عشق_کے_قیدی --7--- ظفرجی
" مبارک ہو ------- مبارک ہو ------ مبارک ہو ------ امام مہدی کے لشکر میں قبُولے گئے ہو -----!!!
مسیحِ موعود کی اُمّت میں اٹھائے گئے ہو ------ !!!
یہ وہی مقام ہے ------ وہی مقام ہے ----- کہ کتنی امتیں جس کی طلب میں جہاں سے کُوچ کر گئیں ------ !!!
یہ وہی جائے قرار ہے جس کا ذکر قران میں آیا ہے ------ ربوةٍ ذاتِ قرارٍ و معین !!!! "
نعرہء تکبیر ------ اللہ اکبر !!!!"
ہم ایک بہت بڑے پنڈال میں پہنچے جہاں ہزاروں افراد کے مجمع سے خلیفہ کا خطاب جاری تھا-
اس دوران فضاء میں جنگی جہازوں کی گڑگڑاہٹ سنائ دی- پاکستان ایئرفورس کے دو " سُپر میرین اٹیکر" طیارے فضاء میں نمودار ہوئے اور اسٹیج کے عین اوپر آکر سیدھے فضاء میں بلند ہو گئے-
"حضرت یہ کیا....؟؟" میں نے وفورِ حیرت سے پوچھا-
"سلامی !!! .... آج اس بدقسمت ملک کا یومِ آزادی ہے !!! " انہوں نے اطمینان سے جواب دیا-
ہوائ جہازوں کی گڑگڑاہٹ تھمی تو خطاب پھر شروع ہو گیا-
" اسلام کا سایہ کِھنچنے لگا ------- !
خُدا کی حکومت پھر آسمان پر چلی گئ ------- !!
دُنیا پِھر شیطان کے قبضے میں دے دی گئ ------- !!!
اب خُدا کی غیرت پِھر جوش میں آئ ہے ------- اور تم کو ------- ! ہاں تم کو ------- !! ہاں تُم کو ------- !!!
خدا تعالی نے پِھر اس نوبت خانے کی خدمت سپرد کی ہے ------- !!!"
" اے آسمانی بادشاھت کے موسیقارو ------ !!
اے آسمانی بادشاھت کے موسیقارو -------- !!!
اے آسمانی بادشاھت کے موسیقارو ---------!!!!
ایک دفعہ پھر اس نوبت کو اس زور سے بجاؤ کہ دنیا کے کان پھٹ جائیں --------!!!!!! "
کان پھاڑ نعروں کا شور بلند ہوا - خلیفہ نے پسینہ پُونچھا اور پانی پِینے لگے-
خلیفہ جانے کون سی نوبت بجوانا چاھتے تھے ، میرا تو مغز پھٹا جا رہا تھا- جلسہ گاہ میں آگے بیٹھے ایک صاحب بار بار پہلو بدل رہے تھے .... پتا نہیں گوبھی کھائے بیٹھے تھے یا مُولی کا کھیت اجاڑ کے آئے تھے .... سانس لینا دشوار کر دیا تھا-
میرے برابر بیٹھے چاند پوری تقریر کے برابر نوٹس لئے جا رہے تھے-
"حضرت یہاں قریب میں کوئ درخت ہے ؟" میں نے کہا-
" ہوں .... کیوں ؟؟" وہ بڑبڑائے-
" درخت پر بیٹھ کر خلیفہ کی تقریر سنتے ہیں .."
وہ شارٹ ھینڈ لیتے ہوئے بولے " بُہت اہم تقریر ہے .... " افلاک " میں چھُپے گی تو حکومت کی آنکھ کھُل جائے گی"
" حکومت کی آنکھ نہیں .... شاید ناک بند ہے" میں نے کہا-
اس دوران پانی کا وقفہ ختم ہوا .... اور خطاب دوبارہ شروع ہو گیا:
" ایک دفعہ پھر اپنا خون اپنے نعروں میں بھر دو ------- !!!
ایک دفعہ پھر اپنا خون اپنے نعروں میں بھر دو ------- !!!
کہ عرش کے پائے بھی لرز اٹھیں -------!! اور فرشتے بھی جاگ اٹھیں ------- !!!
اسی لیے میں نے تحریکِ جدید شروع کی ہے ------- اللہ کے سپاہیوں میں داخل ہو جاؤ ------- !!!
نبی کا تخت آج مسیح نے چھینا ہوا ہے ------- تُم نے مسیح سے چھین کر وہ تخت نبی کو دینا ہے ------- اور نبی نے وہ تخت خُدا کو پیش کرنا ہے ------- اور خُدا کی بادشاہت دنیا میں قائم ہونی ہے -------!!!!!"
"اس کا کیا مطلب ہے...؟؟ کون سا تخت ؟؟ "
" تختِ پاکستان " چاند پوری کاغذ پر شارٹ ھینڈ لیتے ہوئے بولے-
" 1952ء گزرنے نہ دیجئے -------!!
1952ء گزرنے نہ دیجئے ----------!!!
1952ء گزرنے نہ دیجئے ----------!!!!!
اپنا رعب دشمن پر طاری کر دیجئے ------!!!! تاکہ دشمن محسوس کرلے ------- ہاں محسوس کرلے ----- ہاں محسوس کرلے کہ خدا کا دین مٹایا نہیں جا سکتا ------ اور وہ مجبور ہو کر احمدیّت کی آغوش میں آن گرے ------- !!!!
"
"خلیفہ کو آخر کس چیز کا غصہ ہے ؟" میں نے پوچھا-
" مجلسِ عمل کی تشکیل کا .... ان لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ نصف صدی سے آپس میں سینگ اڑائے علمائے کرام ختمِ نبوّت پر اتنا جلدی باہم شیرو شکر ہو جائیں گے .... مجلس عمل کی تشکیل ہی علمائے حق کا وہ کارنامہ ہے جس سے مرزائ "نوبت" میں سوراخ ہو چکا ہے "
" لیکن یہ ہنگامہ تو صرف ربوہ کے اندر ہی دکھائ دیتا ہے"
" پاکستان بھر میں اس کی فل نمائش جاری تھی بھائ ..... ان کا تبلیغی مشن ایک ایک وزیر کا پیچھا کر رہا تھا .... سرظفراللہ خان وزراء کی نبض پر ہاتھ رکھ چکے تھے .... ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہے تھے ..... انہیں ایک ایک کر کے ربوہ کا دورہ کروا رہے تھے .... ظاہر ہے جو مذھب بادشاہ کا ہوگا وہی رعایا کا بھی ہو گا .... مجلس عمل کے قیام کے بعد یہ سلسلہ رُک چکا ہے .... بس یہی خلیفہ کی پریشانی ہے ..... "
خلیفہ نے پھر اسٹارٹ لیا:
آخری وقت آن پہنچا ----- !!!
آخری وقت آن پہنچا --------!!!!
آخری وقت آن پہنچا --------!!!!!!
ان احمدی علماؤں کے خون کا بدلہ لینے کا ----- جن کو شروع سے آج تک ------ یہ خونی مُلا قتل کرتے آئے ہیں ----- ہم بدلہ لیں گے عطاءاللہ شاہ بخاری سے ------ !!
ملا بدایونی سے ----- !!!
ملا احتشام الحق سے ----- !!!!
ملا محمد شفیع سے ----- !!!!!!
اور پانچویں سوار ملا مودودی سے ------- !!!!!!!"
ہم فتح یاب ہونگے ----- !!
ہم فتح یاب ہونگے ------ !!!
ہم فتح یاب ہونگے ------ !!!!
" اور ضرور ---- اور ضرور تُم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش کئے جاؤ گے ----- اور اس دن ---- اس دن ----- تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابوجہل اور اس کی پارٹی کا ہوا تھا ------- !!!! "
پانی کا وقفہ ہوا تو کچھ سکون نصیب ہوا-
" اور سٌن لو ------- کان کھول کے سُن لو ------ سُن لو عالمِ رویا سے ایک نئ خبر آئ ہے-------- !!!!! " خلیفہ نے پھر اسٹارٹ لیا-
" خلیفہ کا وطیرہ ہے کہ اہم سیاسی بیان ہمیشہ خواب میں لپیٹ کر دیتا ہے ..... " چاند پوری بولے-
" وہ کیوں ؟؟ "
" تاکہ کسی عدالت میں چیلنج نہ ہو سکے .... خواب ہمیشہ قانون کی گرفت سے آزاد ہوتے ہیں- جھوٹے ہوں یا سچّے "
"سُنو --- سُنو ---- سُنو ----!!!!"
" میں نے ایک خواب دیکھا ----- میں نے دیکھا کہ ایک کھاٹ پہ لیٹا ہوں ----- گاندھی جی آتے ہیں ---- اور میرے ساتھ کھاٹ پہ لیٹ جاتے ہیں ------ اور جب اٹھ کر جانے لگتے ہیں ------ تو قدرے فربہ دکھائ دیتے ہیں ----- !!!! "
"گاندھی کو بھی نہیں چھوڑا ؟؟ " میں نے ہونقوں کی طرح چاند پوری کی طرف دیکھا-
" ابھی تعبیر سُننا .... مزید ٹھنڈے ہو جاؤ گے " وہ نوٹس لکھتے ہوئے بولے-
" اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اگر خُدا کے سپاہیوں کا رستہ روکا گیا ------- اگر ہماری راہ میں روڑے اٹکائے گئے ---- یہ مُلک نہیں رہے گا ------- ٹوٹ جائے گا پاکستان ------- پھر سے ایک ہو جائے گا ھندوستان ------ !!!! "
مخلوق پھر نعرہ زن ہو گئ-
" اب خود ہی فیصلہ کر لو " چاند پوری نوٹس سمیٹتے ہوئے بولے- " اگر یہی بات کوئ مولوی کہتا تو راتوں رات مشقیں کس کے حوالات میں نہ پھینک دیا جاتا ؟؟ لیکن خلیفہ کو کون پوچھے ؟؟ اندھیر نگری ہے بھائ اندھیر نگری !!! "
مسیحِ موعود کی اُمّت میں اٹھائے گئے ہو ------ !!!
یہ وہی مقام ہے ------ وہی مقام ہے ----- کہ کتنی امتیں جس کی طلب میں جہاں سے کُوچ کر گئیں ------ !!!
یہ وہی جائے قرار ہے جس کا ذکر قران میں آیا ہے ------ ربوةٍ ذاتِ قرارٍ و معین !!!! "
نعرہء تکبیر ------ اللہ اکبر !!!!"
ہم ایک بہت بڑے پنڈال میں پہنچے جہاں ہزاروں افراد کے مجمع سے خلیفہ کا خطاب جاری تھا-
اس دوران فضاء میں جنگی جہازوں کی گڑگڑاہٹ سنائ دی- پاکستان ایئرفورس کے دو " سُپر میرین اٹیکر" طیارے فضاء میں نمودار ہوئے اور اسٹیج کے عین اوپر آکر سیدھے فضاء میں بلند ہو گئے-
"حضرت یہ کیا....؟؟" میں نے وفورِ حیرت سے پوچھا-
"سلامی !!! .... آج اس بدقسمت ملک کا یومِ آزادی ہے !!! " انہوں نے اطمینان سے جواب دیا-
ہوائ جہازوں کی گڑگڑاہٹ تھمی تو خطاب پھر شروع ہو گیا-
" اسلام کا سایہ کِھنچنے لگا ------- !
خُدا کی حکومت پھر آسمان پر چلی گئ ------- !!
دُنیا پِھر شیطان کے قبضے میں دے دی گئ ------- !!!
اب خُدا کی غیرت پِھر جوش میں آئ ہے ------- اور تم کو ------- ! ہاں تم کو ------- !! ہاں تُم کو ------- !!!
خدا تعالی نے پِھر اس نوبت خانے کی خدمت سپرد کی ہے ------- !!!"
" اے آسمانی بادشاھت کے موسیقارو ------ !!
اے آسمانی بادشاھت کے موسیقارو -------- !!!
اے آسمانی بادشاھت کے موسیقارو ---------!!!!
ایک دفعہ پھر اس نوبت کو اس زور سے بجاؤ کہ دنیا کے کان پھٹ جائیں --------!!!!!! "
کان پھاڑ نعروں کا شور بلند ہوا - خلیفہ نے پسینہ پُونچھا اور پانی پِینے لگے-
خلیفہ جانے کون سی نوبت بجوانا چاھتے تھے ، میرا تو مغز پھٹا جا رہا تھا- جلسہ گاہ میں آگے بیٹھے ایک صاحب بار بار پہلو بدل رہے تھے .... پتا نہیں گوبھی کھائے بیٹھے تھے یا مُولی کا کھیت اجاڑ کے آئے تھے .... سانس لینا دشوار کر دیا تھا-
میرے برابر بیٹھے چاند پوری تقریر کے برابر نوٹس لئے جا رہے تھے-
"حضرت یہاں قریب میں کوئ درخت ہے ؟" میں نے کہا-
" ہوں .... کیوں ؟؟" وہ بڑبڑائے-
" درخت پر بیٹھ کر خلیفہ کی تقریر سنتے ہیں .."
وہ شارٹ ھینڈ لیتے ہوئے بولے " بُہت اہم تقریر ہے .... " افلاک " میں چھُپے گی تو حکومت کی آنکھ کھُل جائے گی"
" حکومت کی آنکھ نہیں .... شاید ناک بند ہے" میں نے کہا-
اس دوران پانی کا وقفہ ختم ہوا .... اور خطاب دوبارہ شروع ہو گیا:
" ایک دفعہ پھر اپنا خون اپنے نعروں میں بھر دو ------- !!!
ایک دفعہ پھر اپنا خون اپنے نعروں میں بھر دو ------- !!!
کہ عرش کے پائے بھی لرز اٹھیں -------!! اور فرشتے بھی جاگ اٹھیں ------- !!!
اسی لیے میں نے تحریکِ جدید شروع کی ہے ------- اللہ کے سپاہیوں میں داخل ہو جاؤ ------- !!!
نبی کا تخت آج مسیح نے چھینا ہوا ہے ------- تُم نے مسیح سے چھین کر وہ تخت نبی کو دینا ہے ------- اور نبی نے وہ تخت خُدا کو پیش کرنا ہے ------- اور خُدا کی بادشاہت دنیا میں قائم ہونی ہے -------!!!!!"
"اس کا کیا مطلب ہے...؟؟ کون سا تخت ؟؟ "
" تختِ پاکستان " چاند پوری کاغذ پر شارٹ ھینڈ لیتے ہوئے بولے-
" 1952ء گزرنے نہ دیجئے -------!!
1952ء گزرنے نہ دیجئے ----------!!!
1952ء گزرنے نہ دیجئے ----------!!!!!
اپنا رعب دشمن پر طاری کر دیجئے ------!!!! تاکہ دشمن محسوس کرلے ------- ہاں محسوس کرلے ----- ہاں محسوس کرلے کہ خدا کا دین مٹایا نہیں جا سکتا ------ اور وہ مجبور ہو کر احمدیّت کی آغوش میں آن گرے ------- !!!!
"
"خلیفہ کو آخر کس چیز کا غصہ ہے ؟" میں نے پوچھا-
" مجلسِ عمل کی تشکیل کا .... ان لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ نصف صدی سے آپس میں سینگ اڑائے علمائے کرام ختمِ نبوّت پر اتنا جلدی باہم شیرو شکر ہو جائیں گے .... مجلس عمل کی تشکیل ہی علمائے حق کا وہ کارنامہ ہے جس سے مرزائ "نوبت" میں سوراخ ہو چکا ہے "
" لیکن یہ ہنگامہ تو صرف ربوہ کے اندر ہی دکھائ دیتا ہے"
" پاکستان بھر میں اس کی فل نمائش جاری تھی بھائ ..... ان کا تبلیغی مشن ایک ایک وزیر کا پیچھا کر رہا تھا .... سرظفراللہ خان وزراء کی نبض پر ہاتھ رکھ چکے تھے .... ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہے تھے ..... انہیں ایک ایک کر کے ربوہ کا دورہ کروا رہے تھے .... ظاہر ہے جو مذھب بادشاہ کا ہوگا وہی رعایا کا بھی ہو گا .... مجلس عمل کے قیام کے بعد یہ سلسلہ رُک چکا ہے .... بس یہی خلیفہ کی پریشانی ہے ..... "
خلیفہ نے پھر اسٹارٹ لیا:
آخری وقت آن پہنچا ----- !!!
آخری وقت آن پہنچا --------!!!!
آخری وقت آن پہنچا --------!!!!!!
ان احمدی علماؤں کے خون کا بدلہ لینے کا ----- جن کو شروع سے آج تک ------ یہ خونی مُلا قتل کرتے آئے ہیں ----- ہم بدلہ لیں گے عطاءاللہ شاہ بخاری سے ------ !!
ملا بدایونی سے ----- !!!
ملا احتشام الحق سے ----- !!!!
ملا محمد شفیع سے ----- !!!!!!
اور پانچویں سوار ملا مودودی سے ------- !!!!!!!"
ہم فتح یاب ہونگے ----- !!
ہم فتح یاب ہونگے ------ !!!
ہم فتح یاب ہونگے ------ !!!!
" اور ضرور ---- اور ضرور تُم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش کئے جاؤ گے ----- اور اس دن ---- اس دن ----- تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابوجہل اور اس کی پارٹی کا ہوا تھا ------- !!!! "
پانی کا وقفہ ہوا تو کچھ سکون نصیب ہوا-
" اور سٌن لو ------- کان کھول کے سُن لو ------ سُن لو عالمِ رویا سے ایک نئ خبر آئ ہے-------- !!!!! " خلیفہ نے پھر اسٹارٹ لیا-
" خلیفہ کا وطیرہ ہے کہ اہم سیاسی بیان ہمیشہ خواب میں لپیٹ کر دیتا ہے ..... " چاند پوری بولے-
" وہ کیوں ؟؟ "
" تاکہ کسی عدالت میں چیلنج نہ ہو سکے .... خواب ہمیشہ قانون کی گرفت سے آزاد ہوتے ہیں- جھوٹے ہوں یا سچّے "
"سُنو --- سُنو ---- سُنو ----!!!!"
" میں نے ایک خواب دیکھا ----- میں نے دیکھا کہ ایک کھاٹ پہ لیٹا ہوں ----- گاندھی جی آتے ہیں ---- اور میرے ساتھ کھاٹ پہ لیٹ جاتے ہیں ------ اور جب اٹھ کر جانے لگتے ہیں ------ تو قدرے فربہ دکھائ دیتے ہیں ----- !!!! "
"گاندھی کو بھی نہیں چھوڑا ؟؟ " میں نے ہونقوں کی طرح چاند پوری کی طرف دیکھا-
" ابھی تعبیر سُننا .... مزید ٹھنڈے ہو جاؤ گے " وہ نوٹس لکھتے ہوئے بولے-
" اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اگر خُدا کے سپاہیوں کا رستہ روکا گیا ------- اگر ہماری راہ میں روڑے اٹکائے گئے ---- یہ مُلک نہیں رہے گا ------- ٹوٹ جائے گا پاکستان ------- پھر سے ایک ہو جائے گا ھندوستان ------ !!!! "
مخلوق پھر نعرہ زن ہو گئ-
" اب خود ہی فیصلہ کر لو " چاند پوری نوٹس سمیٹتے ہوئے بولے- " اگر یہی بات کوئ مولوی کہتا تو راتوں رات مشقیں کس کے حوالات میں نہ پھینک دیا جاتا ؟؟ لیکن خلیفہ کو کون پوچھے ؟؟ اندھیر نگری ہے بھائ اندھیر نگری !!! "


No comments:
Post a Comment