ISHQ KY QAIDI EP#50



عشق_کے_قیدی --50-- ظفرجی

گرمیوں کی ایک رات میں تڑپ کر اُٹھ بیٹھا-
"چاند پُوری صاحب .... خُدا کےلئے مجھ پہ رحم کیجئے .... !!! "
 "کیا ہو گیا ؟ مچھّر تو نہیں کاٹ رہا ؟؟ " وہ ہاتھوں پر لگی سیاہی صاف کرتے ہوئے بولے-
" چھوڑیں اس سائیکلواسٹائیل کا پیچھا  .... کوئ فائدہ نہیں ..... کل ہی روزنامہ چٹان پر چھاپہ پڑا ہے .... صرف دو لفظ لکھنے کی پاداش میں .... اور معلوم ہے وہ دو لفظ کیا تھے ؟؟ .... "ارتدادی - سرگرمیاں" .... مرزائیت کا نام تک نہیں لکھا انہوں نے .... لیکن کیا ہوا ؟ .... پانچ ہزار جرمانہ اور دو ماہ کےلئے اخبار بند .... جب قلم پابہء زنجیر ہو تو چھاپہ خانے کس کام کے ؟؟ واپس چلیں اپنے نئے پاکستان میں .... کیا رکھّا ہے اس اندھیر نگری میں ... ؟؟ وحشت ہوتی ہے مجھے یہاں .... دم گھٹتا ہے میرا !! "
 "اچھا باہر چلتے ہیں ... ایک کپ دودھ پتّی کے بارے میں کیا خیال ہے ؟؟ "
" وہ تو ٹھیک ہے .... لیکن .... "
"سموسے بھی کھائیں گے .... !!! "
 " میرا مشورہ مانیں تو یہ فرسودہ چھاپہ خانہ کسی کباڑی کو بیچ کر سموسوں کی ریڑھی لگاتے ہیں ...... مجھے آلو ابالنے آتے ہیں .... " میں نے سیڑھیاں اترتے ہوئے تجویز پیش کی-
" غلط بات مت کیجئے ..."
 " غلط بات ؟؟ .... کاتب آپ کا جیل میں پڑا ہے .... کاریگر تحریک کے بعد سے لا پتہ ہے ..... سائیکلو اسٹائل بے حال ہے .... اب بس بھی کریں ..... کون پڑھتا ہے آپ کا ایک صفحے کا اخبار ؟؟"
" ہیں دو چار مستانے ... !!! "
ہم باہر سڑک پر آ چکے تھے - رات کے 100 بج رہے تھے- ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی - سڑک پر خال خال ہی لوگ آ جا رہے تھے-
" پڑھی آپ نے کمیشن کی رپورٹ .... ؟؟" میں نے جل بھن کر کہا-
"نہیں ...... !!!"
 " اگر وقت ملے تو پڑھ لیجئے ..... فرماتے ہیں ایک سیکولر پاکستان ہی امن و امان کا ضامن ہے .... مذھب انسان کا ذاتی مسئلہ ہے .... مجلس احرار ایک شرانگیز جماعت ہے .... علماء "مسلمان" کی تعریف پر ہی متفق نہیں ...."
"بھول جاؤ کمیشن کو .... کوئ اور بات کرو " چاند پوری نے کہا-
"کیسے بھول جاؤں ....؟؟ کیا ملا اتنا خون بہا کر  .... ؟؟ یہ دارورسن .... یہ آزمائشیں .... یہ تضحیک .... فائدہ کیا ہوا ؟؟ "
 "اس سڑک کو دیکھ رہے ہو ؟؟ ..... " چاند پوری ویران سڑک کے بیچ اچانک کھڑے ہو گئے- " بھنگی روز جھاڑو لگاتا ہے یہاں .... یہ جانتے ہوئے بھی کہ جو کچرا وہ آج اٹھا رہا ہے ... کل پھر اسی طرح پڑا ہوگا .... اس کے باوجود وہ ناغہ نہیں کرتا .... یہی اس کی روزی کا سامان ہے .... ختم نبوّت کی جنگ بھی ایک جہدِ مسلسل ہے .... ابطال کا کچرا صاف کرنے کےلئے آسمان سے ابدال نہیں اتریں گے .... ہمیں ہی عامة الناس کے اذھان و قلوب کی صفائ کرنی ہے .... سچ کو سامنے لانا ہے .... ورنہ ایک دن سڑک ہی گم ہو جائے گی .... "
 " میرے اندر آگ لگی ہے .... مجھے "سمّے ساٹو " کی چابی دیں ابھی !!!"
" سمّے ساٹو کی چابی  ؟؟ کیوں ؟؟ " چاند پوری جیب ٹٹولتے ہوئے بولے-
 " نئے پاکستان سے دو خُودکش منگوانے ہیں .... !!! " میں نے چُٹکی بجاتے ہوئے کہا-
" خود کُش ؟؟ .... وہ کیوں ؟؟ "
"کمیشن کو اڑانا ہے .... نہ رہے گا بانس .... نہ بجے گی بانسری !!! "
واہ .... یہی سیکھا آپ نے ابھی تک ؟؟  تاکہ مرزائیت کا یہ دعوی سچ ثابت ہو جائے کہ مُسلمان خونی ہے .... مولوی تشدّد کا درس دیتا ہے ..... جہاد ایک فساد ہے .... کیا پورا پاکستان مل کر ربوہ جیسی بستی کو ملیا میٹ نہیں کر سکتا تھا ؟؟ آستینِ مسلم پر خونِ ناحق کے چھینٹے ڈالنے سے بہتر ہے اس کمیشن اور مرزائیت کو تاریخ کا بدنماء داغ بننے دیا جائے ...."
ہم موتی بازار روڈ پر گشت کر رہے تھے- موسم  بھی شباب پر تھا اور چاندپوری بھی- ہم نے بازار سے کچھ پان بنوائے اور باتیں کرتے کرتے آبادی سے کافی دور نکل گئے- سڑک کے دونوں اطراف بلندوبالا پیڑ تھے جن پر پرندوں نے شوروغُل مچا رکھا تھا- چاند پوری کو اچانک جانے کیا سوجھی کہ سڑک سے پتھر اٹھا اٹھا کر جھنڈ میں مارنے لگے ، جھاڑیوں سے کچھ اُلّو شور کرتے ہوئے اُڑے اور نامعلوم سمت پرواز کر گئے- فضاء میں مہیب خاموشی چھا گئ-
 "جب بھی کسی سیکولر جھاڑی میں پتھر مارو گے .... دو چار مرزائ ضرور اُڑیں گے .... اس لئے کہ انہوں نے تاریخ سے سبق سیکھا ہے ... اور ہم .... ہم آج بھی قادیانیت کو محض ایک مذھبی مسئلہ سمجھ کر مولوی کے متھّے مارتے ہیں .... یوں ریاست اس سے کنارہ کش ہو جاتی ہے .... پھر جب پبلک بے چین ہو کر ریاست کے خلاف اٹھتی ہے .... تو ریاست اسے فرقہ ورانہ فسادات کا رنگ دینے لگتی ہے .... پھر ہر دانشور جسٹس منیر بن کر ہمارے کپڑے پھاڑنے لگتا ہے .... ایک سیکولر ریاست کے فوائد گنوانے لگتا ہے .... مولوی کو مطعون کر کے اسلام کو ایک مردہ مذھب ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے .... کاش ہم اس فتنے کی تاریخ پڑھیں .... لیکن ہم .... اوّل تو تاریخ پڑھتے نہیں .... اور اگر غلطی سے پڑھ بیٹھیں تو جلد بھول جاتے ہیں .... "
 " کیا ہے تاریخ ... ؟؟ مناطرے ، مباہلے ، جلسے ، ہنگامے ؟؟ " میں نے کہا-
 "نہیں .... یہ صرف علمی محاذ کی تاریخ ہے .... اس فتنے کے سماجی ، معاشی ، عمرانی اور سیاسی نقصانات کا ادراک رکھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے .... ورنہ مذھب اور ریاست اسی طرح ٹکراتے رہیں گے .... یہ کہانی آج کی نہیں .... صدیوں پرانی ہے .... 1857ء ھندوستان میں مسلمانوں کے اقتدار کا سالِ وفات تھا .... یہ حادثہ ایک دم پیش نہیں آیا .... اس کے پیچھے برسوں کی فریب کاریاں تھیں .... اورنگزیب عالمگیر کے بعد ہی مغلیہ سلطنت کو گھن لگنا شروع ہو گیا تھا .... مغل اقتدار کی عمارت زمین بوس ہوتی چلی گئ .... اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے ستون مظبوط .... مسلمان راکھ کر ڈھیر تو بن گئے مگر اس راکھ میں ابھی بہت سی چنگاریاں باقی تھیں .... سرج الدولہ .... حیدر علی .... ٹیپو سلطان .... سید احمد شہید .... تیتو میر شہید .... شاہ اسمعیل شہید .... جنگِ آزادی 1857ء ..... پے در پے جہادی تحریکوں نے انگریز کو بے چین کئے رکھّا .... اسے کامل یقین ہو گیا کہ جہاد کو مسلمان کی فطرت سے الگ نہیں کیا جا سکتا .... اور غازیوں کے ہوتے ہوئے .... ھندوستان میں پرامن حکومت کا خواب دیکھنا ناممکن ہے .... اس جزبے کو ختم کرنے کےلئے اس نے ہر ممکن طریقہ آزامایا ..... ھندوؤں اور مسلمانوں میں منافرت پیدا کی .... ہم خیال مولویوں کی فصل کاشت کی .... ھندوستان کو دارالسلام قرار دینے کےلئے مکہ مدینہ سے فتوے منگوائے .... اہل قلم کی ایک کھیپ تیار کر کے قران کی تفسیروں کا مزاج بدلا .... مجاھدین کےلئے جہادی ، فسادی ، وہابی اور باغی جیسے القابات تراشے .... اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کے خلاف رکیک حملوں کا محاذ کھولا ... مسلمانوں کی وحدت توڑنے کےلئے نئے نئے فرقے ایجاد کئے .... ان نوزائیدہ فرقوں نے کفر کے نئے دفاتر کھولے .... نور و بشر ، حاضر ناظر ، علم غیب ، سماع الموتی .... مسجدیں مناظروں کا گڑھ بن گئیں .... اور تصوف کی پرچارک خانقاہیں فوجی بھرتی کے مراکز .... اس سب کے باوجود .... کہیں نہ کہیں .... کسی نہ کسی شکل میں .... جہاد کا الاؤ روشن رہا .... جنگِ امبیلا .... پٹنہ سازش کیس .... راج محل سازش کیس .... مالوہ سازش کیس .... !!! "
"لیکن ..... اس کا قادیانیّت سے کیا تعلق ہے ؟؟ " میں نے سٹپٹا کر کہا-
" تعلق ہے .... بہت گہرا تعلق ہے ..... 18699ء میں فرنگی شاطروں کا ایک فیصلہ کن وفد ھندوستان آیا .... جس میں برٹش پارلیمنٹ کے ممبران ، ممتاز اخبارات کے مدیران اور چرچ آف انگلینڈ کے نمائندگان شامل تھے .... وفد کا مقصد مسلمانوں سے جہادی مزاحمت چھڑانے کے نئے طریقوں پر غور کرنا تھا .... اس وفد نے واپس جا کر اپنی رپورٹ میں بہت سی تجاویز پیش کیں .... ان میں یہ بھی لکھّا کہ ھندوستانی مسلمان اپنے روحانی پیشواؤں کے پیچھے بکری کی طرح چلتے ہیں .... اگر اس وقت ہمیں کوئ ایسا آدمی مل جائے جو " Apostolic Prophet" ہونے کا دعوی کرے .... اور شریعتِ محمّدی میں وقتا فوقتا ہماری مرضی کی ترامیم کر سکے .... تو برطانیہ کے سیاسی مفادات کا تحفّظ ممکن ہے .... !!! "
" اپاسٹالک پروفٹ ؟؟ " میں نے حیرت سے کہا-
 " جی ہاں ..... حواری نبیّ ..... جو ایک کاذب نبی سے بھی خطرناک ہوتا ہے .... کیونکہ وہ اصل شریعت پر نقلی پیوند لگاتا ہے .... یہ ایک ناقابلِ عمل منصوبہ تھا ...... ھندوستان کے کسی مولوی ، کسی سجادہ نشین ، کسی پیر فقیر قلندر ملنگ درویش سے بھی "دعوئ نبوّت" کی توقع ہرگز نہ تھی ...... لیکن اس کے باوجود برطانوی انٹیلیجنس ایک "سوٹ ایبل" آدمی کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئ ..... جسے " حواری نبوت" کا طوق پہنا کر ایک "لائل امّت" کشید کی جا سکے ....... !!!!

No comments:

Post a Comment