ISHQ KY QAIDI EP#8


عشق_کے_قیدی --8--- ظفرجی
16 اگست .... 1952ء.... گورنمنٹ ہاؤس کراچی !!!
 ہم اس تاریخ ساز بلڈنگ کے سامنے کھڑے تھے جو سوسالہ برٹش راج کی یادگار ہے- یہ وہی بلڈنگ ہے جہاں کبھی حضرت قائدِاعظم ، گورنر جنرل کی حیثیّت سے بیٹھا کرتے تھے-
 میں بڑے کالر والی شرٹ اور کھلے پائنچوں والی تنگ پتلون میں "مارک ٹیلی " لگ رہا تھا اور چاند پوری تنگ پاجامہ ، شیروانی اور قراقلی ٹوپی پہنے آغا حشر کاشمیری- ہمارے علاوہ یہاں اور بھی اخبار نویس آئے ہوئے تھے- آنکھوں پر موٹے فریم کے چشمے ٹکائے ، ہاتھوں میں پنسل اور ڈائریاں تھامے اور گلے میں ڈبّہ کیمرہ لٹکائے مختلف جرائد کے صحافی-
کچھ ہی دیر بعد ایک ٹرام سڑک پر  آکر رکی اور اس سے مجلسِ عمل کے مولانا ابوالحسنات ، ماسٹر تاج الدین انصاری ، مولانا مرتضی احمد خان میکش ، شیخ حسام الدین اور مولانا عبدالحامد بدایونی نیچے اترے-
 یہ وفد گورنمنٹ ہاؤس کے صدر دروازے کی جانب چلا تو اخبار نویس بھی پیچھے پیچھے لپکے-
 ایک سنتری نے مولانا ابوالحسنات کے ہاتھ میں پکڑی ہوئ پرچی دیکھی اور ایک دستار پوش اردلی کو ہمارے ہمراہ کرتے ہوئے ہاؤس کا آہنی گیٹ کھول دیا-
 اردلی ہمیں مختلف برامدوں اور راھداریوں سے گزارتا ایک پرانی طرز کے آفس میں لے آیا جہاں لکڑی کی کرسی پر ایک شریف قسم کا آدمی بیٹھا ہوا تھا- اس نے اٹھ کر نہایت گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا- اور سامنے پڑی کرسیوں کی طرف اشارہ کر دیا-
 عاشقانِ پاک طینت کرسیوں پر تشریف فرما ہوئے اور اخباری نمائندگان پیچھے پڑے لکڑی کے اسٹولوں پر بیٹھ گئے-
پرسش احوال ہوئ تو میں نے چاند پوری کے کان میں سرگوشی کی:
" وزیرِ اعظم صاحب کب تشریف لائیں گے ؟؟ "
 انہوں نے مجھے حیرت و استنجاب سے گھورا پھر مسکراتے ہوئے کہا :
" سامنے ہی تو بیٹھے ہیں .... خواجہ ناظم الدین صاحب "
 اب حیران ہونے کی باری میری تھی- میں نے پہلی بار آنکھیں کھول کر قائدِ اعظم کے دستِ راست ، تحریک پاکستان کے اہم کارکن ، پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل جناب خواجہ ناظم الدین صاحب کو دیکھا جو لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد وزارتِ عظمی کی کرسی پر جلوہء افروز ہوئے تھے ، پھر اس سادہ و پروقار آفس کے درودیوار پر نظر ڈالی- فرنیچر پرانی طرز کا تھا لیکن دیدہ زیب- پسِ منظر میں قائدِ اعظم کا خوبصورت پورٹریٹ اور ایک کونے میں اس نو آزاد ریاست کا رنگین نقشہ آویزاں تھا ، جو ایک روز پہلے اپنی پانچویں سالگرہ منا چکی تھی-
" ملونا ساب .... پائلے یہ بتائیے .... سائے منگواؤں یا سربت "  وزیرِ اعظم نے خاص بنگالی لہجے میں کہا-
 "ٹھہریے .... وزیرِ اعظم صاحب ..... ہم یہاں چائے شربت پینے نہیں آئے" ابوالحسنات بول پڑے-
" ٹھیک ہے ٹھیک ہے ..... کیا بولتا ہے .... ؟؟ "
 " ملک خطرے میں ہے ، اسے بچانے میں ہماری مدد کیجئے" ابوالحسنات نے ارشاد کیا-
" مُولک کھترے میں؟ وہ کائسے ؟ .... سب ٹھِیک ٹھاک ہے  ناں ؟؟ " وزیراعظم ایک دم پریشان ہو گئے-
" سب ٹھیک ٹھاک ہوتا تو ہم آپ کے پاس آتے ہی کیوں ......  یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا ..... لا الہ الا اللہ کے نعرے پر حاصل کیا گیا تھا ..... اس کی بنیادیں لاکھوں شہداء کے خون سے تر ہوئ تھیں .... ہزاروں عصمتیں قربان ہوئ تھیں .... یہ سب کچھ اس لئے نہیں کیا گیا تھا کہ ایک آزاد ریاست حاصل کر کے اس پر مرزائیت مسلّط کر دی جائے"
"لیکن ...موُلک میں امن و امان تو ایک دم بَڑھیا  ہے ناں ؟؟ " وزیرِ اعظم نے ٹیبل پر رکھی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا-
 " امن و امان ضرور اچھا ہے لیکن یہ خاموشی ایک بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے "
" کیا ہوا ؟ کائسا طوفان ؟؟ "
 " آپ نے اختر علی خان سے ایک وعدہ کیا تھا .... سر ظفراللہ کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا "
" ہاں یاد ہے .... بروبر یاد  ہے .... ہم نے بات جرور کیا تھا .... لیکُن اختر علی خان نے یہ خبر پیپر میں ساپ کے .... معاملہ جو ہے ناں .... ایک دم چَوپٹ کر دیا ہے .... حالات اب پائلے زیسے نئیں رہے"
" یعنی آپ سر ظفراللہ خان کو  وزیرِ خارجہ کے عہدے سے برطرف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے "
" جفراللہ کو میں نے نئیں ، بانیء پاکستان نے وجیرِ خارجہ بنایا  تھا" وزیرِ اعظم نے کہا-
 "اور قائدِ کا پاکستان آج ظفراللہ خان کے ہاتھوں ہی خطرے کا شکار ہے- قائد اعظم حیات ہوتے ، تو وہ بھی یہی فیصلہ فرماتے...."
" وہ تو سُب بروبر  اے ... لیکن مؤسئلہ کیا ہے سرجفراللہ سے ؟؟ " وزیرِ اعظم نے معصومیت سے دریافت کیا-
 "کوئ ایک مسئلہ ؟؟....جنابِ وزیرِاعظم !! ظفراللہ خان بحیثیّت وزیرِ خارجہ قادیانیوں کے مذھبی اجتماعات میں شریک ہوتا ہے، ایک ایک مشورے کےلیے مرزا بشیرالدین محمود کے پاس ربوہ بھاگا چلا جاتا ہے، غیر ملکی سفارت خانوں میں دھڑا دھڑ مرزائی تعیّنات ہو رہے ہیں ، سرکاری دفاتر میں ہر اونچی پوسٹ پر مرزئ بیٹھا ہوا ہے ، دفتروں میں کھلم کھلا قادیانیّت کی تبلیغ ہو رہی ہے .... یہ ہے اسلامی جمہوریہء پاکستان ؟؟..... جس کےلیے راوی و چناب کا پانی سُرخ کیا گیا تھا ؟؟ "
 وزیرِ اعظم نے ایک ٹھنڈی سانس لیکر کرسی کی پشت سے ٹیک لگائ اور کہا:
" ریاؤست کی مزبوری ہے .... مرزائ حجرات پڑا لکھا اے .... تالیم یافتہ ہے .... کیا بولے گا ؟ .... انہیں ایک دم ... دفتروں سے کائسے کھلاس کرے .... ؟؟ "
 "سب سے زیادہ پڑھا لکھا تو انگریز تھا جناب ..... اسے سر پر بٹھائے رکھتے .... ایک اسلامی ریاست کے نام پر ہماری نسلیں کٹوانے کی کیا ضرورت تھی ....؟؟"
" وہ تو سب بروبر ہے .... پر اب آپ لوگ ساھتا کیا ہے  ؟ " وزیرِ اعظم زِچ ہو کر بولے-
 " ہم صرف یہ چاہتے ہیں ہماری نسلیں کسی ٹیچی ٹیچی کی بجائے .... جبرئیلِ امین کا لایا ہوا قران پڑھیں .... مرزا قادیانی کی بجائے محمد رسول اللہ ﷺ کا کلمہ پڑھیں .... ایک ملک میں دو نظام کیسے چل سکتے ہیں .... ایک طرف شریعت اطہر اور دوسری طرف نرا کذب ؟؟ "
وزیرِ اعظم خاموش ہو گئے-
"یہ رہے ہمارے مطالبات"  ابولحسنات نے ایک کاغذ کا ٹکڑا وزیرِ اعظم کے سامنے رکھتے ہوئے کہا-
 " قادیانیوں کو فی الفور غیر مسلم قرار دیا جائے ، ظفراللہ خان سے وزرات خارجہ کا قلمدان واپس لیا جائے اور ربوہ کا نوگو ایریا ختم کرکے وہاں بے گھر مہاجرین کی آبادکاری کی جائے-"
" دیکھیں .... جہاں تک قادیونیوں کو غیرمسلم بنانے کا مؤسلہ  ہے ..... تو ہم اس فیصلے کا اختیار نہیں رکھتا یہ فیصلہ کوبینہ ہی کر سکتی اے ... کیا بولے گا ؟ "
" اور ربوہ کی زمین....؟" ابوالحسنات نے دریافت کیا-
"وہ صوبوئ گورنمنٹ کا مؤسلہ ہے"
" ظفراللہ کو برخواست کرنے کا اختیار تو ہے ناں آپ کے پاس؟"
" ایک دم بروبر .... لیکن کیا ہے کہ .... فی الحال ہم یہ اختیار استعمال نئیں کر سکتا " وزیرِ اعظم نے بے بسی سے جواب دیا-
"آخر کیوں....؟؟ " ابوالحسنات اور ماسٹر صاحب یک زبان ہو کر بولے-
" امریکی امدود بند ہو جائے گا .... کال پڑ جائے گا مُلک  میں .... پبلک روٹی کو ترس جائے گا .... کیا بولے گا ؟"
 "لاحول ولا قوہ الا بااللہ .... ہم تو سمجھے تھے کہ پاکستان کا رازق اللہ ہے....آج معلوم ہوا کہ امریکہ ہے" ابوالحسنات نے کہا-
 وزیرِ اعظم نے ایک سرد آہ بھری پھر ایک فائل کھول کر اس کی ورق گردانی کرتے ہوئے کہا:
 " آپ سائے پئے گا یا سربت .....؟؟؟ "

No comments:

Post a Comment