسنا سا ہو کر بولا:
" اللہ دی ذات توں امید تے کیتی جا سکدی اے ناں سرکار !!! "
 " لیکن ہم نے سنا ہے کہ بہشت کا جھانسہ دے کر آپ مرزائیوں سے جبری چندہ وصول کرتے ہیں ؟؟ کیا یہ درست ہے ؟؟ "
" نئیں سرکار .... جبری کوئ نئیں لیندا .... لوگ خوشی نال  خیرات کردے نیں .... فی سبیل اللہ !!!"
" اور اگر کوئ غریب شخص خیرات نہ دے سکے تو .... "
"کوئ مسئلہ نئیں .... اپنی اپنی توفیق دی گل اے .... برکت تے  رب نے پانڑیں ایں ناں سرکار !!! "
 ہم باتوں میں مصروف تھے کہ قبرستان میں کچھ لوگ ایک سجی سجائ ریڑھی دھکیلتے داخل ہوئے- چار پہیوں والی اس خوبصورت ریڑھی پر ایک دیدہ زیب چادر تنی ہوئ تھی-
 "معاف کرنا .... جنازہ آ گیا " یہ کہتے ہوئے نور مرزا ہمیں چھوڑ کر اس طرف دوڑا-
ہم بھی پیچھے پیچھے ہو لئے-
" اِنّ لِلّہ ..... جی آیاں نوں .... رسیداں کڈھّو سرکار  !!! " اس نے میت کے ورثاء سے کہا-
 مرنے والے کے ایک عزیز نے جیب سے کوئ پوٹلی نماء چیز نکالی پھر اس میں سے مُڑے تُڑے کاغذات نکال کر نور مرزا کے حوالے کئے-
" شناختی کارڈ پھڑاؤ .... "
میّت کے عزیز نے جیب سے شناختی کارڈ نکال کر دیا -
"مرحوم دا شناختی کارڈ منگیا سرکار .... تواڈے کارڈ نوں میں  اگ لاؤنڑیں " نور مرزا شناختی کارڈ الٹ پلٹ کر بولا-
 "یہ لیجئے ....میرے پاس ہے " میّت کے ایک دوسرے عزیز نے ڈیڈ باڈی کا کارڈ تھمایا-
" مرحوم نے اک سال دا چندہ نئیں  دِتّا .... !!! " نور مرزا کسی پٹواری کی طرح رجسٹر کھنگالتے ہوئے بولا-
" مرحوم عمر بھر  چندہ دیتے رہے ہیں ... ایک سال سے حالات اچھے نہ تھے " رشتہ دار نے بتایا-
"کوئ گل نئیں .... لاش ایتھے ای رکھو ... پہلے  پچیس سو روپیہ لے کے آؤ !!! "
اس زمانے میں ایک عام سرکاری ملازم کی تنخواہ پچاس  روپے سے زیادہ نہ تھی- رشتہ دار پریشان ہو کر بولا :
"ہمارے پاس ایک مکان کے سوا اور کچھ نہیں ہے"
" مکان ویچ چھڈّو .... جنّت وچ مکان مفت تے نئیں ملدا سرکاراں !!! "
رشتہ دار کچھ دیر کھڑا سوچتا رہا پھر لاش ادھر ہی چھوڑ کر  آنسو پوچھتا روپوں کی تلاش میں نکل گیا-
چاند پوری میرا ہاتھ پکڑ کر قبرستان سے باہر نکل آئے اور کہا:
 " یہ ہے وہ اندھیر نگری جسے زندہ مذھب کا نام دے کر وزیرخارجہ پوری قوم پر تھوپنا چاھتے ہیں .... مُردوں کے ساتھ یہ سلوک ہے تو زندوں کے ساتھ کیا ہوگا .... "
قبرستان سے نکل کر ہم ایک گراؤنڈ کے پاس سے گزرے- یہاں کچھ وردی پوش رضاکار پریڈ کر رہے تھے- ان کے ہاتھ میں سرکاری رائفلیں تھیں- یوں لگ رہا تھا جیسے فوج کی کوئ رجمنٹ ٹریننگ کر رہی ہو-
" یہاں ہر شخص کے گھر میں آتشیں اسلحہ ہے  .... حال ہی میں چنیوٹ سے ٹنوں کے حساب سے بارود اور چُونیاں سے بھاری مقدار میں سکّہ خرید کر ربوہ لایا گیا ہے تاکہ گولیاں بنائ جا سکیں" چاند پُوری نے بتایا-
"اخبارات اس معاملے پر شور کیوں نہیں کرتے ؟ "
 " سنتا کون ہے بھائ ؟ ... سب سرظفراللہ کی سنتے ہیں اور ظفراللہ صرف خلیفہ کی سنتا ہے"
ہم ایک محل نماء عمارت کے پاس سے گزرے تو چاند پوری نے کہا :
" یہ رہا قصرِ خلافت .... مرزائیت کا مردہ گھوڑا جسے 19077ء میں علماءو صوفیاء کرام نے اپنے تئیں دفنا دیا تھا اسے دوبارہ زندہ کرنے کا سہرا مرزا بشیر الدین محمود کے سر ہے - انہوں نے ہی اس تحریک کو نئے سرے سے منظم کیا ہے"
"آخر کوئ تو ان کی پشت پناہی بھی کرتا ہوگا ؟؟ "
 " ملحدین ، لبرلز ، سیکولرز ، مغرب پسند ، نیچری سب ان کے ساتھ ہیں ..... قومی لیڈروں میں لیاقت علی خان کچھ ایمان والے تھے .... انہیں اوپر پہنچا دیا گیا ہے .... اب لے دے کے عبدالرب نشتر بچے ہیں جنہیں لوگ "مولوی منسٹر" کہ کر چھیڑتے ہیں ..... باقی سب مذھب بیزار ہیں .... اور ہر مذھب بیزار شخص کو قادیانیت شہد کی طرح میٹھی لگتی ہے ..... !!!! "

No comments:

Post a Comment