نیو مسلک ------- ظفرجی
مسجد سے نکلتے ہی ایک خوش پوش آدمی نے گھیر لیا- اس کی ریشِ دراز دھُنی سے کوئ دو انچ اوپر تک تھی-
اس کے چہرے پر شناسائ کے آثار تلاش کرتے ہوئے میں نے مصافحہ کیا- اس خوش پوش نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگا لیا اور بولا:
"آپ کو نماز پڑھتے دیکھ کر بہت خوشی ہوئ .. "
میں حیران کہ آخر میری نماز میں ایسی کون سی خصوصیّت تھی جو حضرت کو پسند آ گئ-
کچھ دیر تو "اور سنائیں اور سنائیں" کی تکرار چلی پھر کہنے لگا میں یہاں قریب ہی رہتا ہوں- اور بھی کچھ ساتھی یہاں رہتے ہیں- ہماری کوشش ہے کہ اپنی مسجد بنائیں مگر فی الحال ساتھی کم ہیں"
میں نے کہا " مسجد تو یہ بھی ٹھیک ہے اور اس میں نمازیوں کی کافی گنجائش بھی ہے"
کہنے لگا ہاں مسجد تو ٹھیک ہے مگر یہ لوگ درست نماز نہیں پڑھتے- مجبوری ہے ورنہ ہمارے علماء کا تو فتوی ہے کہ غیر مسلک کے پیچھے پڑھی جانے والی نماز لوٹانی پڑتی ہے-
میں نے کہا لیکن میرا خیال ہے کہ میرے علاوہ جتنے بھی لوگ اس مسجد میں آتے ہیں ان کی نماز مجھ سے بہتر ہے-
اس نے حیرت سے مجھے گھورا پھر کہا یہ کیا بات ہوئ ؟ آپ سلفی نہیں ہیں ؟
میں نے کہا نہیں میرا تعلق فرقہء سلفیہ چشتیہ صوفیاء سے ہے-
آنکھیں پھاڑ کے بولا یہ کون سا گِھچ مِچ مسلک ہے ؟؟
میں نے کہا یہ نیا سلسلہ ہے اور میں اس کا بانی ہوں- ہم تمام مسالک کی اچھی روایات جمع کر کے ایک نیا مسلک بنا رہے ہیں- کیا آپ شامل ہونا پسند کریں گے ؟؟
اس نے مجھے یوں گھورا جیسے کہ رہا ہو " پی -کے ہے کیا ؟" اور خاموشی سے رخصت ہو گیا-

No comments:
Post a Comment